کیا بتائیں بیٹھے بیٹھے بات کیا یاد آ گئی (1)

کیا بتائیں بیٹھے بیٹھے بات کیا یاد آ گئی (1)

  

چلو آج شمشیروسناں کی بجائے طاﺅس و رباب کی بات کرتے ہیں۔

دفاعی تحریروں کی اردو زبان میں کمی کا فوج کو ایک فائدہ بھی ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ برصغیر میں (اور خصوصاً پاکستان میں) اُن آویزشوں، رقابتوں اور غیبتوں کی خبریں پڑھنے والوں کو نہیں مل سکیں جو پیشہ ءسپاہ گری میں عام پائی جاتی ہیں۔ عسکری اصطلاح میں اسے (Bickering)کہا جاتا ہے۔فوج ایک مقیّد اور محبوس معاشرہ ہوتا ہے جس کی اس ”صفت“ کا Exposureعوام میں اس لئے نہیں ہوپاتا کہ فوج اپنے ہی بھائی بندوں کو بدنام نہیں کرنا چاہتی ۔فوج کا اپنا ماحول، پروفیشنل رقابتوں اور آویزشوں سے اتنا لبالب ہوتا ہے کہ بس ” اسبغول اور کچھ نہ پھر ول!“

 فوجی ملازمت کے 29برسوں میں مجھے2900داستانیں(Episodes) ایسی بھی دیکھنے اور سننے کو ملیں کہ جو حسد، خوشی، غم اور مسرت سے بھرپور تھیں....شائد زندگی اسی کا نام ہے۔ جو قارئین فوج کو محض ایک منضبط ادارہ سمجھتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ زندگی اتنی منضبط نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی اس کو تنہا بھی چھوڑنا پڑتا ہے....یہ تو ایک جوئے رواں ہے۔اس کو پابندِ نظم وضبط کرکے اس سے کماحقہ حظ اٹھانا ممکن نہیں رہتا۔عسکری سروس تو ہے ہی ”تسلیمِ جاں“ کا کھیل۔اس میں اگر زندہ دلی اور زندگی کی دوسری رعنایاں یا بد صورتیاں نہ ہوں تو یہ اجیرن ہو جاتی ہے.... اس کی مزید تفصیل کبھی پھر۔

فی الحال میں قارئین کو اپنی عسکری سروس کا ایک Episodeسنانا چاہتا ہوں....

 جون 1980ءمیں میری پوسٹنگ ”برن ہال جونیئر سکول“ میں بطور ایڈم آفیسر(میجر کے رینک میں) کر دی گئی۔یہ سکول پریپ سے کلاس پنجم تک تھا۔ طلباء و طالبات کی تعداد کوئی 800کے لگ بھگ تھی، تدریسی عملہ سارے کا سارا خواتین پر مشتمل تھا۔ ایڈم سٹاف میں مرد زیادہ تھے اور خواتین کم تھیں۔

میری پوسٹنگ اس سکول میں معمول کی پوسٹنگ نہیں تھی۔ کئی افسروں کے انٹرویو کرکے ان میں سے میری سلیکشن کی گئی تھی۔اس پوسٹنگ کی ایک ”کشش“ یہ تھی کہ یہاں آرمی کی ریگولر سیلری کے علاوہ سکول کی طرف سے بھی الاﺅنس ملتا تھا اور سب سے بڑی سہولت یہ تھی کہ آپ کے بچوں کی تعلیم مفت تھی اور داخلے کا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوتا تھا۔ سکول میں ایڈمشن ٹیسٹ کی مشکلات پر ایک دو نہیں کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں۔سینکڑوں درخواست گزاروں میں سے ہر سال صرف 35،40بچے اور بچیاں داخل کی جاتی تھیں۔سکول کی آدھی تعداد ڈے سکالرز پر مشتمل تھی اور آدمی بورڈرز پر۔

