سیاسی انتظامی اختیارات یا خیرات

سیاسی انتظامی اختیارات یا خیرات
سیاسی انتظامی اختیارات یا خیرات

  

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے معاملات کو اسے ہی چابک دستی کے ساتھ کسی امتیازی سلوک کے بغیر چلانا ہوتا ہے۔ جب ایسا نہیں ہو پا تا تو ملک ہو یا صوبہ، وہاں امن و امان تو مخدوش ہی رہتا ہے۔ عام لوگوں میں عدم اطمینان رہتا ہے جو سیاسی، معاشرتی اور معاشی صورت حال کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ سندھ میں1972ءمیں سندھی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے پر فسادات ہوئے تھے ،جنہیں لسانی فسادات کا نام دیا گیا۔ اندرون سندھ سے لوگ کراچی اور حیدرآباد منتقل ہوئے تھے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ ممتاز علی بھٹو تھے۔ وفاقی حکومت ذولفقار علی بھٹو کی تھی۔ انہوں نے فسادات پر قابو پانے کے فوری اقدامات کئے تھے اور اردو بولنے والے اکابرین کو اسلام آباد مدعو کیا گیا تھا ،جہاں ایک سمجھوتہ طے پایا تھا۔ اردوبولنے والی آبادی یا مہاجروں کی طرف سے سات شخصیات کو مدعو کی گیا تھا۔ سندھ اسمبلی کے قائد حزب اختلاف جے یو پی کے شاہ فرید الحق، اراکین اسمبلی جے یو پی کے ظہور الحسن بھوپالی ،مسلم لیگ کے جی اے مدنی، جماعت اسلامی کے افتخار احمد، نیشنل عوامی پارٹی کے محمود الحق عثمانی، رئیس امروہی اور اشتیاق حسین قریشی، سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی شامل تھے۔

سمجھوتے کے تحت سندھ کو دو لسانی صوبہ قرار دیا گیا تھا اور طے کیا گیا تھا کہ سندھ میں وزیر اعلیٰ سندھی تو گورنر مہاجر یا غیر سندھی ہوگا، چیف سیکرٹری سندھی تو آئی جی پولیس غیر سندھی ہوگا۔ وزیر سندھی ہوگا تو وزارت کا سیکرٹری غیر سندھی ہوگا، اسی طرح ضلع میں ڈپٹی کمشنر اگر اردو بولنے والے ہوگا تو ایس ایس پی سندھی زبان بولنے والا ہوگا۔ کمشنر اور ڈی آئی جی کے بارے میں بھی یہی طے کیا گیا تھا۔سمجھوتے میں سندھ میں سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لئے جو کوٹہ سسٹم موجود تھا، اسے شہری اور دیہی کوٹے کا نام دیا گیا تھا ۔ ایک اصول یہ تھا کہ گورنر کو سندھ کی سرکاری جامعات کا چانسلر بھی مقرر کیا گیا تھا اور سندھ کے تمام تعلیمی بورڈ گورنر کی نگرانی میں دے دیئے گئے تھے۔ سندھی اور نئے سندھی کی اصطلاح بھی ذوالفقار علی بھٹو نے ہی استعمال کی تھی۔ ان فسادات کے اثرات کو ختم کرانے کے لئے صوبائی محکمہ اطلاعات نے ایک مہم چلائی تھی جس میں ایک پوسٹر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا تھا کہ دو کم سن بچیاں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جھول رہی تھیں۔ ایک بچی نے غرارہ پہنا ہوا تھا دوسری نے شلوار پہنی ہوئی تھی۔ دکھانا یہ مقصود تھا کہ سندھی اور نئے سندھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے ہیں۔

1972ءکے لسانی فسادات کے بعد سندھ میں 1988ئمیں دوبارہ ایسے فسادات ہوئے جن میں سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ تکلیف دہ موڑ وہ تھا جب حیدرآباد میں 30ستمبر کو مغرب کے وقت قتل عام کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 256افراد شہید ہوئے تھے ۔ ان میں بلا امتیاز مہاجر، سندھی، پنجابی اور پٹھان بھی شامل تھے۔ اس واقعہ کے فوری بعد کراچی میں سندھی زبان بولنے والوں کی آبادی میں قتل عام کیا گیا جس میں پچاس افراد کو قتل کردیا گیا۔ لعن طعن وطنز کے نشتر کی دوبارہ بنیاد سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے ڈالی تھی۔ اگست2012ءمیں انہیں متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ اختلافات ہو گئے تھے ۔ جس میں وہ اتنے جذباتی ہو گئے کہ انہوں نے ہجرت کر کے آنے والوں کے بارے میں یہ تک کہہ دیا تھا کہ تم بھوکے ننگے آئے تھے ۔ ان کی اس بات پر کئی عمر رسیدہ مہاجرین نے بھی زبان کھولی تھی ۔ انہوں نے قیام پاکستان کے وقت ان کی سماجی حیثیتوںکا تزکرہ کیا تھا۔ سندھ میں اس طرح کی گفتگو کوئی نئی بات نہیں ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ایک دوسرے کی سماجی حیثیت یاد لانا معمول ہے، جس کی تان صوبے کے قیام کے مطالبے پر ٹوٹتی ہے جو امن و امان کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔ اس پر ایم کیو ایم کو بھی غور کرنا چاہئے ۔

