صرف 4 گھنٹے کے نوٹس پر انڈسٹری کو گیس کی سپلائی بند ذمہ داران نقصان سے بے خبر

صرف 4 گھنٹے کے نوٹس پر انڈسٹری کو گیس کی سپلائی بند ذمہ داران نقصان سے بے خبر ...

  

               فیصل آباد(بیورورپورٹ)سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ کی انتظامیہ نے صرف چار گھنٹے کے نوٹس پر انڈسٹری کی گیس بند کر کے گرتی ہوئی دیوار کو ایک اور دھکا دے دیا پروسیس میں موجود لاکھوں میٹر کپڑا خراب ہونے سے انڈسٹری کی رہی سہی کمر بھی توڑ دی سوتیلے پن کی وجہ سے قریب المرگ پنجاب کی انڈسٹری کو ناقابل تلافی معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ لاکھوں مزدوروں کا روزگار بھی بری طرح متاثر ہوا پچیس اکتوبر کو 12بجے صرف چار گھنٹے کی اطلاع پر بند کی جانے والی گیس 26اکتوبر کو 6بجے تک بحال کر دینے کے وعدے کے باوجود کل 27اکتوبر تک بھی بحال نہ ہو سکی دریں اثناءاگر پندرہ نومبر تک انڈسٹری کو طے شدہ کوٹہ کے مطابق مستقل بنیادوں پر گیس سپلائی نہ کی گئی تو فیکٹریاں بند ہو جائیں گی جس کے نتیجے میں مزدور فارغ ہو جائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر ہو گی اس تمام سنگین صورتحال کا اظہار آل پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سہیل پاشا‘انرجی کمیٹی کے چیئرمین رانا عارف توصیف‘ سابق سینٹرل چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن اجمل فاروق‘ احمد کمال اور دیگر صنعتکار رہنماﺅں نے ایک مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا پیٹیا کے چیئرمین سہیل پاشا نے مزید کہا کہ جی ایس پی پلس کے باوجود برآمدات میں مسلسل کمی ہو رہی ہے جس میں پہلی سہ ماہی میں مجموعی برآمدات میں گزشتہ سال کی نسبت 10.16فی صد اور ٹیکسٹائل برآمدات میں چار فی صد کمی ہوئی ہے انہوں نے بتایا کہ جولائی میں ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی کا تناسب 2.37فیصد‘اگست میں 8.38اور ستمبر میں 10.16فیصد ہو گیا حکومت کی طرف سے دیا گیا 33فیصد گیس کے کوٹہ سے صرف انڈسٹری بمشکل اپنے آپ کو بچا رہی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب کی انڈسٹری سوتیلے پن کی وجہ سے قریب المرگ ہے اگر پنجاب کی انڈسٹری بند ہو گی تو لاکھوں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے یہ سب محکمہ سوئی گیس کی ناقص منصوبہ بندی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ہورہا ہے اور ملک کثیر زرمبادلہ سے محروم ہو جائیگا جبکہ ایکسپورٹرز کے فنڈز بھی نہیں دیئے جا رہے ہیں جو 60ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں اسلام آباد میں میٹنگ بھی ہوئی اور وفاقی وزیر ٹیکسٹائل نے اب تک جتنا بھی کام کیا ہے دیگر اداروں اور وزارتوں کی عدم دلچسپی سے اور عدم تعاون کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے جبکہ محکمہ سوئی گیس کی طرف سے پچیس اکتوبر کو بارہ بجے اطلاع دی گئی کہ چار بجے تک گیس بند ہوجائے گی 26اکتوبر کو چھ بجے تک دوبارہ چالوہو جائے گی لیکن 26 اکتوبر سے لیکر 27اکتوبر تک بحال نہ ہو سکی انرجی کمیٹی کے چیئرمین رانا عارف توصیف نے کہا کہ وفاقی منسٹر اسحاق ڈار نے مختلف میٹنگز میں برملا یہ تواظہار کیا کہ ڈالر کا ریٹ کم ہو گیا لیکن اس سلسلہ میں بزنس کے متعلقہ کسی بھی چیز کی قیمت کم نہ ہو سکی بلکہ وہ دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں یہی حالات گیس اور بجلی کے ساتھ ہوتے رہے ہیں پہلے تین ماہ میں برآمدات کی کمی ایک بلین تک ہو گئی ہے جو بڑھتی ہی جا رہی ہے جبکہ پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ان کی قیمتوں میں کوئی فر ق نہیں پڑا انہوں نے کہا کہ ہم سے قربانی مانگی جا رہی ہے ہم تو قربان ہو چکے ہیں اور کتنی قربانی کی ضرورت ہے یہی حالات رہے تو صرف پنجاب کی انڈسٹری میں برآمدات کی کمی میں دو بلین ڈالر تک اضافہ ہو جائے گا اور یہ سب کچھ 18ویں ترمیم کی وجہ سے ہوا ہے جس کی غلطی کا اعتراف وفاقی منسٹر اسحاق ڈار نے خود کیا ہے احمد کمال نے کہا کہ پنجاب کی صنعت کی ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے پنجاب کو پورے سال میں صرف 95دن جبکہ سندھ اور کے پی کے میں پورا سال تواتر سے گیس اور بجلی کی فراہمی دی گئی ہے پنجاب کی انڈسٹری کا دیگر صوبوں کی انڈسٹری کے ساتھ 85بلین کا فرق ہے اس وقت کھرڑیانوالہ میں 30فیصد انڈسٹری چل رہی ہے انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات ڈرائی پورٹ پر بھی پڑ رہے ہیں پہلے فیصل آباد ڈرائی پورٹ سے ہر ماہ تقریبا تین ہزار کنیٹنر جاتے تھے اور اب ان کی تعداد صرف پچاس کے قریب رہ گئی ہے ان حالات میں حکومت کی طرف سے دیا گیا 33فیصد کوٹہ لائف لائن ہے اگر یہ بھی بند ہو گیا تو پنجاب کی انڈسٹری مکمل طور پر جام ہو جائیگی اور لاکھوں مزدوروں کو حکومت کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو جائیگی

گیس سپلائی

مزید :

علاقائی -