’’لیٹر بم‘‘ کے ذریعے خاوند کا انتقام

’’لیٹر بم‘‘ کے ذریعے خاوند کا انتقام
’’لیٹر بم‘‘ کے ذریعے خاوند کا انتقام

  



عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے امریکہ اور یورپ میں شادی شدہ جوڑے نباہ نہ ہونے پر باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں یا طلاق دینے کے بعد بھی دوست رہتے ہیں۔ اتنے سالوں میں ہم نے امریکہ و کینیڈا جیسے ملکوں میں جرائم کو پھوٹتے دیکھا ہے ،حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ امن پسند اور ترقی یافتہ ممالک ہیں لیکن جرائم پرقابو پانا ان کے لئے بھی مشکل ہوتا ہے۔پھر پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں پر بڑے ملکوں کی ناراضی چہ معنی دارد۔یہ واقعہ جان کر تو آپ حیران رہ جائیں گے جو میں آپ کو سنا رہا ہوں کہ بم بنانا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا اور اسکے استعمال کا یہ انداز تو بڑا ہی خطرناک ہے۔

کینیڈا کے شہر’’ ونی پیگ‘‘ میں عدالت میں ایک 51سالہ شخص گاڈرواسمل کے خلاف ایک کیس کی سماعت ہورہی ہے جس میں شوہراسمل نے بیوی سے علیحدگی کے بعد بیوی کی ملازمت کے پتہ اور اس کے دونوں وکلاء کے دفاتر میں ’’لیٹر بم‘‘ بھجوائے جن میں ایک ’’لیٹر بم‘‘ خاتون وکیل ماریہ کے کھولنے کی کوشش میں پھٹ گیا اور دھماکہ کے نتیجہ میں خاتون وکیل کے دونوں ہاتھ شدید زخم ہوگئے اور بعدازاں ہسپتال میں اس کا دایاں ہاتھ کاٹنا پڑا جبکہ بائیں ہاتھ کو سرجری سے بچالیا گیا۔ دیگر دو ’’لیٹر بم‘‘ جو سابقہ بیوی اور اس کے دوسرے وکیل جارج کے پتہ پر بھجوائے گئے تھے بروقت اطلاع ہونے پر پھٹنے سے پہلے ضائع کردئیے گئے تھے۔

پولیس نے اسمل کو گرفتار کرلیا اور وہ گزشتہ دو سال سے جیل میں ہے۔ اس دوران ضمانت درخواست کی سماعت گرفتاری کے چند ماہ ہوئی تھی مگر عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور درخواست ضمانت خارج کردی تھی۔ ملزم اسمل نے جاری سماعت کے دوران عدالت سے استدعا کی تھی کہ اس کی درخواست ضمانت پر نظر ثانی کیلئے دوسرے شہر کے جج کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ انصاف ہوسکے مگر کورٹ نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور سماعت جاری رکھی ہے۔

اب اس کیس میں گواہان، جن میں پولیس آفیسر بھی شامل ہیں، کے بیانات اور ثبوت پیش کئے جارہے ہیں۔ جن میں پولیس نے بتایا ہے کہ یہ ’’لیٹر بم‘‘ بظاہر ایک خالی دستانہ دکھائی دیتا تھا اور بالکل شبہ نہیں ہوتا تھا کہ اس میں دھماکہ خیز مواد ہوگا۔ ملزم اسمل نے صحت جرم سے انکار کیا ہے اور اس کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس کا موکل کوئی جرائم پیشہ شخص نہیں بلکہ بے گناہ ہے۔ عدالت میں کچھ دستاویزات پیش کی گئی ہیں کہ جوڑے کی شادی 1983ء میں جرمنی میں ہوئی تھی اور 2004ء میں علیحدگی ہوگئی مگر چونکہ دونوں کے کئی کاروبار بھی تھے اور ان پر تنازعات بڑھ گئے اور سابقہ بیوی نے اپنے حصہ کیلئے عدالتون میں کیس دائر کررکھے تھے اور سابقہ خاوند اسمل نے اپنی نوعیت کے انوکھے ’’لیٹر بم‘‘ تیار کرکے بیوی اور اس کے وکیل سے بدلہ لینے اور انہیں نقصان پہنچانے کا انوکھا منصوبہ تیار کیا تھا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