لساتی نہیں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں بنانے میں قباحت نہیں ہونی چاہئے، سیای رہنما

لساتی نہیں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں بنانے میں قباحت نہیں ہونی چاہئے، ...

  

                لاہور(محمد نواز سنگرا)لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر صوبے بن سکتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں باہمی ہم آہنگی کی بجائے نئے صوبوں کا مطالبہ بے وقت کی راگنی ہے جس سے انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔قوم کو ایک اور ملک کو مضبوط کرنے کے بعد آئینی اور قانونی طریقے سے مسائل کے حل کےلئے صوبے بنانے میں قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ان خیالات کا اظہار ملک کے سیاسی رہنماو¿ں نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔مسلم لیگ (ن)کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ نئے صوبے بننے چاہیں یا نہیں یہ بات اس وقت کرنی چاہیے جب پاکستانی قوم ایک ہوئے اور ملک میں اندرونی اور بیرونی انتشار کا خاتمہ ہو جائے اور ملک معاشی لحاظ سے خود مختار ہو جائے۔نئے صوبوں کےلئے ہوم ورک کرنے کے ضرورت ہے ایم کیو ایم مطالبے سے محض وقت ضائع کر رہی ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے کہا کہ لسانی بنیادوں پر صوبے بنانے سے اگر ایک ہزار صوبے بھی بن جائیں تو مسائل حل نہیں ہوں گے انتظامی بنیادوں پر صوبے بن سکتے ہیں لیکن ملک بحرانوں سے دوچار ہے موزوں وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔ایم کیو ایم کا مطالبہ بے وقت کی راگنی ہے اور انتشار کی صورت میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی بجائے قوم کو مزید مشکلات میں دھکیلا جا رہا ہے۔مسلم لیگ (ق)کے رہنما کامل علی آغانے کہا کہ جہاں مسائل ہیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو رہی وہاں صوبے بننے چاہیں لیکن لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر زبان کی بنیاد پر صوبے کا مطالبہ درست نہیں ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف تالپو ر نے کہا کہ قرار داد پاکستان پر سب سے پہلے سندھ نے دستخط کیے تھے اور کسی صورت بھی سندھ تقسیم نہیں ہو سکتا اور سندھ میں نئے صوبوں کا مطالبہ کرنے والے سیاست سے آو¿ٹ ہو جائیں گے۔ایم کیو ایم خواہ مخواہ معاملات میں بگاڑ پیدا کر رہی ہے اور متحد ہ کے مزید آگے بڑھنے سے دیکھنا ہو گا کہ ان کے پیچھے سازش کیا ہے۔ایم کیوا یم کے رہنما فیصل سبزواری نے کہا کہ اردو بولنے والوںکے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے جس وجہ سے نئے صوبے کا مطالبہ کیا اور ملک میں نئے صوبے ہی مسائل کا حل ہیں۔

سیاسی رہنمائ

مزید :

علاقائی -