سالانہ اجتماع تبلیغی جماعت

سالانہ اجتماع تبلیغی جماعت

                                                تبلیغی جماعت کا سالانہ اجتماع جو کہ حج بیت اللہ کے بعد مسلمانوں کا دوسرا بڑا اسلامی اجتماع ہے ¾ رائے ونڈ مرکز کے قریب وسیع و عریض میدان میں انتہائی سادگی سے بھر پور فضا میں بڑی باقاعدگی سے اور حیرت انگیز نظم و ضبط کے ساتھ منعقد ہوتا ہے جس میں پاکستان کے علاوہ دنیا بھر سے سینکڑوں ممالک کے تبلیغی وفود بھی بھاری تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس منفرد اور بے مثال اجتماع کی کشش پاکستان کے طول و عرض سے بھی لاکھوں توحید پرستوں کو کھینچ لاتی ہے۔ تین روزہ اجتماع 31 اکتوبر تا03 نومبر منعقد ہو رہا ہے ¾ دعا03 نومبر کو ہو گی۔ یہ مختصر قصبہ جسے تبلیغی تحریک کی وجہ سے بین الاقوامی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ¾ ایک بہت بڑے شہر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یورپ ¾ امریکہ ¾ مشرق بعید اور دنیا بھر کے دیگر ممالک کو اس مرکز سے تبلیغی وفود آخری روز بعداز دعا تشکیل کئے جاتے ہیں۔ ہر وفد ایک امیر کی قیادت میں ان ممالک میں تبلیغ اور اشاعت دین کا کام سرانجام دیتا ہے۔

 مولانا محمد الیاس ؒکی پر خلوص قربانیوں سے آج دنیا بھر میں تبلیغ کا کام جاری و ساری ہے۔ آپ نے چھ نکاتی پروگرام امت کے سامنے پیش کیا جس میں کلمہ ¾ نماز ¾ علم ¾ و ذکر ¾ تصحیح نیت ¾ اکرام مسلم اور دعوت و تبلیغ سرفہرست ہیں۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ کروڑوں بندگان خدا صحراﺅں میں پھول کھلاتے ہیں اور مردہ دلوں کو ایمان کی زندگی بخشنے میں مصروف ہیں۔ اس جماعت نے نوجوانوں بالخصوص طلباءپر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ یونیورسٹیوں ¾ کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلباءنورانی داڑھیوں اور تسبیح کے ساتھ عجیب بہار دے رہے ہوتے ہیںاور بظاہر کسی دینی مدرسے کے طلباءسے مختلف نظر نہیں آتے ¾ تبلیغی جماعت کا یہ کارنامہ نسل نو پر احسان عظیم ہے۔ جماعت کے احباب کو اندرون ملک اور بیرون ممالک میں دوران تبلیغ اکثر و بیشتر ایسے واقعات سے دوچار ہونا پڑتا ہے جن سے قرون اولیٰ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

بلا شبہ یہ جماعت خاتم النبین کی تعلیمات کے فروغ کیلئے صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر روبہ عمل ہے۔ تبلیغی جماعت نے جہاں مسلمانوں کی زندگیوں میں عظیم انقلاب برپا کر دیا ہے وہاں انہوں نے اب تک لاکھوں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کیا ہے۔ تبلیغی جماعت کے خطباءاور مقررین کی تقریروں اور وعظوں کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندے اللہ تعالیٰ کی سربلندی کیلئے دنیا کی الائشوں اور آمیزشوں سے کچھ وقت نکال کے ماحول میں آئیں اور ایک ایک فرد اپنی اصلاح بھی کرے اور دوسروں کو بھی راہ راست پر لانے کا سبب بنے۔ چنانچہ اس چلت پھرت کا نتیجہ ہے کہ اس وقت دنیا کی تمام جماعتوں میں تبلیغی جماعت کی افرادی قوت سب سے زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں اس جماعت کے مبلغین ان گنت ہیں۔ اس جماعت کا نظم و نسق مثالی ہے جو آواز نظام الدین اولیاءکی بستی سے اٹھتی ہے وہ اگلے چند ہی گھنٹوں میں دنیا بھر کے مراکز میں سنائی دیتی ہے۔ دنیا بھر کے بہت سے ملکوں میں تبلیغی جماعت کے اجتماعات ہوتے ہیں جن میں بلا مبالغہ لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیں بغیر کسی سرکاری فورس اور پولیس کے جماعت کے رضا کارا حسن انداز میں اس ہجوم کو کنٹرول کرتے ہیں کسی بھی جگہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آتا۔ تبلیغی جماعت کے ہر فرد اور رکن میں اطاعت امیر کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ ہر فرد کسی بھی خطرے میں جانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔ جدھر امیر حکم دے اس طرف اسکا رخ ہو جاتا ہے۔ یہی اس جماعت کی کامیابی کا راز ہے۔

اجتماع کا آخری روز اجتماعی دعا کیلئے مخصوص ہوتا ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس اجتماعی دعا کا منظر اتنا اثر آفرین اور رقت آمیز ہوتا ہے کہ بیک وقت اللہ کی بارگاہ میں لاکھوں انسان اپنی تمام تر دنیاوی مصروفیات اور گوناگوں مفادات کو بالائے طاق رکھ کر بلا حیثیت مرتبہ بے حس و مجبور جھولیاں پھیلا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور انتہائی آہ و زاری کے ساتھ اپنے معبود حقیقی سے آنسوﺅں کی برسات اور سسکیوں کے جلترنگ کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے تڑپ تڑپ کرنکلنے والی دعائیں ایک عجیب سماں پیداکر دیتی ہیں۔درحقیقت لاکھوں افراد پر مشتمل یہ محفل دعا پورے اجتماع کی روح ہوتی ہے۔ تبلیغی جماعت کا پورا نظام فکر و عمل اور اسکی سعی و کاوش کے تمام دائرے سمٹ کر اس محفل دعا پر مرکوز ہو جاتے ہیں جس کے بعد یہ جماعت نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ سیل رواں کی طرح دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی لازوال رحمتوں کو تقسیم کرنے کے کام میں منہمک ہو جاتی ہے۔ اگرچہ قرآن و سنت کی رو سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا دینی فریضہ ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے کیونکہ ملت اسلامیہ کی زندگی اور بقا کا انحصار اسی پر ہے جب تک مسلمان خلوص نیت سے اس بنیادی فرض سے عہدہ برآءہوتے رہتے ہیں۔   ٭

مزید : کالم