انسداد دہشت گردی کےلئے مضبوط قدم اٹھانے کی ضرورت

انسداد دہشت گردی کےلئے مضبوط قدم اٹھانے کی ضرورت

کراچی کے علاقے لیاری میں جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان لڑائی میں10افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں ۔پورا علاقہ دوگروہوں میں کھلی لڑائی میں میدان جنگ بنا رہا، جس میں فائرنگ کے علاوہ دستی بم بھی استعمال کئے جاتے رہے۔ عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ کے حامی گروہوں میں ہفتہ کے روز دن بھر لڑائی جاری رہی، جس کی وجہ سے ٹریفک معطل اور علاقے کے مکین محصور ہو کر رہ گئے۔ بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ بہت دیر تک رینجرز اور پولیس علاقے میں داخل نہیں ہو سکے ۔ تاہم شام کے وقت سیکیورٹی فورسز نے کافی حد تک لیاری کی صورت حال پر قابو پا لیا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں گینگ وار کے کارندوں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔ موٹر سائیکل سوار ملزمان نے محمد خان کالونی کے قریب فائرنگ کر کے اے، ایس، آئی خورشیدالرحمن کو قتل کر دیا۔ ادھر بلوچستان میں مستونگ کے قریب بس میں دھماکے سے دوسکیورٹی افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ بھارت نے واہگہ بارڈر اور ہاٹ سپرنگ سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کر کے ایک شخص کو زخمی کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ڈرون حملے بند کرانے میں حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے یہ حملے بند کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ حملے بند نہ ہوئے تو نیٹو کی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے وفاق کو طالبان سے مذاکرات کا اختیار دیا ہے ان کی سستی کی وجہ سے ہم لاشیں اٹھانے پر مجبور ہیں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے، تاکہ اس سلسلے میں حکومت کو مینڈیٹ دینے والی جماعتوں کو معلوم رہے کہ وہ مذاکراتی عمل میں شریک ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو خط لکھا ہے، جس میں ان سے کہا ہے کہ وہ تحفظ پاکستان بل کی پارلیمنٹ میں منظوری کے سلسلے میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ ماضی کی پالیسیوں کے نتیجے میں قائم ہونے والی دہشت کی متوازی حکومت کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ کئی عشروں کی آمریت اور ناقص گورننس کے نتیجے میں ریاست کی حکمرانی اور رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ دور دراز علاقوں کے علاوہ شہری مراکز اور قصبوںمیں بھی دہشت گردوں کے محفوظ مراکز گہری تشویش کا باعث ہیں۔ لوگوں کی زندگی اور مال شدید خطرے میں ہے۔ قانونی خلاءکی بناءپر مختلف مافیا کے لوگ آزادانہ گھوم رہے ہیں، جس کی وجہ سے قوم کا قدیم روائتی نظام ٹوٹ پھوٹ کے خطرات سے دو چار ہے۔اس تناظر میں وفاقی حکومت نے لازمی سمجھا ہے کہ عام آدمی کی آزادی اور حقوق کے تحفظ اور ریاست پاکستان کی خود مختاری و یکجہتی کے تحفظ کے لئے مداخلت کر کے ایک قانونی میکانزم وضع کیا جائے۔

