غذائی قلت سے موت کا رقص جاری، چار بچوں کی حالت تشویشناک ہوگئی

غذائی قلت سے موت کا رقص جاری، چار بچوں کی حالت تشویشناک ہوگئی
غذائی قلت سے موت کا رقص جاری، چار بچوں کی حالت تشویشناک ہوگئی

  

تھر(مانیٹرنگ ڈیسک)تھر میں قحط کی صورتحال برقرار اور موت کا رقص جاری ہے ، رواں ماہ غذائی قلت کے باعث جانی کی بازی ہارنے والے بچوں کی تعدد اٹھائیس تک جا پہنچی ، چھاچھرو اور ڈاھلی 114 ٹیوب ویل ناکارہ ہونے کی وجہ سے پانی کا بحران سنگین ہو گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق تھر کے باسیوں کی مشکلات کم نہ ہو سکیں ، ایک طرف خشک سالی اور قحط دوسری جانب بیماری اور پانی کا بحران ،غذائی قلت کے مارے بچے موت کی وادی میں اتر رہے ہیں۔ دیہی علاقوں سے لائے گئے غذائی قلت سے متاثرہ بچوں کا سول ہسپتال مٹھی کے نیوٹریشن وارڈ میں علاج کیا جا رہا ہے۔ہسپتال ذرائع کے مطابق سول ہسپتال مٹھی میں غذائی قلت سے بیمار 30 بچے زیر علاج ہیں جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہونے پر حیدر آباد منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ نرسری وارڈ میں زیر علاج مزید دو بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے دوسری طرف جو زندہ ہیں انہیں پانی نہیں مل رہا۔ چھاچھرو اور ڈاھلی تحصیل میں 114 ٹیوب ویل ناکارہ ہونے کے بعد پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا۔ 75 سے زائد ٹیوب ویلوں کے آلات بھی غائب ہیں۔ چھاچھرو انتظامیہ کو ملنے والی دو کروڑ کی گرانٹ شہر کیلئے 7 سال کے عرصے میں پانی کی فراہمی کا مسلہ حل نہ کر سکی۔ شہری پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہیں ، حتی کہ نقل مکانی کرنے والے قافلوں کو بھی پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ اس حالت زار پر سندھ حکومت چپ سادھے بیٹھی ہے اور سسکتے بلکتے متاثرہ افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔

مزید :

تھرپارکر -اہم خبریں -