ٹریفک کا مسئلہ: دو اہم تجاویز

ٹریفک کا مسئلہ: دو اہم تجاویز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ہمارے محبوب وزیراعظم عمران خان کے دور میں مسائل بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں،جن کا اظہار اب ان کے پرانے ساتھی بھی کرنے لگے ہیں۔لیکن بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کا تعلق وسائل سے نہیں،ہماری اپنی غلط پالیسیوں سے ہے۔ان میں سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے۔ بظاہر یہ مسئلہ معمول کا ہے،لیکن روز بروز اس میں گھمبیرتا آتی چلی جا رہی ہے۔اس کے اسباب کئی ہیں۔اول تو یہ کہ ہماری سڑکیں آج بھی اتنی ہی ہیں،جتنی آج سے پچاس سال پہلے تھی،لیکن پہلی والی گاڑیوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹریفک کے مسئلے کا ایک باعث تعلیمی اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی ہے۔ نہ صرف یہ کہ تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھ رہی ہے،بلکہ ان تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

یہ تعلیمی ادارے زیادہ تر گنجان آباد علاقوں میں عین سڑکوں کے کنارے واقع ہیں۔ان تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کے وقت گاڑیوں کا ایک ہجوم بے کراں ہوتا ہے۔گرلز کالجز اوریونیورسٹیوں کے باہر صورتِ حال کچھ زیادہ ہی خوفناک ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ امتحانی مراکز بھی گنجان سڑکوں پر ہیں۔ہمارے ٹریفک اہلکار ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے اپنی سی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کی ساری محنت اور کاوش رائیگاں جاتی ہے۔وہ بے چارے اِدھر اُدھر دوڑتے بھاگتے نظر آتے ہیں لیکن ٹریفک کی چال ڈھال وہی رہتی ہے، جو روز کا معمول ہے۔بات اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ گھر سے نکلنے سے پہلے کسی نہ کسی ذریعے سے ٹریفک کی معلومات حاصل کرنا پڑتی ہیں کہ کہیں ٹریفک جام تو نہیں۔ ٹریفک جام ہونے کا دوسرا بڑا سبب آئے روز ہونے والے احتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوس ہیں، حکومت دفعہ 144 کے تحت شہر کی بڑی سڑکوں پر مظاہروں پر پابندی لگاتی ہے لیکن پھر کوئی ایسا موقع آ جاتا ہے کہ خود حکومت کو،انھی سڑکوں پر، کبھی کسی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے، کبھی عالمی سطح پر کیے گئے کسی فیصلے کی مذمت کے لیے مظاہروں کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ یوں حکومت اپنے مخالفین کے لیے خود ہی راہ ہموار کر دیتی ہے۔


ٹریفک کا مسئلہ اب اتنا گھمبیر ہو چکا ہے ٹریفک پولیس سے زیادہ، عام لوگ سوچنے لگے ہیں کہ اس کا حل کیا ہے؟سچی بات یہ ہے کہ جب وہ لوگ مسئلے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں، جن کے باعث یہ پیدا ہوتا ہے تو مسئلہ حل ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ہمارے لاہور کے سی ٹی او صاحب،نام جن کا کیپٹن لیاقت علی ملک ہے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کرتے رہتے ہیں۔لیکن ہمارے بیش تر دوست ان کی ٹریفک مسائل کے حل کے سلسلے میں کی گئی کوششوں سے زیادہ ان کی صوفیانہ باتوں سے متاثر نظر آتے ہیں۔ کیپٹن لیاقت علی ملک بھی دوسرے لوگوں کی طرح مائیک بردار صحافیوں کے زیادہ قریب ہیں۔ ان کی سنتے ہیں۔ان کی مانتے ہیں۔