سندھ پر قبضے کے چار سال بعد ہی انگریزوں نے اسے ممبئی پریذیڈنسی کے ماتحت دے دیا تھا۔ جب سندھی مسلمان ان کے ساتھ رہنے والے ہندو مہاجنوں، سرمایہ داروں اور سرکاری ملازمین کے ہاتھوں بہت زیادہ تنگ ہو گئے تھے تو سندھ میں ممبئی پریذیڈنسی سے علیحدگی کی بھر پور تحریک چلائی گئی تھی اور بالاآخر 90سال بعد 1937ءمیں سندھ کی علیحدہ حیثیت بحال ہو گئی تھی۔ ممبئی پریذیڈنسی سے سندھ کی علیحدگی کے اسباب پر پیر علی محمد راشدی نے بھر پور طریقے سے لکھا ہے۔ ان اسباب میں انہوں نے سندھی مسلمانوں کے ساتھ ہندو ارباب اختیار کے امتیازی سلوک کا ذکر کیا ہے۔ محقق ڈاکٹر محمد لائق زرداری نے اپنی کتاب ”سندھ کی سیاسی جدوجہد “میں تحریر کیا ہے کہ ” ممبئی کے ساتھ الحاق کے بعد سندھ کی تکلیفوں اور دکھوں کا سلسلہ شروع ہوا “۔ ایک اور جگہ لکھا ہے کہ ” تعلیمی پستی کی وجہ سے سندھ کے لوگوں نے محسوس کیا کہ ممبئی کے ساتھ رہنے کی وجہ سے وہ ہر میدان میں نقصان اٹھائیں گے“۔ ممبئی حکومت کو مسلمانوں کی پرائمری تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں تھی۔

پیپلز پارٹی کے سیاست دان دو گروپوں میں تقسیم ہیں ۔ ایک گروپ نرم زبان استعمال کرتا ہے، دوسرا گروپ سخت زبان کا قائل ہے۔ عوام کو لسانی بنیادوں پر تقسیم ہونے کا احساس دلانا ہی تو خطرے کی گھنٹی ہے۔ جب آصف علی صدر پاکستان تھے تو انہوں نے مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے اردو بولنے والوں کی شکایات کا جائزہ لینے اور ازالے کے لئے اقدامات تجویز کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ اس کے نتائج سے کوئی آگاہ نہیں۔ کوئی بھی حکومت ہو، اسے یہ تہیہ کرنا ہوگا کہ دو لسانی صوبے میں ایسے متفقہ اقدامات کئے جائیں اور حکمرانی ایسی کی جائے کہ سب ہی اطمینان بخش زندگی گزار سکیں۔ حکومت سندھ میں اگر صاف شفاف انتخابات کی صورت میں با اختیار بلدیاتی نظام قائم کر دے تو بھی رسہ کشی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ سندھ میں حالیہ دنوں میں صورت حال جس کشیدگی کی طرف جارہی ہے، عام لوگ اس کے ممکنہ نتائج سے خوفزدہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنماءمہاجروں کے خلاف کچھ ہی کیوں نہ کہیں ،لیکن یہ غور کرنا ہوگا کہ ان کی پارٹی کی حکمرانی امتیازات کا شکار کیوں ہے؟ طرز حکمرانی تو خراب ہی ہے، بد عنوانیوں کا دور دورہ ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں بھرتیاں جس طریقے سے پیسوں کے عیوض کی گئی ہیں ،وہ کہانی بچے بچے کی زبان پر ہیں۔ اردو بولنے والوں کے علاوہ ،وہ غریب سندھی ،جن کے پاس کسی کی سفارش نہیں ، بری طرح متاثر ہیں۔

 پیپلز پارٹی کی حکومت 2008ءسے آج تک خو د یہ تحقیق کر لے کہ سرکاری ملازمتوں میں اردو بولنے والوں کی تعداد کیا ہے؟ پیشہ ورانہ تعلیمی ادروں میں اردو بولنے والے داخلے کے حصول میں کیوں ناکام رہتے ہیں؟ ایم کیو ایم کے وزراءحکومت میں ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بے اختیار کیو ں قرار دیتے ہیں؟گورنر سندھ کے تعلیمی بورڈ کے اختیارات ختم کر کے موجودہ حکومت نے وزیر اعلیٰ کو دے دیئے ہیں، اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کئی ایسے سوالات ہیں جو خلیج کو گہرا کرتے ہیں اور سیاست دانوں کے تلخ بیانات کشیدگی کا کشادہ کرتے ہیں ،جبکہ پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سندھ کو دو لسانی صوبہ قرار دینے والی ذوالفقار علی بھٹو کی حکمت عملی کے بر عکس کام کرتے نظر آتے ہیں۔ اس جذبے سے کام نہیں لیا جاتا جو حکومت کے بارے میں یہ ثابت کر سکے کہ حکومت سب کی ہے۔ پیپلز پارٹی تو ایک طرف، قومی عوامی تحریک ہو یا جئے سندھ کے دھڑے ، دوسری طرف ایم کیو ایم، سب ہی سیاست کے اسی دھارے میں بہہ رہے ہیں۔ جلتی ہوئی آگ پر پانی کوئی نہیں ڈال رہا ہے، سب ہی تیل لئے چلے آرہے ہیں۔ صورت حال بہر حال جس طرف جارہی ہے ،اسے سمجھنا اور سنبھالنا پیپلز پارٹی کی حکومت کی ہی ذمہ داری ہے۔

مزید :

کالم -