پروفیسر غلام اعظم شہیدؒکی یاد میں!

پروفیسر غلام اعظم شہیدؒکی یاد میں!
پروفیسر غلام اعظم شہیدؒکی یاد میں!

  

پروفیسر غلام اعظم کی طویل عرصے کے بعد پاکستان آمد سے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو اس قدر خوشی ہورہی تھی کہ ان کے لئے یہ آمد عید کے چاند کی طرح باعث فرحت تھی۔ گوجرانوالہ میں دو پروگرام ہوئے۔ ایک جماعت کے دفتر میں اور دوسرا مولانا محمد چراغ کے قائم کردہ ادارے جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں۔ پروفیسر غلام اعظم دونوں پروگراموں سے بہت خوش تھے۔ پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ یوں تو جماعتی فیصلے اور منصوبے میں خیر و برکت ہوتی ہے اور اس کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، مگر مجھے قاضی حسین احمد کے اس فیصلے سے بڑی خوشی اور حوصلہ ملا ہے، جو انہوں نے دینی جماعتوں کو متحد کرکے سیاسی محاذ پر پیش رفت کی ہے۔ ہم بنگلہ دیش میں یہ کام اب تک نہیں کرسکے۔ اب واپس جا کر میں اپنی توجہ اس کام پر مرتکز کرنا چاہتا ہوں۔ مَیں نے عرض کیا : ”پروفیسر صاحب آپ کی بات درست ہے، مگر میں تو سمجھتا ہوں کہ جو کام آپ نے کیا ہے، وہ دیگر سب عالمی اسلامی تحریکوں سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے اور سچی بات ہے۔ ہم تو اس میدان میں کوئی پیش رفت نہیں کرسکے“۔ کہنے لگے:” کون سا کام“؟ مَیں نے عرض کیا: ”اسلامی بینک بنگلہ دیش“۔ اس پر انہوں نے فرمایا : ”ہاں یہ اللہ کا بڑا احسان ہے کہ ہمارے اس بنک کو بڑی کامیابی ملی۔ یہ بینک بنگلہ دیش کے تمام بینکوں میں اپنی کارکردگی اور منافع کے لحاظ سے سرفہرست ہے“۔

یہ حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش کے اسلامی بینک نے دنیا بھر میں ایک بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔ بر سبیلِ تذکرہ عرض کردوں کہ بنگلہ دیش میں ایک اور بینک کو بھی بڑی شہرت ملی۔ یہ اسلامی بینک کے کئی سال بعد قائم ہوا اور یہ گرامین بینک کے نام سے معروف ہے۔ اس کے بانی محمد یونس ہیں ،جن کو مغربی دنیا کی بڑی حمایت حاصل ہے اور وہ نوبل انعام یافتہ بھی ہے۔ یہ بینک غیر سودی نہیں ہے، لیکن اس کی کارکردگی کافی اچھی رہی ہے ،مگر آج کل مشکلات کا شکار ہے۔ اسلامی بینک بنگلہ دیش کے بانیوں میں ہمارے بھائی اور اسلامی جمعیت طلبہ میں ہمارے دور میں مطیع الرحمن نظامی کی نظامت اعلیٰ کے دوران سیکرٹری جنرل کے منصب پر فائز، محمد یونس کا نام بھی شامل ہے۔ ہمارے یہ بھائی جوانی ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔

پروفیسر غلام اعظم پاکستان کے اس دورے سے واپس بنگلہ دیش جانے کے بعد مسلسل رابطے میں رہے۔ وہ ای میل کے ذریعے اپنے حالات لکھتے اور مَیں ای میل سے انہیں جواب دیتا۔ پروفیسر صاحب سے تعلق کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ان سے ہونے والی ملاقاتیں یادداشتوں میں محفوظ ہیں۔ پروفیسر صاحب کو اللہ نے چھ بیٹے عطا فرمائے، مگر وہ بیٹی کی رحمت سے محروم رہے۔ ان کے سبھی بیٹے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب اور نمایاں ہیں۔ ان کے بیٹے بریگیڈیئر عبداللہ امان الاعظمی کو ان کے عسکری منصب سے محض اس وجہ سے برخاست کر دیا گیا تھا کہ وہ پروفیسر غلام اعظم کے بیٹے ہیں۔ 2009ءمیں جب یہ انتقامی کارروائی عمل میں آئی تو مَیں نے ایک مضمون لکھا جو اخبارات و رسائل میں شائع ہوا۔ ذیل میں اس مضمون کے چند اقتباسات یہاں پیش کئے جارہے ہیں جو مَیں نے ایک ای میل کے ذریعے پروفیسر غلام اعظم کی خدمت میں ارسال کیا۔

مَیں نے لکھا ”ایک خبر جو بنگلہ دیش میں آ ج کل ہر گلی، بازار اور ہر مجلس میں زیرِ بحث ہے ،وہ بنگلہ دیش فوج کے بر یگیڈیئر عبداللہ امان الاعظمی کی ان کے عہدے سے بر طرفی ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ان کی بر طرفی کے آرڈر میں انہیں باقاعدہ نہ چارج شیٹ کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں اپنے دفاع میں کچھ کہنے کا موقع دیا گیا ہے۔ بر یگیڈیئر عبداللہ الاعظمی بر طرفی کے وقت نیشنل ڈیفنس کالج کے سربراہ تھے۔ ان کی سروس کا پورا ریکارڈ بہت شاندار ہے۔ انہوں نے فوج میں 1982ءمیں کمیشن لیا۔ اکتوبر 1983ءمیں ملٹری اکیڈمی سے فارغ ہو نے پر انہیں اپنی کلاس کا بہترین کیڈٹ قرار دیا گیا۔ انہوںنے تلوارِ اعزاز (Sword of Honour )کا اعزاز حاصل کیا۔ اپنی پوری فوجی ملازمت کے دوران نوجوان اعظمی نے سیکنڈ لیفٹیننٹ سے بریگیڈئیر کے عہدے تک جو سفر طے کیا وہ فوجی ریکارڈ کے مطابق شاندار اور بے داغ ہے۔ بریگیڈیئرصاحب ڈیفنس کالج کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے عملے اور زیرِ تربیت افسران کی نظروں میں انتہائی محترم، مہربان اور بہترین سرپرست تھے۔ ان سب کی طرف سے اس کالج کی تاریخ کے بہترین سر براہ قرار دیئے گئے۔