ہم پرنٹ میڈیا کے لوگ اب کسی کی بھی ڈارلنگ نہیں رہے۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ جس طرح ہمارے ہاں انگریزی بولنے والے کو دُنیا کا ذہین ترین انسان سمجھا جاتا ہے اسی طرح اب یہ روایت بھی چل پڑی ہے کہ ٹیلی ویژن سکرین پر جلوہ گر ہونے والوں ہی کو عقل ِ کل سمجھا جانے لگا ہے۔ ٹریفک کا مسئلہ حل کرنے کے سلسلے میں میرے پاس ایک تجویز یہ ہے کہ لاہور کی اہم سڑکوں پر واقع کالجوں اور یونیورسٹیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے طلبہ و طالبات کی تعداد کے مطابق اعلیٰ معیار کی بسیں خریدیں اور ہر طالب علم کو پابند کریں کہ آنے جانے کے لیے وہ انھی بسوں کو استعمال کرے۔ہمارے ہاں ہو یہ رہا ہے کہ ایک طالب علم یا طالبہ کو لینے کے لیے ایک بڑی گاڑی آتی ہے اور ایک ایک گھنٹے تک سڑک کے کنارے کھڑی رہتی ہے۔ایک طالب علم ایک گاڑی کا اصول سرا سر غلط ہے۔اس سے ٹریفک کا مسئلہ تو پیدا ہوتا ہی ہے، ایندھن بھی ضائع ہوتا ہے۔والدین کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔سرکاری دفتروں سے بیش تر لوگ اس لیے غائب ہو جاتے ہیں کہ انھیں اپنے بچوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں سے لینا ہوتا ہے۔ اگر ہر ادارہ اپنے طلبہ و طالبات کی تعداد کے مطابق بسیں خرید لے تو کم از کم چھٹی کے وقت ٹریفک کا مسئلہ اتنا شدید نہیں ہو گا،جتنا اب ہے۔

.
ہمارے سی ٹی او صاحب اکثر اس بات کا رونا روتے رہتے ہیں کہ کم عمر بچے موٹر سائیکل چلاتے نظر آتے ہیں۔یہ غیر قانونی کام روکنے کے لیے بہت سی سنجیدہ کوششیں کی گئیں،لیکن یہ کم عمر بچے آج بھی آپ کو تمام سڑکوں پر موٹر سائیکل چلاتے نظر آئیں گے۔دُنیا کا اصول ہے کہ جب ایک غیر قانونی کام، عام ہو جائے تو اسے کسی نہ کسی طرح قانونی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے،مجھے اس وقت بہت ہنسی آتی ہے جب ہماری ٹریفک پولیس کا ایجوکیشن ونگ سکولوں کالجوں میں جا کر بچوں کو کم عمری کی ڈرائیونگ کے نقصانات سے آگاہ کرتا ہے۔ٹریفک پولیس کے افسروں کی دِل کش تقریریں سُن کر پندرہ سولہ سال کے بچے اپنی اپنی بائیک اٹھاتے ہیں اور گھروں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ پنجاب حکومت ایسا کیوں نہیں کرتی کہ سولہ اور سترہ سال تک کے بچوں کو دو سال کے لیے سٹوڈنٹ لرننگ لائسنس بنا دیا کرے۔

اس طرح ایک تو یہ غیر قانونی کام قانونی ہو جائے گا، دوسرا یہ کہ اس طرح اٹھارہ سال کی عمر تک کے یہ بچے آپ ہی آپ مستقل لائسنس بنوانے کی پوزیشن میں ہوں گے۔اگر کوئی یہ کہے کہ سولہ اور سترہ سال کا بچہ بائیک کیسے چلا سکتا ہے تو عرض ہے کہ ہماری نئی نسل بہت تیز ہے،جو بچے انٹرنیٹ چلا سکتے ہیں وہ ایک بائیک کیوں نہیں چلا سکتے؟آپ طلبہ و طالبات کو لرننگ لائسنس دیجیے۔پھر ان کے تعلیمی اداروں میں جا کر انہیں ڈرائیونگ کے اصول ضابطے بتلایئے اُن کے پکّے لائسنس بنایئے! پھر دیکھیے کہ نتائج کیا نکلتے ہیں؟

مزید :

کالم -رائے -