اس نعرے بازی کا یہ محل نہ تھا

اس نعرے بازی کا یہ محل نہ تھا

  

لندن میں کشمیریوں کے تاریخی ملین مارچ کے موقع پر چند افراد نے اس وقت سٹیج کی جانب پانی کی بوتلیں اور جوتے پھینکے جب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سٹیج پر بیٹھے تھے اس موقع پر کچھ لوگوں نے ’’گو نواز گو‘‘ اور ’’گو بلاول گو‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔ یہ ہنگامہ کچھ دیر تک رہا تاہم پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے جلد ہی اس پر قابو پا لیا۔یہ ملین مارچ کشمیر کا ز کے لئے منعقد ہو رہا تھا اور بہتر یہ تھا کہ اسے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھا جاتا اور اس اجتماع میں کوئی ایسی بات نہ کی جاتی جس سے سیاسی وابستگیوں اور سیاسی عصبیتوں کا اظہار ہوتا، اس اجتماع میں تو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار ہی ہونا چاہئے تھا اور لندن میں مقیم جو لوگ اس اجتماع میں گئے تھے انہیں اس پہلوکو پیش نظر رکھنا چاہئے تھا لیکن بظاہر ایک سیاسی جماعت سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں نے ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگا دیئے۔ جن کا یہ کوئی محل نہ تھا، یہ جماعت یہاں پاکستان میں مختلف تقریبات میں ایسے نعرے لگا کر خوش ہوتی رہتی ہے اور کوئی اس کا برا نہیں مانتا، لیکن لندن میں کشمیریوں کے لئے منعقد ہونے والے اجتماع کے موقع پر اس نعرے کی کوئی تک سمجھ میں نہیں آئی، اس سے ایک تاثر تو یہ بھی ملا کہ پاکستانی قوم کشمیر جیسے مسئلے پر بھی ایک رائے نہیں رکھتی اور جو ملین مار چ کافی دن کی دوڑ دھوپ کے بعد منظم کیا گیا تھا اورجس کو رکوانے کے لئے بھارت نے برطانوی حکومت سے بھی رابطہ کیا جس کا اسے یہ جواب ملا کہ اظہار رائے کے بنیادی حق کے پیش نظر کشمیریوں کو ایسے مظاہرے سے نہیں روکا جا سکتا، بھارتی حکومت اس ناکامی پر خاصی جزبزتھی اور یہ عین ممکن ہے کہ اس نے ملین مارچ کے مثبت پیغام کو متاثر کرنے کے لئے کچھ لوگوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہو، جن لوگوں کو بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی خیالات سے اتفاق نہیں ہے اور جو حکومت کے بھی خلاف ہیں انہیں بھی ایسے نعرے لگانے سے پہلے یہ سوچنا چاہئے تھا کہ ان نعروں کا پیغام کیا جائیگا، ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے اندرون ملک اگر بعض تقریبات میں لگ رہے ہیں تو ان سے کوئیتعرض نہیں کرتا۔ ویسے بھی ملکی سیاست کا مقام اندرون ملک ہے۔ بیرون ملک نہیں، اس لئے بہت بہتر ہوتا کہ ایسا واقعہ نہ ہوتا، اب جب یہ واقعہ ہو گیا تو اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے، البتہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے گریز ہی بہتر ہو گا

مزید :

اداریہ -