نواب ظاہر کاسی کا اغوا

نواب ظاہر کاسی کا اغوا

بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں یہ روایت کبھی بھی نہیں تھی، نہ بلوچوں میں اس قسم کی وارداتیں تھیں اور نہ پشتونوں میں! لیکن جب جنرل (ر) پرویز مشرف نے حکومت پرقبضہ کیا تو یہ سلسلہ بھی چل نکلا۔ اب یہ کاروبار بن گیا ہے اور منافع بخش بھی۔ معزز ڈاکٹر اغواءہو رہے ہیں، قتل ہو رہے ہیں، تاجر اغواءہو رہے ہیں اور قتل بھی ہو رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ اس گھناﺅنے جرم کو روکنے میں ناکام رہی ہے سابقہ دور حکومت میں بعض وزراءپرالزام تھا کہ وہ اس کاروبار میں شریک ہیں۔ چھوٹے تاجربھی اغواءہوئے، مگر 23 اکتوبر کو دن دہاڑے کاسی قبیلے کے نواب کو سرعام اغواءکر لیا گیا، یہ خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ حیران تھے کہ یہ کیا ہو گیا ہے، پورا شہر مضطرب تھا۔ ارباب ظاہر ایک قبیلے کے نواب ہیں، ان کا تعلق اے این پی سے ہے۔ پاکستان میں اس پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کی سیاسی خدمات سے کون انکار کر سکتا ہے۔ کاسی قبیلہ صوبے کا اعلیٰ تعلیم یافتہ کہلاتا ہے۔ اس قبیلے کی ممتاز حیثیت ہے یہ تعلیم یافتہ، بااخلاق اور نہایت مہذب لوگ ہیں، ان کے اکابرین نے پاکستان کی جدوجہدمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اس لئے اُن کی ان خدمات کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اب بھی ہر شعبہ زندگی میں اس قبیلے کی شخصیات ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔

ارباب عمر، ارباب عبدالقادر کو کون نہیں جانتا.... ارباب عبدالقادر نے پشتون قوم کے حقوق کے لئے بڑی جدوجہد کی، جیل کی مشکلات سے گزرے۔ ارباب عبدالقادر کے تعلقات افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ اور سردار داﺅد شہید، جبکہ پاکستان کے سیاسی رہنماﺅں میں سے خان عبدالصمد خان شہےد،نواب خیر بخش مری، نواب بگٹی اور دوسرے زعماءسے بڑے گہرے تھے۔ ارباب عمر کا معمول تھا کہ وہ عصر کے بعد اپنی پیلی بیوک گاڑی میں گھر سے نکلتے اور خدائیداد روڈ سے ہوتے ہوئے میکانگی روڈ سے گزرتے تھے۔ اس کا (Hood) اٹھا ہوتا اور سر پر قرا قلی ٹوپی پہنے بڑے با وقار طریقے سے کار کے ایک کونے میں بیٹھتے اور لوگ انہیں سلام کرتے تھے، یہ میرے سکول کے دور کی بات ہے۔

