اکتوبر میں ”مارچ“

اکتوبر میں ”مارچ“

  



مولانا فضل الرحمن ایک تجربہ کار و عملی سیاست دان ہیں، بازارِ سیاست میں ان کا کاروبار چل رہا ہے۔سکہ رائج الوقت کی رعایت سے ہمارے ہاں، جو شخص کسی بھی شعبہئ حیات میں جائز و ناجائز ذرائع سے اپنے ”مفادات“ کا حصول ممکن بنا لیتا ہے، وہ کامیاب ہے!! انہوں نے ابتدائے کار میں ہی لیلی ئ اقتدار کا گھونگھٹ اٹھایا تھا، اور موجودہ حکومت سے قبل قریباً تیس برس ”وصل“ کے مزے لوٹے۔ اب ”فصل“ درپیش آیا تو بہت ہی زیادہ اضطراب،بلکہ انتشار کا عین چوراہے میں اظہار ہوا جاتا ہے۔ وہ مجنوں نہیں،باوجودیکہ ہیں! ہمیں جمعیت العلمائے اسلام کے ماضی و تاریخ میں جھانکنا ہے، نہ عمرانی حکومت و طرزِ حکومت کی طرف داری منظورہے!لیکن ان کا آزادی مارچ یا دھرنا عوام کی سمجھ سے بالا ہے۔معمے سے بڑھ کر معمہ!”دیتے ہیں دھوکا، یہ بازی گر کھلا!“ ایوانِ حکومت میں نہ ہونے کا مطلب شاید،مچھلی کا پانی سے باہرہونا ہے۔ماہیئ بے آب کا تڑپنا، کھڑکنا اور پھڑکنا دیکھا نہ جائے! کیا یہ پہلی اسمبلی ہے،جس پر صحیح یا غلط ”سلیکٹڈ“ کا الزام آیا؟ مولانا تو روزِ اول سے ہر حکومت پر ہنستے مسکراتے ”برداشت“ ہی کرتے چلے آئے ہیں۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن و ق) کے جملہ ادوار صاف ستھرے تھے؟ ایجنسیوں کی حکومت نہ خفیہ ہاتھ اور مداخلت؟؟ عجب ہے اور غضب ہے کہ گزشتہ عہد میں کبھی ان کی دینی و قومی غیرت نہیں پھڑکی! بالفرض حکومت کا حصہ ہوتے تو ان کا موقف سُننا چاہئے تھا! کاروبارِ سیاست، جیسا کہ کہا جاتا ہے،ہمیشہ سے عوام کے حافظے کی کمزوری پر قائم ہے۔نہیں تو یہ بازار اب تک بند ہو چکا ہوتا! آخر کیا وجوہات ہیں کہ مولانا قبلہ سے عمران خان کی حکومت بالکل بھی برداشت نہیں ہو رہی؟ ان کے اضطراب کا حقیقی سبب تہہ میں اُتر کر دیکھا جانا لازم ہے۔یہ کوئی نفسیاتی مسئلہ تو نہیں؟ قبلہ مولانا کو مسخرہ یا کارٹون ٹھہرانا محض فضول و نامعقول اور ناروا و بے جا ہے۔یہ سوال مگر باقی ہے کہ اس دوراہے پر وہ چاہتے کیا ہیں؟ اور کیوں؟؟ ان کی منزلِ مراد کیا ہے؟ پورے ملک میں تجزیوں اور تبصروں کا ایک بھونچال آیا ہوا ہے۔ ہر ”نسل“ کی آراء! جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال مزید ملنے پر فوجی قیادت میں تناؤ کا مظہر! وزیراعظم کو واپس زمین پر لانے کا ایک آزمودہ داؤ!! معروف ”پرندے“اپنی اپنی بولیاں بول رہے اور قلبی حسرت کو حقیقت کارنگ دینے پر بضد ہیں!

لکھ لیجیے کہ مولانا کے مارچ یا دھرنا سے کچھ بھی نہیں ہونے جا رہا۔اگر کوئی مٹھیوں میں ہَوا بند دیکھنا چاہتا ہے تو دیکھے! خواب دیکھنے پرکوئی پابندی نہیں۔خیالی پلاؤ ہی پکانے ہیں تو مصالہ جات کی کمی کیوں؟ یہ سارا عمل تو تالاب میں فقط ایک پتھر پھینکنے جیسا ہے۔ سطح پر کچھ دیر کے لئے چند لہریں نمودار ہوں گی، طوفان کی طرح آئیں گے اور ”ٹھنڈی ہوا“ کی طرح چلے جائیں گے۔ہاں! یہ جلد(چند ماہ) یا بدیر(ایک برس تک) اسی ”ناجائز“ (سلیکٹڈ) حکومت کا جائز(الیکٹڈ) حصہ بننے جا رہے ہیں۔ملک و قوم کے بہترین مفاد میں کیا نہیں ہوا؟ کون نہیں کر سکتا اور کب نہیں ہوا؟ یہ بات ایک مفروضے کی بنیاد پر کہی جا رہی ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ مولانا محض ایک وزارت کی مار ہیں۔ بدزبان کہیں کے! دودھ کالا اور شہید بھی کڑوا ہو سکتا ہے؟ مولانا صاحب ایک تجربہ کار اور عملی سیاست دان ہیں۔تجربہ کار اتنے کہ تیس سال حکومت میں گزار دیئے اور عملی اس قدر کہ ”وکی لیکس“ میں بھی نام آیا۔ یہ خاصے دوراندیش ہیں، اور اکثر دور ہی کا سوچتے ہیں۔

اگر اب وہ کچھ ایسا کرنے جا رہے ہیں تو مضائقہ و عجوبہ؟ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ یا دھرنے سے قطع نہیں،ناگزیر ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے۔قابلیت کے جوہر تو کھل ہی چکے، جبکہ مقبولیت برق رفتاری سے بکھرتی چلی جاتی ہے۔وزیراعظم نے جو خواب دیکھے یا دکھائے تھے، اب قوم کی ذرا آنکھ کھلی تو تعبیر پر خود رونا آیا! ستم بالائے ستم، لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بھی خشک ہوتے جاتے ہیں،ابھی تک مثبت پہلو سے کچھ خاص نہیں بدلا! اگر یہی تبدیلی ہے تو نامبارک! حضور!”اب نہیں تو کب؟“ تم نہیں تو کون؟؟

مزید : کالم /رائے