طاہر القادری کی واپسی

طاہر القادری کی واپسی
طاہر القادری کی واپسی

  

لندن پلان کے تحت نواز شریف کو چلتا کرنا اور پھر اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کا منصوبہ تھا اور پھر بعدازاں علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کو صدر، عمران خان کو وزیراعظم بننا تھا۔ چودھری برادران کو پنجاب چاہئے تھا ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ پنجاب آپ کے سپرد کر دیا جائے گا۔ اس پلان کے علاوہ شیخ رشید اور چودھری برادران کا ایک علیحدہ پلان بھی تھا، شیخ رشید کی ڈیوٹی عمران خان کو ”قابو“ رکھنے کی تھی اور چودھری برادران نے ڈاکٹر طاہر القادری کو اِدھر اُدھر نہیں ہونے دینا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت تک ڈاکٹر طاہر القادری وطن واپس نہیں آتے، چودھری برادران مسلم لیگ (ق) سے زیادہ عوامی تحریک کے ترجمان بنے رہے، بدقسمتی سے سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہو گیا۔ اس سانحے کی وجہ سے بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی، چودھری برادران نے ڈاکٹر طاہر القادری کے واپس آنے سے پہلے پہلے ایسی فضا بنا دی کہ فوری طور پر ڈاکٹر طاہر القادری بھی اسی فضا میں رنگے گئے۔

 ڈاکٹر طاہر القادری سے لاکھ اختلافات سہی، لیکن وہ خون خرابے کی سیاست نہیں کرتے، انہوں نے جو بھی کرنا ہوتا ہے، بس اپنی تقریر کے ذریعے کرتے ہیں اور پھر اپنی تقریر کے ذریعے ہی آگ لگاتے اور بجھاتے رہتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ سیاست کو نہیں سمجھتے، حالانکہ سیاسی طور پر وہ سب کے ”بابا“ ہیں۔ چودھری برادران تو ان کی ایک ”چٹکی“ کی مار ہیں۔ لاہور آنے کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کچھ دنوں تک چودھری برادران کی بات مانتے رہے اور انہیں خوب استعمال بھی کیا۔ یہ دونوں بھائی ڈاکٹر طاہر القادری کے ”سیکرٹری“ کے فرائض انجام دینے لگے۔ ادھر شیخ رشید نے عمران خان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی ”دانہ“ ڈالنے کی کوشش کی، سیاسی طور پر انتہائی زیرک ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی شیخ رشید کے قد کاٹھ کو بڑھانا شروع کر دیا اور ماڈل ٹاﺅن میں انہوں نے اپنی تقریروں میں بار بار شیخ رشید، شیخ رشید کی تکرار کی۔ انہوں نے شیخ رشید کو اتنا اونچا اٹھا دیا کہ خود چودھری برادران پریشان ہو گئے کہ ڈاکٹر طاہر القادری شیخ رشید کو ان سے زیادہ لفٹ کرا رہے ہیں۔

اب چودھری برادران نے شیخ رشید کو کہا کہ وہ عمران خان اور ان کے درمیان سیاسی روابط بڑھانے کی کوشش کریں، شیخ رشید نے عمران خان کو منانے کی بہت کوشش کی، مگر عمران خان نے کورا جواب دیا کہ ہمارے پاس صرف آپ کی گنجائش ہے، مزید کسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ شیخ رشید کچھ دنوں کے لئے ڈاکٹر طاہر القادری سے دور ہو گئے، ادھر ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی چودھری برادران کی سیاسی حیثیت کا اندازہ لگا لیا تھا، سو انہوں نے بھی چودھری برادران کے ساتھ رابطہ کم کر دیا، جہاں انہیں استعمال کرنے کی ضرورت پڑی استعمال کیا اور جہاں انہیں اپنی ذات نمایاں کرنے کا موقع ملا وہاں انہوں نے چودھری برادران کو نظر انداز کر دیا۔14اگست کے دن حکومت کسی بھی قیمت پر ڈاکٹر طاہر القادری کو اسلام آباد جانے کی اجازت دینے کے لئے آمادہ نہیں تھی،مگر الطاف حسین، گورنر سندھ اور گورنر پنجاب کے ”ضامن“ بننے کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کو اسلام آباد جانے کی اجازت مل گئی۔

