ماہِ مبارک ربیع الاول کی برکات و فضلیت سمیٹنے کا صحیح طریقہ 

ماہِ مبارک ربیع الاول کی برکات و فضلیت سمیٹنے کا صحیح طریقہ 
ماہِ مبارک ربیع الاول کی برکات و فضلیت سمیٹنے کا صحیح طریقہ 

  

ماہِ ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی نے  اپنے آخری نبی حضرت محمد ؐ  کو بھیج کر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا۔ آپؐ  کو اللہ تعالی نے ایسی صفات اور خوبیوں سے نوازا جس کی ازل سے لے کر ابد تک کوئی مثال کوئی نظیر نہیں ملتی۔ حضرت محمد ؐ بچپن سے ہی  اپنی خوبیوں اور صفات کی وجہ سے دوسرے بچوں سے بالکل مختلف تھے۔ آپ ؐ نے کبھی وقت کو ضائع نہیں کیا۔  چھوٹی عمر سے ہی سنجیدگی و متانت آپؐ کی  آنکھوں سے عیاں تھی آپ  ؐ زیادہ وقت غوروفکر میں بسر کرتے اور کائنات کے اسرار و رموز پر غور فرمایا کرتے تھے۔

ربیع  الاول اسلامی ہجری سال کا تیسرا مہینہ ہے اس ماہِ مبارک کی فضیلت اور عظمت اِس لئے بڑھ جاتی ہے کہ اس ماہ مبارک میں امام الانبیا، تاجدار مدینہ سرکار دوعالم حضر ت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد مبارک ہوئی ہے۔ہمیں اس ماہِ مبارک کی تعظیم و تکریم کا خوب احترام کرنا چاہئے۔

وہ اس طرح کہ جہاں ہم آپ ؐ کی آمد کی خوشیاں مناتے ہیں وہاں ہمیں آپ ؐ کی سیرت طیبہ کے مطابق اپنی زندگی کوبسر کرنے کا عزم کرنا چاہئے۔ اپنے عقائد و اعمال کی اصلاح کرنی چاہئے، شرک وبدعات سے بچا جائے، فرض نمازوں کی پابندی کی جائے۔ صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچا جائے اپنی معیشت اور معاشرت کو اسلامی تقاضوں اور روایات کے مطابق ڈھالا جائے، کاروباری معاملات میں حلال و حرام اور جائز و ناجائز طریقوں میں فرق کیا جائے اور حرام اور ناجائز آمدنی سے بچا جائے۔زندگی کے روزمرہ کے معاملات میں جھوٹ و بے ایمانی سے بچا جائے اپنے اندر صبر وشکر، عاجزی وانکساری اور اچھے اخلاق پیدا کئے جائیں، غرورو تکبر، حسد، ریاکاری و بدکاری، ہیرا پھیری، گالم گلوچ، بغض و حسد سے اپنے آپ کو دور رکھا جائے۔ اس ماہِ مبارک کو اس طرح منایا جائے اس کی برکات و فضلیت تاحیات آپ کی زندگی کا حصہ بن جائیں۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا،جب تک وہ میرے ساتھ اپنے والدین، اپنی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرے (صحیح بخاری)۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے عشق و محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اِس لئے آپ کا ذکر اور ربیع الاول کے مہینے کو احترام و عقیدت کے ساتھ منانا اعلی ترین عبادت ہے۔ اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ صلہ رحمی کی جائے۔ یتیموں، بیواؤں اور مسکینوں اور غریبوں کی مدد کی جائے اور بے جا فضول خرچی سے بچ کر اپنا پیسہ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا جائے اس عمل کی برکت و رحمت آپ کو سارا سال کیا ساری زندگی ملتی رہے گی۔

حضرت محمدؐ  کا فرمان ہے کہ ”تم میں سے  بہتر وہ ہے، جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں“ آج ہم آپ ؐ کی اس حدیث مبارکہ پر عمل پیرا ہو جائیں تو ہمارے ٹوٹے ہوئے رشتے دوبارہ استوار (بحال) ہو جائیں گے اور کامیابیاں اور کامرانیاں ہمارے قدم چومیں گی۔ آج کے دور میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو، جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا شخص محفوظ ہو۔ توبہ توبہ ہمارے ہاتھ اور زبان سے ہمارے والدین تک محفوظ نہیں ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ اپنے والدین کا احترام کرو اور انہیں اف تک نہ کہو۔ آئیں اس ربیع الاول کے ماہ مبارک میں ہم عہد کریں کہ اپنے ہاتھ اور زبان سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے ہم آپ ؐ  کی حیات طیبہ، سیرت طیبہ پر عمل کرکے اپنی زندگی کو ایمان کی روشنی سے منور کریں گے۔ اللہ تعالی نے حضور اکرم ؐ، امام الانبیاء، سید المرسلین، خالم النبین، محسن انسانیت حضرت محمد مصطفیﷺ کو بے شمار خوبیوں اور خصوصیات سے نوازا ہے، جن کو سارے عالموں اور اللہ کے ولیوں کے لئے مکمل طور پر لکھنا تو درکنار بلکہ مکمل طورپر گن بھی نہیں سکتے۔ تو مجھ جیسا ناچیز آپؐ کی شان میں کیا لکھ سکتا ہے بس لکھنے کی جسارت کی ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور میری غلطیاں معاف فرمائے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ  ؒ کی نعت کے چند اشعار:

کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء

گستاخ اکھیاّں کتھے جا اڑیاں 

اج سک متراں دی ودھیری اے 

کیوں دلڑی اداس گھنیری اے 

لوں لوں وچ شوق چنگیری اے 

اج نینان لائیاں کیوں جھڑیاں 

مزید :

رائے -کالم -