قارئین محترم: ایوب خان کے دور میں ارباب عبدالقادر مرحوم طویل جیل کاٹ کر رہا ہوئے تھے۔ ایوب خان کے آخری دور میں افغانستان چلے گئے تھے، بعد میں ہم طالب علم لیڈر کوئٹہ شہر کے مختلف چوراہوں پر احتجاجی جلسے کرتے تھے۔ انہوں نے ایک دن میری تقریر سُنی تو ہم سب دوستوں کو گھر پر عشائیہ کی دعوت دی۔ یہ دعوت ان کے داماد نے دی۔ میرے ہمراہ مرزا رشید بیگ، ضیاءالدین ضیائی، سید حسام الدین (مرحوم) عبدالماجد فوز (مرحوم) تھے۔ ہم مغرب کے بعد تمام دوست ان کے گھر پہنچ گئے، بڑے پُرجوش طریقے سے انہوں نے ہمارا استقبال کیا۔ ان کا گھر ارباب کرم خان روڈ پر واقع تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نواب خیر بخش مری کو بھی دعوت دی ہے، کچھ دیر بعد وہ آئے تو انہوں نے کیمل کلر کا جوڑا پہنا ہوا تھا، جو کھدر کا بنا ہوا تھا۔ وہ ہمیں جانتے تھے۔ نواب مری بلوچ اکیڈمی کی پہلی منزل کے کونے پر کھڑے ہوکر میری تقریر سنتے تھے، چونکہ ڈان ہوٹل کے سامنے چوراہے پر اکثر میری تقریر ہوتی تھی اور وہ بڑے انہماک سے تقریر سنتے تھے، اس لئے وہ جانتے تھے۔ کھانا بڑا پرتکلف تھا، نواب مری صاحب نے کہاکہ وہ رات کا کھانا نہیں کھاتے،اس لئے وہ شریک نہ ہوئے، کھانے کے بعد نواب مری رشید بیگ کے ایک سوال کے جواب میں مسلسل تین گھنٹے سے زائد وقت بولتے رہے اور ہم ہمہ تن گوش تھے۔ نواب مری کے بارے میںمشہور ہے کہ وہ کم گو ہیں،لیکن جب بولنے پر آجائیں تو پھر رات بھیگتی چلی جاتی ہے اور بات پھیلتی چلی جاتی ہے۔

یہ ایک دلچسپ اور تاریخی ملاقات تھی ارباب عبدالقادر نے اس نشست میں انکشاف کیا کہ وہ پشتونستان کے نامزد وزیرخارجہ تھے انہوں ایک انکشاف اور بھی کیا اور بتایا کہ ظاہر شاہ پراپیگنڈے کی حد تک پشتونستان کا حامی تھا، لیکن عملی طور پراس کا حامی نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس حیثیت سے مختلف ممالک کا دورہ کرنا چاہتے تھے، لیکن ظاہر شاہ نے اس کی اجازت نہیں دی اور مجھے کہا کہ مَیں تم کو اپنے خزانے کی چابیاں دے دیتا ہوں، جتنی رقم لے سکتے ہو، لے لو، مگر مَیں نے انکارکر دیا۔ نواب مری خوب ہنسے اور کہا کہ ارباب صاحب چابیاں تو لے لیتے خواہ مخواہ چابیاں واپس کر دیں، ہم سب خوب ہنسے۔

ارباب عبدالقادر کی وفات کے بعد ارباب محمد ظاہر کے سر پر نوابی کی پگڑی باندھی گئی، ارباب ظاہر ایک تعلیم یافتہ،انتہائی بااخلاق اور نرم لہجے میں گفتگو کرنے والے، لیکن اُن سے میرے ذاتی تعلقات تھے۔ وہ میرا بڑا احترام کرتے تھے۔ اسلامیہ کالج کراچی میں وہ میرے بہنوئی کے شاگرد تھے، اس لئے ان سے دوہرے تعلقات تھے۔ ان سے جب بھی ان کی رہائش گاہ پرملاقات ہوتی تو بڑے احترام اور اخلاق سے ملتے تھے۔ اے این پی کے صدر کی حیثیت سے ان کی بڑی خدمات ہیں۔ نیپ کے تمام قائدین سے ان کے گہرے تعلقات تھے۔ وہ صرف قبیلے کے نواب ہی نہیں، بلکہ قبائلی معاملات میں ان کا بڑا اہم کردار رہا اور سیاست میں ان کی زندگی کااےک حصہ رہا ۔ سب طبقات میں ان کابڑا احترام کیا جاتا ہے کاسی قبیلے میں ملک عثمان کاسی(مرحوم) ملک عبدالقادر کاسی (مرحوم) ملک محمدانور کاسی(مرحوم)ڈاکٹر عبدالمالک کاسی،عبدالغفور کاسی، ایمل کاسی(مرحوم) ارباب عثمان کاسی، ملک محمداکرم کاسی، ملک محمدافضل(ویٹ لفٹر) کافی شہرت رکھتے ہیں۔ ٭

مزید : کالم