 حکومت نے چودھری برادران کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی کہ وہ جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں، مگر چودھری برادران کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر طاہر القادری اسلام آباد جاتے ہوئے ان کی رہائش گاہ پر آئیں ، مگر ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد جاتے ہوئے ایسی رفتار پکڑی کہ گجرات میں ہزاروں لوگوں کے لئے تیار کیا گیا ”ناشتہ“ بھی ضائع ہو گیا۔ یہ دن چودھری برادران کے لئے قیامت سے کم نہیں تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری اسلام آباد میں ڈیرہ لگانے کے بعد چودھری برادران کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے۔انہیں اپنی سیاسی حکمت عملی سے بھی آگاہ نہ ہونے دیا، البتہ کبھی کبھی چودھری پرویز الٰہی کو دھرنے کے شرکاءسے دو چار منٹ خطاب کرنے کی اجازت دے دیتے تھے اور بے چارے چودھری شجاعت کے ساتھ تو بہت زیادتی کی گئی، جب انہیں حکم دیا کہ وہ ”اذان تحریک“ کا حصہ بنیں اور دھرنے میں شریک دیگر لوگوں کی طرح اذان دیں تو چودھری شجاعت نے دھرنے میں اذان دے دی، مگر اذان کے مختلف کلمات کو ترتیب کی غلطی سے ناقص کر دیا، ان کی اذان سے لوگوں تک یہ میسج پہنچا کہ ملک میں اسلامی انقلاب لانے کے خواہشمند کو ابھی تک اذان کے الفاظ تک کا علم نہیں ہے۔

 دھرنے کے شرکاءکے سامنے مختلف مواقع پر اپنی ”چہرہ نمائی“ کرانے کے لئے چودھری برادران کو بہت بھاری اخراجات بھی برداشت کرنے پڑے۔ کہا جاتا ہے کہ دھرنے کے شرکاءکے لئے کھانے پینے کا سامان چودھری برادران کے ذمے تھا اور انہوںنے یہ ذمہ داری خوب نبھائی، عام اندازے کے مطابق دھرنے کے شرکاءکے لئے کھانے پینے کے سامان پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اب واپس لاہور پہنچ چکے ہیں امید یہی ہے اور انہوں نے خود بھی اعلان کیا ہے کہ وہ کسی وقت کینیڈا بھی جا سکتے ہیں، طبیعت ان کی بہت خراب ہے۔ ایک دن میں وہ 35کے قریب مختلف گولیاں کھاتے ہیں، ایک معروف حکیم کے تجویز کردہ ”نسخے“ وہ علیحدہ استعمال کرتے ہیں، سو واپس جانے کا بہانہ ان کے پاس ہے اور انہیں روکنے کے لئے بھی کوئی تیار نہیں ہے۔ گو چودھری برادران نے بہت کوشش کی بہت ہاتھ پاﺅں پکڑے مگر ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب چودھری برادران کی سیاست تقریباً گجرات تک ہی محدود ہو جائے گی۔ کوشش کریںگے کہ عمران خان ان کے ”قابو“ میں آ جائے، مگر عمران خان آسانی سے ان کے قابو میں نہیں آئے گا، بلکہ آنے والے چند دنوں میں شیخ رشید کی بھی چھٹی ہونے والی ہے....سوال یہ ہے کہ اگر دھرنے کا یہی نتیجہ نکلنا تھا، تو پھر اپنا اور اپنے کارکنوں کا وقت برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

ایک انتہائی سنجیدہ او ر باخبر دوست کا کہنا ہے کہ ”انقلاب“ لانے کا اعلان اور جلسے،جلوس اور دھرنے سب دکھاوا تھے۔ درحقیقت اربوں ڈالر کے ملنے والے فنڈ کے بارے میں کچھ کچھ ”اخراجات“ بھی تو دکھانے تھے کہ نہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض قوتیں پاکستان کے حالات خراب کرنے کے لئے ایک عرصے سے کوششیں کر رہی ہیں اور اس کے لئے ڈاکٹر طاہر القادری کو دوسری بار استعمال کیا گیا ہے، پہلی بار پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت اور اب مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے خلاف۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے اس بار عمران خان کو بھی اپنے قابو میں کر لیا اور میانوالی کا یہ نادان پٹھان ایک ایسے شخص کے چکر میں پھنس گیا، جس کی کوئی زبان ہی نہیں ہے اور بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست میں ڈاکٹر طاہر القادری جیسا ”دروغ گو“ انسان ڈھونڈنا مشکل ہے۔ اس شخص نے اپنی خطاب دانی کے زور پر لوگوں کا نہ صرف سیاسی بلکہ مذہبی استحصال بھی کیا ہے۔