جب بھٹو صاحب نے پرائیویٹ سکولوں کو نیشنلائز کیا تو اس برن ہال سکول کو بھی مشرف بہ نیشنلائزیشن ہونا پڑا۔سکول کے مالکان یعنی ڈنمارک کے فادرز (پاوری) اپنے وطنِ مالوف کو جا سدھارے۔ تقسیمِ برصغیر سے قبل یہ سکول سری نگر میں تھا۔ پنڈت نہرو نے اس تعلیمی ادارے کی کوالٹی ایجوکیشن کو اپنی کشمیری رعایا کے لئے موزوں نہ سمجھا ۔وہ لوگ کہ جو اس سکول کے کرتا دھرتا تھے، وہاں سے اٹھ کر پاکستان آ گئے۔یہاں آکر انہوں نے سری نگر کی فضاﺅں کے مماثل کوئی صحت افزاءمقام تلاش کرنا شروع کیا۔مظفر آباد اور مری سے ہوتے ہوئے وہ ایبٹ آباد میں آئے۔اُس وقت کے سرحد کے وزیراعلیٰ خان عبدالقیوم خان نے انہیں تارک الوطن ہندوﺅں کا ایک ہوٹل الاٹ کر دیا اور اس طرح اس تدریسی ادارے کی شروعات ہوئیں۔

سکول سٹاف کے دو حصے تھے، ایک ایڈمنسٹریٹو اور دوسرا تدریسی۔دونوں کا سٹاف ”شدید انگریزی زدہ“ تھا ۔حد یہ ہے کہ ہیڈ خاکروب بھی رواں انگریزی میں بات چیت کرتا تھا۔وضع قطع اور رنگ و روپ تو بھارتی خاکروبوں کا سا تھا، لیکن زبان وہی تھی جو انتظامیہ بولتی تھی۔تقریباً 400لڑکے لڑکیاں بورڈنگ ہاﺅس میں رہتی تھیں۔ہر کلاس کی ڈارمیٹری الگ تھی اور ایک میٹرن اس کی انچارج تھی۔دو میٹرن خواتین بھی جنوبی ہند سے تعلق رکھتی تھیں۔ان میں سے ایک کا نام مس ٹریسا تھا اور دوسری کا مس الزبتھ۔ دونوں کا رنگ و روپ تو گوا اور دیو کے باسیوں کا سا یعنی سانولا سلونا تھا لیکن لباس، وضع قطع اور زبان بالکل گوریوں جیسی تھی۔گفتگو کا لب و لہجہ بھی بڑا شُستہ و رُفتہ تھا۔لکھی پڑھی تو تھیں ہی ، انسانی نفسیات سے بھی بالکل اُسی طرح آگاہی رکھتی تھیں جس طرح انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے پبلک سکولوں کی میٹرن ہوتی ہیں۔لیکن گوا اور سری نگر کا ماحول الگ تھا اور ایبٹ آباد کا پاکستانی ماحول الگ تھا۔اس لئے یہاں انہیں سنبھل کر رہنا پڑتا تھا۔ مس ٹریسا شارٹ سکرٹ پہنتی تھی اور بچوں بچیوں پر حکم چلانا گویا ان کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ سکول کے پرنسپل بریگیڈیئر اعجاز چونکہ 1976ءسے یہاں پوسٹ تھے( اس وقت وہ لیفٹیننٹ کرنل تھے) اس لئے تدریسی اور ایڈمنسٹریٹو سٹاف کی نفسیاتی کیفیتوں کے خوب خوب شناسا تھے۔

