عدالتوں کی عملداری کا دائرہ قبائلی علاقوں تک بڑھانے سے متعلق قرار داد منظور

عدالتوں کی عملداری کا دائرہ قبائلی علاقوں تک بڑھانے سے متعلق قرار داد منظور

  

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد سینیٹ میں متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ یہ قرارداد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی عملداری کا دائرہ قبائلی علاقوں تک وسیع کرنے سے متعلق ہے تاکہ فاٹا کے عوام کے انسانی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔سینیٹر فرحت اللہ بابر نے قرارداد میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 1-A(c) کے تحت فاٹا پاکستانی علاقہ ہے اور اس کے عوام کو یہ حق ہے کہ انہیں بھی وہی بنیادی حقوق میسر ہوں جو دیگر پاکستانی علاقوں کے عوام کو ہیں۔ تاہم آئین کا آرٹیکل 247(7) فاٹا میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی عملداری کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے اس لئے آئین کی اس شق کو ختم کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2012ءمیں خیبرپختونخواہ اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے آئین میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا تاکہ قبائلی علاقوں میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی عملداری قائم کی جا سکے۔ آئین کا آرٹیکل 144 کہتا ہے کہ اگر کوئی صوبائی اسمبلی قرارداد پاس کرے تو پارلیمنٹ کو اس کے مطابق قانون پاس کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کی اصلاحات کے لئے آل پولیٹیکل پارٹیز کمیٹی نے گیارہ نکاتی ایجنڈااختیار کیا ہے جس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 247 میں ترمیم کی جائے تاکہ فاٹا کے متعلق قانون سازی پارلیمنٹ کرے نہ کہ صدر۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل میں پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں پارلیمنٹ کو تجویز پیش کی تھی کہ آئین کے آرٹیکل 247(7)میں مناسب ترمیم کی جائے تاکہ قبائلی علاقے کے لوگ کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں عدالت سے رجوع کر سکیں۔

قرارداد

مزید :

علاقائی -