مریم نواز کا امریکہ جانا مفید ثابت ہوا

مریم نواز کا امریکہ جانا مفید ثابت ہوا

  

بظاہر’’ کامیاب‘‘ امریکی دورے کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف پاکستان پہنچ گئے ہیں اگر اس دورے کے خدوخال کا جائزہ لیا جائے اور اس کے نتائج کو سامنے رکھا جائے تو ان کا یہ دورہ 2013 کے امریکی دورے سے زیادہ مختلف نہیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں امریکہ نے پاکستان کو اپنا سٹرٹیجک پارٹنرڈیکلر کیا ہے جو پہلے بھی کہتا رہتا ہے لیکن سٹرٹیجک پارٹنر کا کردار کیا ہے اس کا تعین بھی امریکہ کو ہی کرنا ہے ۔ وزیراعظم اپنے ایجنڈے میں دفاع تعاون‘ کولیشن سپورٹ فنڈ ٹیکسٹائل کی برآمدات انرجی مسائل سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی‘ طالبان مذاکرات اور پاک بھارت تعلقات سمیت بات چیت کے لئے واشنگٹن پہنچے تھے لیکن امریکہ نے ایجنڈے سے ہٹ کر لشکر طیبہ اور حقانی گروپ کی پاکستان میں مداخلت کو مین ایشو بنا کر پیش کیا۔ اور مشترکہ اعلامیہ میں بھی پاکستان کو یہ کہنا پڑا کہ وہ لشکر طیبہ اور طالبان کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف امریکہ پاکستان سے طالبان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہا ہے دوسری طرف مذاکرات کی میز پر لانے کی بات بھی کرتا ہے۔ یہ دونوں کام بیک وقت نہیں ہوسکتے ایجنڈے کے باقی نکات کے حوالے سے پاکستان کو بظاہر کوئی بڑی کامیابی نہیں ہوئی مشترکہ اعلامیہ تجارت اور دفاعی ضروریات کے حوالے سے خاموش ہے کولیشن سپورٹ فنڈ کا معاملہ بھی اوبامہ نے کانگرس کو بھجوا دیا ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ پاکستان پوری قوت سے ضرب عضب میں مصروف ہے امریکہ نے اس معاملے کو بھی جان بوجھ کر موخر کردیا ہے تاکہ وہ مستقل قریب میں جنرل راحیل شریف کے دورے پر ان معاملات پر فیصلے کریں یہاں پر امر قابل ذکر ہے کہ امریکی اخبارات جن میں ’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ پیش پیش ہے نے اپنے ادارتی مضامین اور تجزیوں میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جنرل راحیل شریف سے معاملات طے کرے۔ اور یوں بڑی خوبصورتی سے پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کو الگ الگ انداز میں پیش کیا گیا۔ بظاہر یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دراصل فوجی قیادت ہی فیصلہ کن قوت ہے بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے ڈوزئر کو بھی اہمیت نہیں دی گئی نہ ہی مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جارحیت کی مذمت کی گئی بلکہ یہ کہہ کر جان چھرائی گئی کہ پاکستان اور بھارت اپنے مسائل خود بیٹھ کر حل کریں ۔جیسا کہ امریکی وزارت خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے دیئے گئے بھارتی دہشت گردی کے شواہد پر ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ امریکہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دونوں ممالک امریکی مداخلت کے بغیر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے معاملات خود طے کریں۔امریکہ نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی ثالثی کی قرارداد کو بھی مسترد کردیا وزیراعظم چاہتے تھے کہ امریکہ بھارت پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے کیونکہ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارتی مداخلت ہے بھارت’’ را‘‘ کے ذریعے بلوچستان‘ فاٹا‘ اور کے پی کے میں کھلم کھلا مداخلت کررہا ہے لیکن امریکہ نے اس بات کو بھی نظر انداز کردیا ہے۔دراصل امریکہ بھارت کو ہی اپنا سٹرٹیجک پارٹنر سمجھتا ہے امریکی انتظامیہ نے سول جوہری توانائی پر تعاون کی بجائے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر سوالات کھڑے کئے ہیں اور وزیراعظم بھی یقین دہانی کراتے رہے کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے اور چھوٹے جوہری ہتھیار پاکستان نے اپنے دفاع کے لئے بنائے ہیں کیونکہ اسے بھارت سے شدید خطرات لاحق ہیں۔

وزیراعظم اپنے دورہ امریکہ سے قبل اگر پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کی قیادت سے باہم مشاورت کے بعد امریکہ جاتے تو ان کی بات میں زیادہ وزن ہوتا اور نواز شریف اپنے مطالبات منوانے کی بہتر پوزیشن میں ہوتے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاک امریکہ مشترکہ اعلامیہ کو بھارتی حکومت نے ویلکم کیا اور خوشی کا اظہار کیا جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اعلامیہ بھارت کے نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا اور مذاکرات کے دوران یہ اعلامیہ جاری کردیا گیا حالانکہ مشترکہ اعلامیہ ہمیشہ مذاکرات کے بعد جاری ہوتا ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اعلامیہ کی ترتیب ملاقات سے پہلے ہی کردی گئی تھی اس وقت بھارت اور امریکہ کا سیاسی رومانس چل رہا ہے امریکہ عملاً بھارت کو ہی اپنا سٹرٹیجک پارٹنر سمجھتا ہے اور پاکستان کے کردار کو شکوک و شہبات کی نگاہ سے دیکھتا ہے بھارت امریکہ کے تعلقات کا یہ حال ہے کہ سول نیوکلیئر پروگرام اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں رسائی حاصل ہے بھارت کے ایک لاکھ 7 ہزار طلباء امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ پاکستانی طلباپر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں اور اس وقت صرف 5 ہزار طلبا امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اگر پاک امریکہ تجارت کا جائزہ لیں تو تجارت کا حجم مودی دورے کے بعد دگنا ہوچکا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان سے معاملات بھارتی لابی کی مشاورت سے طے کررہا ہے اس دورے میں پاکستان کو جو سب سے بڑی کامیابی ملی ہے وہ مریم نواز کا مشعل اوبامہ کے سامنے تعلیم کے حوالے سے کامیاب مقدمہ پیش کرنا ہے جس کے نتیجہ میں تعلیمی امداد میں 100 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا اس لحاظ سے پاکستان کی نوجوان قیادت کے تعلیمی مستقبل کو استحکام دینے میں مدد ملے گی اور اس اعتبار سے مریم نواز کا امریکہ جانا بڑا سودمند ثابت ہوا ہے۔ اگر مودی نواز شریف دورے کا تقابل کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ مودی کو واشنگٹن ائیرپورٹ پر اوبامہ اور ان کی اہلیہ لینے آئی تھیں جبکہ وزیراعظم پاکستان کو وزارت خارجہ کے ایک افسر نے خوش آمدید کہا ۔ امریکہ کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ بھارت کے مقابلے میں وہ پاکستان کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔

مزید :

کالم -