تارکِ وطن گورنر پنجاب

تارکِ وطن گورنر پنجاب
تارکِ وطن گورنر پنجاب

  

 برطانیہ دو صدیوں تک آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کرتا رہا اور دنیا کی تمام دولت لوٹ کر لے گیا، جب ہندوستان پاکستان افریقہ، مڈل ایسٹ و فارایسٹ نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تو ان ممالک کے معاشی حالات بہت کمزور تھے برطانیہ میں دولت کی ریل پیل تھی لیکن افرادی قوت کی کمی تھی اور پاکستان، ہندوستان و دیگر نو آزاد ملکوں سے لاکھوں افراد برطانیہ میں تارکِ وطن کی حیثیت سے منتقل ہوئے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور بھی انہیں افراد میں شامل تھے جو اپنے عزیزوں کے توسط سے برطانیہ پہنچے تارکِ وطن کی حیثیت سے برطانیہ منتقل ہوئے اور اپنی ان تھک محنت سے دریار غیر میں اپنا سیاسی اور مضبوط مالی مقام بنانے میں کامیاب ہوئے نہ صرف انہوں نے مالی استحکام حاصل کیا بلکہ برطانیہ کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے بطور تارکِ وطن برطانیہ میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے باوجود ان کا دل اپنے ملک کے لئے ہی دھڑکتا تھا اور جو بھی پاکستانی لٹا پٹا سیاسی یتیم ہو کر برطانیہ پہنچتا وہ اسے ہر طرح کی مالی و سیاسی امداد فراہم کرتے۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے برطانیہ میں نواز شریف فیملی کی بھی مدد کی۔

میاں صاحب جب برطانیہ متنقل ہوئے تو وہ سیاسی طور پر متحرک ہوئے چودھری صاحب نے میاں صاحب کا بھرپور ساتھ دیا اور تمام پاکستانی لیڈروں کو بشمول بے نظیر بھٹو و دیگر جماعتوں کو یکجا کر کے میثاق جمہوریت کا معاہدہ کروایا جس سے میاں صاحب سیاسی طور پر مضبوط ہوئے چودھری سرور صاحب نے اپنے اثر و رسوخ سے میاں صاحب اور ان کی فیملی کومالی طور پر مستحکم ہونے میں بہت مدد دی۔ نہ صرف برطانیہ بلکہ یورپین حکومتوں سے میاں صاحب کو سیاسی سپورٹ دلوائی، جب میاں صاحب حکومت میں آئے تووہ بھی ایک تارکِ وطن نہ بھولے جس کا دل پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے اور پاکستانیوں کی خدمت کے لئے گورنر پنجاب کے عہدے پر فائز کیا چودھری سرور نے بطور گورنر پاکستان کی بے تحاشہ خدمت کی برطانیہ، یورپ سے تجارتی و سیاسی مراعات حاصل کرا کے دیں، اور کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرانے اور خاص طور پر پاکستان میں پینے کا صاف پانی مہیا کرنے میں بے بہا خدمات انجام دے رہے ہیں۔

چودھری سرور عرصہ دراز سے برطانیہ میں اعلیٰ حیثیت سے مقیم ہیں ان کے تعلقات تقریباً تمام پاکستانی سیاسی لیڈروں سے ہیں جن میں نمایاں طور پر عمران خان، طاہر القادری و چودھری برادران کے نام شامل ہیں جب پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران آیا تو انہوں نے میاں صاحب کی حکومت کو اس بحران سے نکالنے میں اپنا سیاسی کردار ادا کیا۔ طاہر القادری کا دھرنا ختم کرانے میں ان کا بھرپور کردار ہے۔ چودھری صاحب ایک کھرے، سچے انسان ہیں اور اگر میاں صاحب کی کوئی کوتاہی ہے تو اسے بیان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ان کے کچھ مخالفین نے ان کی سچائی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوئے۔ چودھری صاحب ایک سچے پاکستانی ہیں تارک ِ وطن ہونے سے وطن کی محبت زیادہ ہوتی ہے۔ چودھری صاحب کی شریک حیات مسز پروین سرور بھی ایک درد مند اور مدبر خاتون ہیں جو گورنر صاحب کی سیاسی معاون بھی ہیں دونوں کی خواہش ہے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کر کے عمران خان سے مذاکرات کر کے اپنا سیاسی کردار ادا کریں اور پاکستان کو سیاسی و معاشی بحران سے نکالیں۔

مزید :

کالم -