ملکی حالات بتا رہے ہیں کہ دہشت گرد ہر سمت سے ہمیں زک پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ کراچی میں پولیس اور رینجرز کا ٹارگٹڈ آپریشن مثبت نتائج پیدا کر رہا ہے، لیکن ابھی تک شہر کے ایک حصے میں گینگ وار کے لوگ دندناتے پھر رہے ہیں۔ بلوچستان میں عام شہری اور سیکیورٹی افراد مسلسل دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ دہشت گردی کا عذاب سب سے زیادہ بھگتنے والے صوبہ خیبر پختونخوا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ اندرون ملک دشمن کے آلہ¿ کار یہ سب کچھ اس وقت کررہے ہیں جب دشمن مسلسل ہمارے دروازے(سرحدوں) پر دستک دے رہا ہے۔ اس نے کبھی کسی بہانے اور کبھی کسی بہانے کے بغیر ہمارے پرامن شہریوں اور سرحد کے محافظوں کے صبر کا امتحان لینا شروع کر رکھا ہے۔ دشمن کے جارحانہ عزائم ہمارے مکمل داخلی اتحاد اور یکجہتی کے متقاضی ہیں۔ اگر جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کی سرگرمیاں حکومتی پالیسیوں سے کسی طرح کے اختلافات کی بناءپر ہوتیں تو انہیں مذاکرات کی بات کے بعد اب تک ختم ہوجانا چاہئے تھا۔ پاکستان اور اس کے عوام سے کچھ بھی تعلق واسطہ رکھنے والے لوگوں سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہماری مشرقی سرحد پر دشمن کے کھلے جارحانہ عزائم اور افغانستان کے موجودہ بے حد نازک حالات کے بعد بھی اپنی سفاکانہ سرگرمیوں میں مصروف رہ سکتے ہیں۔ ادھر مشرقی سرحدوں پر دشمن کی مسلسل چھیڑ چھاڑ اور ادھر دہشت گردوں کے کسی پل چین سے نہ بیٹھنے کے بعد ہمارے ازلی دشمن اور اندرون ملک اس کے آلہ ¿ کار لوگوں کے تال میل کی کلی کھل گئی ہے۔ طالبان کے کچھ دھڑوں سے مذاکرات کے بعد امن قائم کرنے کے لئے سمجھوتہ ہوجانے کے بعد بھی ہم کئی سمت سے دہشت گردی اور لاقانونیت اور بدامنی کی لہروں کا سامنا کرتے رہیں گے۔ مذاکرات سے اس وقت تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا جب تک آپ مذاکرات کرنے والوں پر ان سے نمٹنے کے لئے اپنی مکمل اہلیت واضح نہ کردیں۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے انسداد دہشت گردی فورس کے قیام اور جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کے لئے ضروری قانون سازی کرنے کے اقدامات کر کے درست سمت میں ضروری پیش رفت کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے وزارت داخلہ کو یہ ہدایت دینا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کے سلسلے میں اعتماد میں لے،ان کی جمہوریت پسندی کی دلیل ہے، لیکن وزیراعظم کو شاید اس سلسلے میں اپوزیشن سیاسی رہنماﺅںاور عام لوگوں کے اس عمومی تاثر کا احساس نہیں کہ اپوزیشن کی طرف سے حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے اسے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ پوری قوم کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کریں اور ملک میں امن قائم کرنے کے لئے آگے بڑھیں، اس کے بعد انہیں کسی طرح کا انتظار کرنے اور بار بار پلٹ کر اپوزیشن کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں سارے وسائل، اختیارات اور ایجنسیوں کی معاونت بھی حکومت کو حاصل ہے اور اپوزیشن کا اعتما دبھی۔ بظاہر مذاکرات کے سلسلے میں سست روی تعجب کا باعث ہے ۔ اس سلسلے میں کم از کم فریق ثانی کے حوصلہ افزا یا مایوس کن رویوں کے متعلق قوم کو بتایا جانا چاہئے۔ اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی کے لئے قانون سازی اور انسداد دہشت گردی فورس کے قیام میں تاخیر کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ ہماری سیکیورٹی ایجنسیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے گزشتہ 20 سال سے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے فرسودہ قوانین کے ناکام ہونے کی بات کی جاتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں خود ہماری پولیس فورس اور دوسرے متعلقہ اداروں میںایسے ماہرین موجود ہیں، جو تحفظ پاکستان بل کو جامع اور ہر لحاظ سے مکمل بنانے میں حکومت کی معاونت کر سکتے ہیں۔ اگر اب یہ بل حکومت کے اعتماد اور وقت کے تقاضوں پر پورا اترنے کے لئے تیار ہو چکا ہے تو پھر پارلیمنٹ میں حکومتی اکثریت کی موجودگی میں اور اس سلسلے میں عوامی تائید و حمایت کے ہوتے ہوئے اپوزیشن کی طرف سے روڑے اٹکانے کا کوئی کھٹکا نہیں ہونا چاہئے۔ دہشت گردی ختم کرنے کے لئے قوانین پر مشتمل یہ بل پارلیمنٹ سے جلد منظور کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بل کی منظوری کے بعد کچھ عرصہ تک ان قوانین کے موثر اور منصفانہ اطلاق کی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے کڑی نگرانی ہونی چاہئے، کچھ عرصہ بعد ان کے اطلاق کے مضبوط او ر کمزور پہلوﺅں کا مکمل جائزہ لے کر ان کو فول پروف بنانے کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں تو اس سے اپوزیشن کے ( اگر کوئی ہوں) خدشات کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ بہتر ہو کہ وزیراعظم گیند کو اپوزیشن کی کورٹ میں پھینک کر ان اہم امور کے سلسلے میں وقت کے مزید ضیاع سے بچیں اور قوم کی توقعات کے مطابق اس سمت میں مضبوطی اور اعتماد کے ساتھ جلد آگے بڑھیں، تاکہ خیبر پختونخوا حکومت کی طرح دوسری اطراف سے بھی اس سلسلے میں بے صبری اور بے اعتمادی کا اظہار نہ شروع ہو جائے۔

مزید : اداریہ