اس عرصے میں عوامی لیگ پہلے بھی بر سر اقتدار رہی (1996ءتا2001ئ)۔ اس وقت اس کے پاس اتنی زیادہ اکثریت نہیں تھی، جتنی اب ہے۔ آج کل وہ دو تہائی سے بھی زیادہ سیٹوں پر براجمان ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل معین الدین احمد نے عوامی لیگ کے دباﺅ کے تحت ہی یہ ظالمانہ فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا لبِ لباب یہ ہے(کہ حکومت پر اچانک یہ راز منکشف ہوا ہے)کہ بر یگیڈیئر اعظمی ملک و قوم اور مسلح افواج کے لئے خطرے کا باعث ہیں، اس لئے انہیں عہدے سے بر طرف کیا جاتا ہے۔ وہ نہ تو اپنے نام کے ساتھ ریٹائرڈ بریگیڈیئر لکھ سکیں گے، نہ انہیں کسی قسم کی پنشن اور دیگر مروجہ مراعات حاصل ہو سکیں گی۔ بریگیڈیئر اعظمی جہاں انتہائی دیانت دار اور فرض شناس افسر کی حیثیت سے معروف ہیں ،وہیں ان کی خود داری،غیرت مندی اور جرا¿ت و شجاعت بھی مثالی ہے۔ آخر انہوں نے پروفیسر غلام اعظم کے گھر میں آنکھ کھولی ہے۔ گھر کا ماحول دورِ اسلاف کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ ہر فرد دینِ اسلام کا عملی نمونہ اور اخلاق و شرافت کا مجسمہ!اپنی بر طرفی کے احکام وصول کرتے ہوئے بر یگیڈیئر اعظمی نے اپنے قلم سے لکھا: ”میرا ضمیر مطمئن ہے کیونکہ مَیں نے کوئی غیر قانونی، غیر اخلاقی حرکت یا فوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی۔ مجھے میرے خون کی وجہ سے بر طرف کیا جارہا ہے۔ مَیں اپنے خون پر فخر کرتا ہوں اور اسے رسوا نہیں ہونے دوں گا“۔

بر یگیڈیئر اعظمی نے ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ہائی کورٹ نے انہیں ریلیف نہ دیا تو وہ اپیل کورٹ میں بھی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ 25جون 2009 ءکو بر یگیڈیئر اعظمی کو برطرف کیا گیا اور جب اس فیصلے پر ہر جانب سے لعن طعن ہونے لگی تو اپنی اکثریت کے بل بوتے پر حسینہ واجد حکومت نے بعجلت تمام 9جولائی 2009ءکو پارلیمنٹ سے ایک قانون وار کرائمز ایکٹ 2009ءمنظور کر وا لیا، جسے بنیاد بنا کر اس ناانصافی اور ظلم کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بریگیڈیئر اعظمی پروفیسر غلام اعظم کے فرزند ِ ارجمند ہیں۔ پروفیسر غلام اعظم امتِ مسلمہ کے وہ عظیم رہنما ہیں جن کے علم و حکمت اور زہد و تقویٰ کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ پروفیسر غلام اعظم مولانا مودودیؒ کی اس ٹیم میں درخشاںستارے کی حیثیت رکھتے تھے، جو کہکشاں کی طرح تاریخ کے افق پر جگمگاتی رہے گی۔ عبداللہ امان الاعظمی ظلم و ستم کے اندھیروں میں وہ روشن چراغ ہیں جو سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے روشنی اور امید کی کرن ہیں۔ لوگ انقلاب کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اصل انقلاب ہے ہی یہ کہ انسان کے اندر تبدیلی آجائے۔(بنگلہ دیش کے) اس مسلمان فوجی افسر اور ہمارے تحریکی بھائی کا یہ انقلاب آج کے دورِ انحطاط میں ہوا کا تازہ جھونکا اور ظلم و بدعنوانی کے طوفانوں میں چراغِ راہ ہے۔ بنگلہ دیش ہو یا پاکستان، ہر جگہ اندھیرا ہے، یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی “۔

پروفیسر غلام اعظم نے یہ ای میل ملنے پر اپنے جوابی ای میل میں شکریہ بھی ادا کیا اور ساتھ ہی مجھ سے جماعت اسلامی پاکستان کی سرگرمیوں کے بارے میں استفسار بھی کیا۔ ان سے براہ راست آخری ملاقاتیں، دو مرتبہ، مانچسٹر (برطانیہ) میں تقریباً آٹھ سال قبل2006ءمیں ہوئیں۔ وہ بھی یاد گار ملاقاتیں تھیں۔ ان ملاقاتوں کا حال ان شاءاللہ اگلی قسط میں عرض کیا جائے گا۔

مزید :

کالم -