مسلمانوں کو خاکوں کے خلاف احتجاج پرآزاداظہار کے نام پر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے:منتظم جمعیت طلبہ عربیہ لاہور

مسلمانوں کو خاکوں کے خلاف احتجاج پرآزاداظہار کے نام پر خاموش کرنے کی کوشش کی ...
مسلمانوں کو خاکوں کے خلاف احتجاج پرآزاداظہار کے نام پر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے:منتظم جمعیت طلبہ عربیہ لاہور

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن ) منتظم جمعیت طلبہ عربیہ لاہور شفقت منصوری نے کہا ہے کہ فرانس سمیت یورپی ممالک میں مسلمانوں کے جذبات پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بار بار حملہ کرنے کی مذمت کرتے ہیں،مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ رویہ عروج پر ہے،گستاخانہ خاکوں کی نمائش کے ذریعے عالم اسلام کی دل آزاری کی اجازت دینے پر میں فرانس کے صدر کو یہ پیغام دیناچاہتا ہوں کہ ہم خاتم الانبیاءکی امت میں سے ہیں جو اپنے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں اس لئے ہم فرانس کے تمام امپورٹڈ پراڈکٹس کابائیکاٹ کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ باتوں اور ٹویٹ سے احتجاج کرنے کا وقت گیا اب حکومت پاکستان سب سے پہلے فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالے جب تک گستاخانہ خاکوں اور کارٹونز کے خلاف قانون نا بنے کسی صورت ان سے تعلقات بحال نا کئے جائیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت طلبہ عربیہ لاہور کے زیر اہتمام پریس کلب لاہو ر کے باہرگستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ میں خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پرامیر جماعت اسلامی لاہورڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد،سابق امین عام قاری فضل اکبر،شیخ الحدیث مولانا معروف،شیخ الحدیث مولانا محمد ابراہیم، امین لاہور سلیم اللہ منصوری،معاونین امین لاہور عتیق الرحمن،طارق زبیر،اور خلیل الرحمن سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے،اس موقع پرامین جمعیت طلبہ عربیہ لاہورسلیم اللہ نے کہا کہ جب بھی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلمان احتجاج کرتے ہیں، انہیں آزاد اظہار کے نام پر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ایک مقامی سکول کے بچوں کو توہین آمیز خاکوں کر پرچار کرنے والے استاد کو کسی مسمان نے قتل کردیا جس کے بعد ایمانویل میکرون کے بیان سے فرانس میں مسلم دشمنی شروع ہوگئی،کئی مساجد بند کردی گئیں اور مسلمانوں پر نفرت انگیز حملوں کے باعث مسلمان ممالک اور فرانس سمیت متعدد ممالک میں مسلمان متعصبانہ رویے اور آزاداظہار کے نام پر گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نفرت انگیز حملے، متعصبانہ گفتگو اور اشتعال انگیزی عروج پر ہے، فرانس نے ترکی سے اپنے سفیر کو بھی رجب طیب اردگان کے بیان کے بعد واپس بلا لیا اس حوالے سے عوام کا کہنا ہے کہ اگر فرانس اپنے صدر کے خلاف ترک ہم منصب کی لب کشائی برداشت نہیں کرسکتا تو مسلمان اپنے نبی ﷺ کی توہین کیسے برداشت کریں؟،معاون امین جمعیت طلبہ عربیہ لاہور عتیق الرحمن نے کہا کہ مذہب مسلمانوں سمیت د±نیا کے ہر انسان کیلئے دیگر ترجیحات سے بالاتر ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو روکنا چاہتے ہیں اور اسلام میں توہینِ رسالتﷺ کی سزا موت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ایسے میں جب کوئی مسلمان ایسے کسی گستاخ کو قتل کر دیتا ہے تو مغرب میں کہا جاتا ہے کہ آزاداظہار کا قتل کیا جارہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ بے حد خطرناک عالمی سازش ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -