داعش کا موجد سامنے آ گیا

داعش کا موجد سامنے آ گیا
 داعش کا موجد سامنے آ گیا

  

بیسویں صدی کے اختتام پر ایک امریکی پیداوار یہودی اخبار نویس تھا، جس نے اسلامی دُنیا کو ایک بار پھر مغرب کے صلیبی سامراجیوں کا غلام بنانے اور لوٹ مار کرنے کی سکیم پیش کی تھی۔ اس یہودی کا نام تو(تھامس فریڈ مین) تھا، مگر مَیں اسے غلط یا صحیح ’’فراڈ مین‘‘ سمجھا تھا۔ اس کا ایک کالم بہت مشہور ہُوا تھا، جس کا عنوان تھا۔۔۔ (عالم اسلام ہر حال میں حالتِ جنگ میں رہے) ۔۔۔اس کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی دُنیا میں استحکام قائم نہ ہونے دیا جائے، یعنی یا تو کوئی نہ کوئی سامراجی اسلامی دُنیا سے جنگ کرتا رہے یا خود مسلمان آپس میں لڑتے رہیں تاکہ استحکام کی صورت نہ پیدا ہو سکے، چنانچہ نئے سامراجیوں نے آخری طریقہ مفید اور کامیاب سمجھا ہے اور اس کی عملی صورت یہ ہے کہ خود مسلمان افراد یا گروہوں کو تربیت دے کر مسلمان ملکوں میں سرمایہ اور اسلحہ سمیت داخل کر دیا جائے،چنانچہ اس وقت سے یہی مفید اور کامیاب سلسلہ جاری ہے اور بڑے خوفناک نتائج دے رہا ہے، اب تو ہر مسلمان دشمن فرد یا مُلک اس مد میں اپنا سرمایہ پانی کی طرح بہا رہا ہے، جن میں اسرائیل اور بھارت سب سے آگے ہیں! لیکن حیران کن اور شرمناک بات یہ ہے کہ اس مسلمان دشمن گھناؤنے دھندے کے لئے خود مسلمان کام آنے کے لئے ایک دوسرے پر بازی لے جانے میں منہمک نظر آتے ہیں۔اگرچہ ان کی باگ ڈور براہِ راست سامراجی درندوں کے ہاتھ میں ہی ہوتی ہے!

مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں ’’القاعدہ‘‘ نامی گروہ سب سے آگے تھا، جس کی باگ ڈور تو امریکہ کے ہاتھ میں تھی، مگر سرمایہ کاری سود خور امریکی یہودیوں کے ذمہ تھی، اسامہ بن لادن کا رویہ اور انجام القاعدہ کے زوال کا باعث بنا ہے، اب یہ کام ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ’’داعش‘‘ کے نام سے اور براعظم افریقہ میں ’’بوکو حرام‘‘ کے عنوان سے جاری ہے۔ باقی چھوٹے موٹے بے شمار گروہ ہیں، جو پہلے تو القاعدہ کے خرچے پر چلتے تھے، اب’’داعش‘‘ کے منحوس سایہ میں آ رہے ہیں۔ مغرب کے صلیبی سامراج کے نظریاتی دہشت گرد اور اسلام دشمن ٹونی بلیئر(سابق وزیراعظم برطانیہ) نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ داعش کا موجد تو وہ ہے، ہمارے دور میں صلیبی مغرب کے دو سامراجی ٹونی بلیئر اور جارج ڈبلیو بش بہت بڑے دہشت گرد اور اسلام دشمن ہیں۔ ان دونوں’’بزرگ دہشت گردوں‘‘ نے اپنے اپنے دائروں میں آخری الیکشن اِسی حیثیت سے جیتے تھے، بش کی آخری فتح صلیبی دہشت گرد اور مسلمان دشمن ہونے کی بنیاد پر تھی، یہی حال اور موقف ٹونی بلیئر کا تھا، اسی بنیاد پر بش نے ٹونی بلیئر کو مشرق وسطیٰ میں مغرب کے صلیبی سامراجیوں کا نمائندہ اور سفیر مقرر کروایا تھا، اسی دوران ٹونی بلیئر نے داعش کو تیار کیا ہے، اسی لئے تو کل اس ہی نے اپنے انٹرویو میں بڑے فخر سے اعلان کیا ہے کہ داعش کے قیام میں اس کا بھی ہاتھ ہے۔

ٹونی بلیئر کا یہ اعلان تو بڑا شرمناک ہے کہ عراق پر حملہ کرنے میں بش کا دُم چھلا (بلکہ کتے کی دُم) بن کر اس نے بڑی حماقت کی تھی! یہ حماقت دس لاکھ سے زائد عراقیوں کی موت اور ہنستے بستے مُلک کی بربادی کا سبب بن گئی، اس لئے ٹونی اور بش دونوں خوفناک جنگی مجرم ہیں، لہٰذاان دونوں پر خوفناک اور شرمناک جنگی جرائم کے مقدمات چلنے چاہئیں! یہ تو ہٹلر کے ’’ہولو کاسٹ‘‘ سے بھی بڑے جرائم ہیں، مگر کیا اسلامی دُنیا کے حکمرانوں اور لیڈروں میں ایمان اور محبت کی کوئی رمق باقی رہ گئی ہے؟ کیا وہ بول سکتے ہیں؟لارنس آف عریبیہ نے عثمانی خلافت کے زوال اور عرب، ترک عداوت کے لئے کئی سال کام کیا تھا، مگر ٹونی بلیئر نے تو جارج بش کے سایہ میں چند سال کے اندر ہی مشرق وسطیٰ کو تہہ و بالا کر کے داعش بھی بنا دی ہے اور اب اس کا فخر یہ اعتراف بھی کر رہا ہے، کیا اس دور کے ان بزرگ سامراجی دہشت گردوں اور مسلمان دشمنوں، بلکہ انسان دشمنوں سے حساب نہیں مانگا جائے گا؟ اسلامی دُنیا کے نام نہاد حکمرانوں اور لیڈروں کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے؟

مزید :

کالم -