سٹیل ملز کے بحران میں اضافہ ،خسارہ مزید 53ارب روپے بڑ ھ گیا

سٹیل ملز کے بحران میں اضافہ ،خسارہ مزید 53ارب روپے بڑ ھ گیا

  

                            کراچی ( اکنامک رپورٹر) 16 مہینوں کے واجبات اور قرضوں کے 258 ارب روپے کے اسٹاک میں 53 ارب روپے کے خسارے کے مزید اضافے کے بعد پاکستان اسٹیل ملز تین ہفتوں سے بند چلی آرہی ہے اور اس کی فوری بحالی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔تین دہائی پہلے اس کے قیام کے بعد پہلا موقع ہے کہ ”تمام صنعتوں کی ماں“ مکمل طور پر بند ہوگئی ہے، اس کی بنیادی وجہ ناقص مرمت اور بحالی ہے، اندرونی انتباہ کے باوجود اس کے لیے درکار آپریٹنگ کا مقررہ طریقہ کار اور آپریشنل مینویل پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔وفاقی حکومت نے اس معاملے کی انکوائری کا اب تک حکم نہیں دیا ہے، اگرچہ پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ نے 18.5 ارب روپے کی بجٹ سپورٹ دیے جانے کے دوران اپریل میں یہ وعدہ کیا تھا کہ اکتوبر میں پچاس فیصد صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے گا، اور اگلے سال جنوری میں 77 فیصد صلاحیت کے استعمال کے ساتھ تقریباً دو کروڑ پچاس لاکھ روپے کا منافع حاصل کیا جائے گا۔اکتوبر میں اس پلانٹ نے صرف 1870 ٹن لوہا اور اسٹیل تیار کیا، جبکہ اس کے برخلاف اس کی روزانہ کی پیداواری صلاحیت 91 ہزار چھ سو سڑسٹھ ٹن ہے۔یہ صورتحال اس موقع پر سامنے آئی ہے، جبکہ حکومت پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کے لیے وصول ہونے والی درخواستوں پر غور کے لیے مالیاتی مشیر کا تقرر کرنے جارہی ہے۔سینئر سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ملک کا یہ سب سے بڑا صنعتی کمپلیکس ہاٹ میٹل کی فراہمی کو روکے جانے کے بعد 8 اکتوبر کو بند کردیا گیا تھا، اس لیے کہ اس کے دو کنورٹرز میں سے ایک میں ایک سوراخ تیار کیا جارہا تھا۔اس روز ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا گیا تھا، جب اس کے بلاسٹ فرننس نمبر ایک میں کولر پھٹ جانے سے شگاف ہوگیا تھا اور ہاٹ میٹل چاروں طرف پھیل گیا تھا۔واضح رہے کہ اس سال کی ابتداء سے کنورٹر کی مرمت کا کام جاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ کو پلانٹ کی صفائی اور خراب حصوں کی مرمت میں چند دن لگ گئے تھے، لیکن وہ پیداوار شروع کرنے میں ناکام رہی۔ اس پلانٹ کے دوبارہ کام شروع کرنے کا فوری امکان نہیں ہے۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پلانٹ کو اس فنی خرابی کا سامنا اس لیے کرنا پڑا کہ اسے آپریشنل مینویل کے مطابق چلایا نہیں جارہا تھا، اور بلاسٹ فرننس کا معیار اور مقدار اور دیگر اندرونی مٹیریل مشین ڈیزائن کے مطابق نہیں تھے، جس نے اس کی پیداواری سائیکل کے تال میل اور پائیداری کو متاثر کیا۔حقیقت یہ ہے کہ اسٹیل پلانٹس کو سال کے 365 دنوں میں چوبیس گھنٹے 16سو سے 18 سو سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر چلایا جاتا ہے، اور منصوبہ بندی کے بغیر کسی بھی قسم کے شٹ ڈاو¿ن کے سنگین نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔اسی طرح کی صورتحال کے تحت اس پلانٹ کی بلاسٹ فرنس نمبر دو 14 مہینے پہلے تباہی سے دوچار ہوا تھا۔اکتوبر میں چھیالیس ہزار ٹن (پچاس فیصد پیداواری صلاحیت کے استعمال کے ساتھ) کے ہدف کے مقابلے میں پیداوار زیادہ سے زیادہ 1871 ٹن پر رکی رہی۔ذرائع کے مطابق مینیجنگ ڈائریکٹر نے اب 8 ارب روپے کی دوسری بجٹ سپورٹ کی درخواست کی ہے۔

مزید :

کامرس -