آپ گزشتہ لانگ مارچ اور اس لانگ مارچ کے دوران ان کی تقریریں سُن لیں، تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس شخص نے خود مذہب اسلام کے ساتھ کیا کیا مذاق کیا ہے۔ مثال کے طورپر خود کو حضرت امام حسین ؓ کے نقش قدم پر چلنے والا قرار دینا اور پھر اپنے قافلے کو قافلہ¿ حسین سے تشبیہہ دینا حضرت امام حسینؓ کے نام پر لوگوں کو جذباتی طور پر اپنے قریب کرنا، اپنے گزشتہ اور اب کے لانگ مارچ میں انہوں نے درجنوں بار حضرت امام حسین ؓ کے اس ارشاد کو دہرایا، جو انہوں نے میدان کربلا میں اپنے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا کہ جو شخص میرا ساتھ چھوڑنا چاہتا ہے مَیں (امام حسینؓ) انہیں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور اگر کوئی میرے حیا کی وجہ سے جانے سے گریزاں ہے تو مَیں دیا بجھا دیتا ہوں، خدا کی قسم مَیں حسینؓ اس سے راضی ہوں۔

 میڈیا گواہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اس واقعے کو دھراتے ہوئے اپنے کارکنوں کے ساتھ وہی بات کی جو حضرت امام حسین ؓ نے میدان کربلا میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کی تھی اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ حضرت امام حسین ؓ کا معاملہ یزید کے ساتھ تھا، مگر حضرت امام حسین ؓ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے انقلاب کی بنیاد رکھی اور آج کیا مسلمان، کیا ہندو، کیا عیسائی، سب مذاہب کے لوگ فکر ِ حسینؓ کو انقلاب کی نوید قرار دیتے ہیں، مگر ہمارے ایک نامور عالم ِ دین ڈاکٹر طاہر القادری اس سچے اور ایمان افروز واقعے کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کرتے ہوئے جان کا نذرانہ تو دور کی بات اپنے قافلے والوں کی جانوں کے بدلے دیت کی رقم بھی خود اینٹھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے سے زیادہ اس ملک کے لاکھوں لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے، وہ لوگ جو مذہبی اور مسلکی طور پر ان کے بہت چاہنے والے تھے، انہیں اپنے ”پیرو مرشد“ کا درجہ دیتے تھے وہ جان لیں کہ ان کے مرشد نے دوسری بار بھی انہیں ”بیچ“ دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ جو ڈیل ہوئی ہے اس میں اربوں روپے بتائے جا رہے ہیں جو ڈاکٹر طاہر القادری کو ملیں گے، ممکن ہے مل بھی گئے ہوں؟

بہرحال، ڈاکٹر طاہر القادری اب تقریباً تقریباً ”فارغ“ ہو چکے ہیں، وہ کچھ دن اِدھر اُدھر بھاگتے پھرتے نظر آئیں گے، وہ جلسے جلسے بھی کھیلیں گے، مگر ان کی حقیقی منزل اب کینیڈا ہے اور اگر ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی تو پھر وہ محرم کے دنوں میں کینیڈا یا لندن میں کسی بہت بڑی”عالمی کانفرنس“ میں شرکت کے لئے بھی جا سکتے ہیں اور اگر وہ چلے گئے تو پھر انہیں واپس کون آنے دیتا ہے۔مگر اب عمران خان کو بھی اپنا آپ سنبھالنے کی ضرورت ہے، وہ اپنے شب و روز کو ایک ایسے ”مشن“ میں تباہ نہ کریں جس سے وقت ضائع ہونے کے سوا کچھ نہیں مل سکتا، عمران خان کو اپنے ملتان کے حمایت یافتہ نومنتخب ایم این اے عامر ڈوگر سے ہی کچھ سیکھ لینا چاہئے کہ اپنے شہر کے حالات درست کرنے کے لئے اس نے جاوید ہاشمی کے گھر جا کے ملاقات کی۔ کیا عمران خان قومی اسمبلی میں اپنا اور اپنی قوم کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا؟

مزید :

کالم -