تاہم میرے لئے یہ ایک نئی دنیا تھی.... کہاں فوج کا ماحول اور کہاں یہ 4 برس سے لے کر 9برس تک کے بچے اور بچیاں۔بس ہر آن ایک ہنگامہ سابپا رہتا تھا۔اس ماحول میں انگریزی بول بول کر میری فوجی انگریزی کا ستیاناس ہو گیا تھا۔بہرحال میں جو Episodeسنانے جا رہا ہوں وہ مس ٹریسا اور بگیڈیئر اعجاز کے باہمی تعلقات کے بارے میں ہے۔ سکول کے اوقات تو صبح 8بجے سے ایک ڈیڑھ بجے تک تھے۔لیکن بعدازاں بورڈرز کے اوقات بڑے بے ترتیب سے تھے۔پرنسپل صاحب دوپہر کا کھانا گھر سے کھا کر اور قیلولہ فرما کرفوراً واپس سکول آ جاتے تھے اور پھر رات گئے گھر لوٹتے تھے۔ان کے گھر والوں نے بھی اب چار پانچ برس کی جھک جھک کے بعد ان کے لئے زیادہ پریشان ہونا چھوڑ دیا تھا۔ویسے اعجاز صاحب بڑے مضبوط کردار کے آدمی تھے۔ لیکن جب انسان آٹھوں پہر صنفِ نازک کے حصار میں گھرا رہے تو کردار کتنا ہی مضبوط ہو، ناظرین (اور خاص کر پاکستانی ناظرین) کو بے وجہ شکوک و شبہات آ گھیرتے ہیں۔مَیں ان کو بڑا سمجھاتا تھاکہ خواتین سے اس قدر نرماہٹ سے پیش نہ آئیں۔ لیکن ان کا موقف تھا کہ اگر خواتین سے کام لینا ہے تو ان کی خوشنودی حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ان کا یہ دفاعی فلسفہ میری سمجھ میں کم کم آتا تھا۔میں وہاں جون 1980ءسے جون 1982ءتک یعنی صرف دو برس رہ سکا اور ان دو برسوں میں تقریبا دو ہزار ایسے Episodes ہوں گے جو میری برداشت کی آخری حدود کو کراس کر جاتے تھے۔اس کی تفصیل کئی نشستیں مانگتی ہے اور بعض اوقات یہ تفصیل لفظوں میں نہیں سما سکتی۔آبگینہ ءسماعت ،تندیءصہبا سے پگھل پگھل جاتا ہے۔

سکول میں چار ہاﺅس تھے اور ان کے الگ الگ ہاﺅس ماسٹر تھے جو خاصے پڑھے لکھے اور جہاندیدہ تھے!ان میں سے دو حضرات ایسے بھی تھے جو CSSکلیئر کرکے اپنی پسند کا محکمہ نہ ملنے پر اس سکول میں آ گئے تھے۔ان سے خوش گپیاں کرنا ایک ٹریٹ تھی۔دونوں شادی شدہ تھے لیکن بال بچے کسی اور شہر میں رہتے تھے ۔جب جی چاہتا رخصت لے کر بچوں کو مل آتے ۔سکول میں ویسے بھی موسم گرما میں ایک ماہ اور موسم سرما میں دو اڑھائی ماہ کی طویل تعطیلات ہوتی تھیں۔ ایڈم سٹاف کو البتہ ان تعطیلات کا کچھ فائدہ نہ تھا۔بہت سے انتظامی اور بندوبستی امور ان چھٹیوں میں انجام دینے ہوتے تھے، اس لئے ایڈمنسٹریشن آفیسر (راقم السطور) اس وقفہ ءفراغت سے محروم رہتا تھا۔

ہاﺅس ماسٹر اور میٹرن چونکہ بعد از اوقاتِ تدریس، بورڈرز طلباءو طالبات کے لئے سکول کے احاطے ہی میں رہتے تھے اس لئے زن و شو کی دوستیاں عام تھیں۔چار بجے سے پانچ بجے شام تک یہ بورڈرز طلباءو طالبات پی ٹی ماسٹر صاحبان کے حوالے کر دیئے جاتے تھے جو ان کو فرنٹیئر فورس ٹریننگ سنٹر کے وسیع و عریض سبزہ زاروں میں لے جا کر وہاں ڈرل اور دوسری کھیلوں کا اہتمام کیا کرتے تھے۔یہ بریک ہاﺅس سٹاف کے لئے نسیمِ جانفزاءکا ایک خوشگوار جھونکا ہوتی تھی۔میری مجبوری یہ تھی کہ سکول کے عین وسط میں میری رہائش گاہ تھی جس کے چاروں طرف Sun Roomsبنے ہوئے تھے۔ یعنی میں ہر وقت شیشے کے گھر میں رہتا تھا۔فیملی ساتھ تھی اس لئے تاک جھانک کی بدعت کا یارا بھی نہ تھا....یہ تفصیلات میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ قارئین کو وہ پس منظر مہیا کر سکوں کہ جو وہاں ایک روٹین تھا اور اسی روٹین کی آڑ میں ایسے ایسے وقوعے وقوع پذیر ہوتے تھے جو بعض اوقات ناگفتنی ہو جاتے تھے۔مثلاً مذکورہ بالا دونوں ہاﺅس ماسٹر صاحبان کی اپنی اپنی گرل فرینڈز تھیں۔ان کا نام لکھوں گا تو شائد کسی کی دل آزاری ہو جائے۔صرف اتنا بتاﺅں گا کہ یہ جوڑے (Pairs) رات گئے تک اپنے اپنے ہاﺅسز اور ڈارمیٹریوں کو چیک کرنے کے ”اوقات“ میں اپنی مشترکہ حرکات و سکنات کی چیکنگ کا جواز بھی فراہم کر دیا کرتے تھے۔

