بھارت کا جنگی جنون اور ہمارا دوستانہ رویہ

بھارت کا جنگی جنون اور ہمارا دوستانہ رویہ
بھارت کا جنگی جنون اور ہمارا دوستانہ رویہ

  

بھارتی وزارت دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اینٹی ٹینک میزائل سسٹم ”جیولائن“ کو خریدنے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم بھارتی حکومت نے اسے مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی میزائل شکن دفاعی نظام ”اسپائیک“ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی ڈیفنس ایکوزیشن کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل سے معاہدے کے تحت کم از کم 8 ہزار اسپائک میزائل اور 300 لانچرز خریدے جائیں گے، جن کی کل مالیت 5 کروڑ 25 لاکھ ڈالر یا 32 ارب روپے ہوگی....اسرائیلی ساختہ یہ دفاعی نظام اسپائک ایک ایسا میزائل شکن دفاعی نظام ہے جو دشمن کی جانب سے فائر کئے گئے میزائل کو ٹارگٹ ہٹ کرنے سے قبل ہی مار گراتا ہے، اسے اسرائیلی رافیل ایڈوانس ڈیفنس سسٹم نے تیار کیا گیا ہے جو امریکی دفاعی نظام جیولائن سے بہتر ہے۔بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے پروکیورمنٹ پینل کو ہدایت جاری کی ہے کہ اس معاہدے کے راستے میں تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے ،کیونکہ نیشنل سیکیورٹی بھارتی حکومت کا مرکزی نقطہ ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے 13 ارب ڈالر کے دفاعی منصوبوں کی بھی منظوری دے دی ہے جس کے ذریعے بھارتی دفاع کو جدید بنایا جائے گا، جبکہ ان منصوبوں میں مقامی دفاعی انڈسٹریز کو بھی جدید بنانا شامل ہے۔

بھارت میں انتہاپسند ہندو نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے بعد سے بھارت کی ازلی جارحانہ و توسیع پسندانہ پالیسی میں مزید تیزی آئی ہے اور خطے میں قیام امن کی امیدیں ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتی چلی جارہی ہیں۔ بھارت کا جنگی جنون خطے میں پائیدا ر امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بھارت کا اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ رویہ کبھی مستقل طور پر دوستانہ نہیں رہا اور بھارت اپنے پڑوسی ممالک کی امن پسندی کو ”بزدلی“ تصور کرتا ہے۔ پاکستان جب بھی امن کی بات کرتا ہے بھارت اسے منفی طور پر پاکستان کی کمزوری سمجھتا ہے۔ امن کی ہر کوشش کی حوصلہ شکنی بھارت کا وطیرہ ہے۔ طاقتور عالمی طاقتیں بھارت کے جنگی جنون میں اس کی معاون ہیں اور بھارت کے جنگی جنون کو تسکین پہنچانے کے لئے امریکہ، برطانیہ، اسرائیل، فرانس اور دیگر مغربی ممالک جدید ترین اسلحہ فروخت کرکے بھارت کی خطے میں بالادستی قائم کرنے میں معاون بنے ہوئے ہیں۔

 امیر جماعت الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ مودی کی کھلے عام دھمکیوں اورکنٹرول لائن پر فائرنگ سے انڈیا کے جارحانہ عزائم کا پول ایک بار پھر کھل گیا ہے۔بھارت چھوٹے چھوٹے حملے کر کے بڑی جارحیت کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کو منہ توڑ جواب دینا ہو گا۔ نریندر مودی کے دورئہ امریکہ کے دوران پاکستان کے خلاف جارحیت کی منصوبہ بندی کی گئی۔بھارت کی طرف سے مشرقی بارڈر پر مسلسل فائرنگ اور امریکی ڈرون حملے ملی بھگت کا نتیجہ ہیں۔ بھارت نے پاکستانی دریاو¿ں پر غیر قانونی ڈیم بنا رکھے ہیں جن کے ذریعے وہ پانی روک کر ہماری فصلوں کو برباد کرتاہے اور شدید بارشوں کے موسم میں پانی چھوڑکر سیلاب کی صورت حال سے دوچارکر دیتا ہے۔ امریکہ اپنی شکست چھپانے کے لئے نئے پروگرام تشکیل دے رہا ہے اور افغانستان میں اپنی فوج کی جگہ انڈیا کی فوج کو بٹھایاجارہا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ و بھارت پاکستان کو دباو¿ میں لاکر اپنے مذمو م منصوبے مکمل کرنا چاہتے ہیں اورمشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد باقی ماندہ پاکستان کو بھی نقصانات سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔

 ملک میں اتحاد و یکجہتی کی فضا ہموار کرنی چاہیے اور باہمی اختلافات ختم کر کے پوری قوم کو دفاع کے لیے تیار کرنا چاہیے، جب قوم تیار ہوتی ہے تو بھارت جیسے دشمن کو 1965ءکی طرح منہ کی کھانا پڑتی ہے۔ ہمیں 1971ءکی طرح سازشوں کا شکار نہیں ہونا اور نہ ہی ہمیں کسی مدد کا انتظار کرنا ہے، بلکہ ہم نے اپنی جنگ خود لڑنی اور قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔ ہمیں اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے، پاکستانی فوج کے پیچھے پوری قوم کا سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمیں کسی مایوسی کا شکار نہیں چاہیے۔پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے جو اس وقت انڈیا کے قبضے میں ہے۔ ہمیں ہر صورت میں کشمیر واپس لینا ہے۔ اگرانڈیا بات چیت کے ذریعے یا اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں کو ا±ن کا حق خودارادیت دیتاہے توٹھیک، ورنہ پاکستان کے دفاع اور بقاءکے لئے جنگ بھی کرنا پڑے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کی شہ رگ کشمیر کا فیصلہ ہر صورت میں ہونا چاہے ،اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

بھارت تو ہم پر حملہ کرنے کی سوچ لئے ہوئے ہے، لیکن وزیراعظم میاں نوازشریف کی جانب سے اس معاملے پر جنرل اسمبلی کے خطاب کے بعد سے مکمل خاموشی پر قوم میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ہمارے حکمران بھارت کی چاپلوسی میںمشغول ہیں۔ ان کو پرواہ ہی نہیں کہ دشمن ہماری دہلیز پر آبیٹھا ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے نہ تو پارلیمنٹ میں اور نہ ہی عوام میں بھارتی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ بھارت کو دوٹوک الفاظ میں وارننگ دی جائے کہ اگر اب مزید جارحیت کرکے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کی گئی تو پاکستان بھی اس کے جواب میں فائرنگ کرے گا اور سخت جواب دیا جائے گا، کیونکہ بھارت امن کی زبان سمجھنا ہی نہیں چاہتا اور خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنا اس کی خواہش ہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ بھارت کے جنگی جنون کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اسے جارحانہ انداز میں ہی عسکری و سفارتی سطح پر جواب دے ،تاکہ نریندر مودی کی خام خیالی ختم ہوسکے، حالانکہ مودی بھارتی عوام سے ان کا معیار زندگی بلند کرنے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے ہیں، لیکن ان کا عمل خطے کو جنگ میں جھونک کر تباہ و برباد کرنے کا ہے۔

مزید :

کالم -