پاکستان کے ”شرابی بچھڑے“ جن کا گوشت بیرون ملک انتہائی مہنگا بیچا جاتا ہے،یہ گوشت فی کلو کتنے کا پڑتا ہے ، قیمت سن کر ہی آپ کے ہوش اڑجائیں گے

پاکستان کے ”شرابی بچھڑے“ جن کا گوشت بیرون ملک انتہائی مہنگا بیچا جاتا ہے،یہ ...
پاکستان کے ”شرابی بچھڑے“ جن کا گوشت بیرون ملک انتہائی مہنگا بیچا جاتا ہے،یہ گوشت فی کلو کتنے کا پڑتا ہے ، قیمت سن کر ہی آپ کے ہوش اڑجائیں گے

  

لاہور(ایس چودھری )پاکستان بھی دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونے لگا ہے جو گوشت کی مختلف اقسام بیرون ملک ایکسپورٹ کرتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں محدود سطح پر ”کوگو میٹ“ کی ایک انتہائی خاص قسم تیار کرکے خلیجی ممالک کے علاوہ یورپ کو بھی ایکسپورٹ کی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے دور افتادہ علاقہ بھکر میں کوگو میٹ تیار کرنے کے لئے بچھڑوں کو بئیر اور آلو جیسی خوراک مہیا کرکے پالا جاتا ہے جبکہ ان بچھڑوں کو انتہائی مہنگی ویکسی نیشن بھی کیا جاتی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ کوگومیٹ امریکہ میں خاص طور پر مہنگے داموں بکتا ہے جو کم از کم اٹھائیس ہزار روپے فی کلو ہوتا ہے ۔یہ گوشت صرف شوقین امراءہی کھاتے ہیں۔اب عرب ملکوں میں بھی یہ گوشت انڈیا سے سپلائی کیا جانے لگا ۔پاکستان میں فی الحال ایک ہی کمپنی نے کوگو میٹ کے بچھڑوں کی نسل تیار کی ہے جسے بئیر پلائی اور آلو کھلاکر پروان چڑھایا جاتا ہے ۔پاکستان میں کوگو میٹ تیار کرنے والی کمپنی کے ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے چیلنج سمجھ کر اس کام کی حامی تو بھر لی اور سولہ ہزار روپے فی کلو کے حساب سے یہ گوشت ایکسپورٹ کیا ہے لیکن اب اندازہ ہوا ہے کہ ان بچھڑوں کو دی جانے والی غذا کی مناسبت سے سولہ ہزار روپے فی کلو کا ریٹ بہت کم ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شروع میں ہم سب کا خیال تھا کہ بئیر پلانے سے گائے کے بچھڑے شرابی ہوجائیں گے ،اس لئے مال مویشی پالنے والوں نے انہیں شرابی بچھڑے بھی کہنا شروع کردیا تھا کیونکہ جو بچھڑے بئیر کے عادی ہوجاتے ہیں وہ سادہ پانی نہیں پیتے ۔ذرائع کے مطابق بچھڑوں کو دی جانے والی بئیر عام طور پر ہوٹلوں میں بکنے والی مشہور بئیر کی طرح نہیں ہوتی بلکہ یہ بئیر سادہ طریقے سے ڈرموں میں مہیا کی جاتی ہے جو الکوحل سے پاک ہوتی ہے ۔یہ بئیر پینے سے جانور کے گوشت میں لذت پیدا ہوتی اور انکے پٹھے مضبوط ہوجاتے ہیں ۔اس غذا کی وجہ سے بچھڑے ہر طرح کے جراثیم سے بھی پاک ہوتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق انڈیا کوگو میٹ کا بڑا ایکسپورٹر بن چکا ہے اور اسکے بڑے خریدار عرب ممالک ہیں ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /کسان پاکستان