مَیں اپنے عہدے کے لحاظ سے ویسے تو ”ایڈم آفیسر“ تھا لیکن ساتھ ہی وائس پرنسپل ،سینئر ہاﺅس ماسٹر اور میس آفیسر بھی تھا۔چنانچہ چاروں ہاﺅسوں کے ہاﺅس ماسٹروں اور میٹرنوں کی اوور آل چیکنگ کی ذمہ داری بھی مجھ پر تھی۔مجھے ان کاموں کے لئے جو سٹاف دیا ہوا تھا اس میں ایک ریٹائرڈ صوبیدار میجر بھی تھے۔ صوبیدار میجر انار بادشاہ خٹک ملیشا کی کسی یونٹ سے ریٹائر ہو کر یہاں آئے تھے۔مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ میرے ڈائریکٹ انڈرکمانڈ ہونے کے باوجود ہر وہ بات بھی بریگیڈئر صاحب کو جا سناتے تھے جو ان کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔البتہ میری ضرورت ضرور ہوتی تھی۔چاروں میٹرنوں (ٹریسا، الزبتھ، خالدہ اور مسز افتخار) نسوانی اور جسمانی اوصاف سے سراپا متصف تھیں۔لیکن ایک دوسرے کی چغلی، حسد، طعنہ زنی، غیبت اور الزام تراشی کی 101 کہانیاں مجھے ہر روز اکیلے میں آکر بطور ”انٹیلی جنس رپورٹ“ بتائی اور سنائی جاتی تھیں۔ان میں بعض ڈبل کراس بھی تھیں، یعنی دونوں فریقوں کی جاسوسی کرتی تھیں حالانکہ ان کو اپنی جاسوسی کی کچھ خبر نہ تھی۔

مجھے صبح صبح خبر ملتی کہ فلاں Pairکل اندھیری رات میں دو بجے تک فلاں جگہ گفت و شنید اور راز و نیاز میں میں مصروف دیکھا گیا ہے، اس کی وجہ معلوم کی جائے۔میرے پاس جو سٹاف تھا وہ ماسوائے انار بادشاہ کے، سب کا سب سویلین تھا جسے انٹیلی جنس /جاسوسی کے اسرارو رموز کی کچھ خبر نہ تھی۔انادر بادشاہ کو کسی انٹیلی جنس کورس کی ضرورت نہ تھی۔وہ طبعاً شکی المزاج تھے اور کاروبارِ جاسوسی میں یہ خصوصیت ایک بڑا اثاثہ شمار ہوتی ہے۔

عجیب صورت حال تھی۔ جب مجھے مسلسل کئی روز تک ایک ہی قسم کی شکایات کسی Pair کے خلاف ملتیں تو میں کراس چیک کرنے کے بعد فریق متعلقہ کو دفتر میں بلاتا اور پوچھتا کہ رات کے دو دو بجے تک آخر کون سا لندن پلان ہے جو زیر بحث رہتا ہے۔

سردیوں میں 9بجے اور گرمیوں میں 10بجے لائٹ آف ہو جاتی تھی۔سب طلباءاور طالبات جبراً سلا دیئے جاتے تھے اور جب وہ سو جاتے تھے تو یہ Pairsاپنے اپنے کمروں سے نکل کر کھلے میدان میں آبیٹھتے تھے اور صورت حال وہی ہو جاتی تھی جو اس گیت میں غلام علی نے بیان کی ہے:

آدھی رات کو یہ دنیا والے جب خوابوں میں کھو جاتے ہیں

ایسے میں محبت کے روگی، یادوں کے چراغ جلاتے ہیں

        (جاری ہے)

مزید :

کالم -