عقلِ انسانی آپﷺ کی عظمتوں کا ادراک نہیں کر سکتی

عقلِ انسانی آپﷺ کی عظمتوں کا ادراک نہیں کر سکتی
عقلِ انسانی آپﷺ کی عظمتوں کا ادراک نہیں کر سکتی

  

ٹھیک ہے انسان اپنی دانش و بصیرت سے آسمان کی بے کراں وسعتیں طے کر گیا۔ اس نے زمین کی اتھاہ گہرائیوں کو کھنگال لیا، ہواؤں کو تسخیر کر لیا عرش فرش کے رازآشکار کردئیے یہ چاند تک جا پہنچا زندگی کے آثار کہا ں ہیں کہاں نہیں اس کا کھوج لگالیا زمینی فاصلوں کو سمیٹ لیا دنیا کے ایک کونے میں بیٹھا شخص دنیا کے دوسرے کونے میں بسنے والے انسان کے حالات سے آگاہ ہو گیا ذروں سے لے کر سورج تک کی پوشیدہ باتیں جان گیاراستوں کی مسافتیں پیدل طے کرتا جہازوں تک جا پہنچا،لیکن وہ شانِ مصطفےٰ ﷺ کو نہیں جان سکا جانے بھی کیسے کہ بڑھیا کوڑا پھینکے تو نظر نہ آنے پر آپ ﷺ اس کی خیریت معلوم کو پہنچیں پتھر مار کر لہولہان کرنے والوں کے لئے دعاکریں ایسی عظیم ترین مشفق ہستی کائنات میں کوئی دوسری کیسے ہوتی جس طرح اللہ واحد و یکتا ہے ایسے ہمارے رسول ﷺایک ہیں انکے بعد کوئی نبی نہیں اللہ تعالی نے نبی کریمﷺ کو دنیا میں بھیج کر دنیا والوں پر احسان عظیم کیا اللہ نے آپ ﷺ کو رحمتہ اللعالمین بنا کر بھیجا ہے آپ نے بے کسوں بے سہاروں یتیموں کو سہارا دیا آقا غلام کا فرق مٹا دیا ہمسایوں کے حقوق مقرر کر دئیے، حتی ٰکہ جانوروں پر بھی آپ کی رحمتوں کی بارش برسی آپ چلتے تو خوشبوئیں ساتھ چلتیں آپ مسکراتے تو تبسم کا نور ظلمتوں کے مہیب اندھیروں کو مٹادیتا آپؐ نظر اٹھاتے تو دنیا کا مقدر جاگ اٹھتاآپؐ  گفتگو فرماتے تو جھرنوں جگنوؤں تتلیوں پھولوں پر جوانی آجاتی زمین وآسمان آپﷺ کی جنبش ِابرو کے منتظر رہتے آپ عزم سفر کرتے تو راستوں کی دھول پھول بن جاتی ستارے آپ ﷺ کے راستوں میں بکھرنے کو ترستے چاند انگلی کے اشارے سے اپنا مقدر بدلتا، آپﷺ آتے ہیں تو دنیا میں بہار آتی ہے گویا بہاریں آپ کی منتظر تھیں آپ ﷺ نے انسانیت کا وقار ایسا بلند کیا کہ مومن کی حرمت کو کعبے سے زیادہ عظمت بخشی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا آپ ﷺکعبہ کا طواف فرما رہے تھے۔اور فرما رہے تھے تو کیا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کس قدر اچھی ہے تو کتنا صاحب ِعظمت ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمدﷺکی جان ہے مومن کی حرمت اس کے مال و جان کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے عظیم تر ہے اور مومن کے ساتھ بد گمانی بھی اسی طرح حرام ہے ہمیں حکم ہے کہ مومن کے ساتھ اچھا گمان کریں آپ ﷺ نے عو رت کو بیوی کی صورت گھر کی مالکہ بنا دیا بیٹی کی صورت رحمت اور ماں کے قدموں تلے جنت کی نوید سنائی وگرنہ عورت کے ساتھ ایسا بھیانک سلوک کیا جاتا کہ اسے بیان کرتے لفظ بھی نادم ہیں بھلا نبی کریمﷺسے محبت ہمارے ایمان کا لازم جزو کیوں نہ ہو کہ آپﷺ کی تعلیمات راہ نجات ہیں ہم آخر بھٹکتے ہی کیوں ہیں کہ آپ ﷺ کا اسوہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے آپ ﷺ نے ہمیں محبت وامن کا پیغام دیا آپﷺنے نفرت کرنیوالوں سے بھی اظہارِ محبت کیا آپﷺ کی اس دنیا میں آمد کائنات کی تاریخ میں وہ بابرکت لمحہ ہے جب پوری دنیا کی کایا پلٹ گئی۔

آپﷺ کی پیدائش پر معجزات نمودار ہوئے جن کا ذکر قدیم آسمانی کتب میں تھاآتش کدہ فارس جو ہزار سال سے بھی زیادہ سے روشن تھا بجھ گیا۔ مشکوٰۃ کی ایک حدیث مبارکہ کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ‘ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم مٹی اور پانی کے درمیان تھے میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا اور ان سے ایک ایسا نور ظاہر ہوا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے جس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کائنات میں جلوہ افروز ہوئے ویران زمینیں شاداب ہوئیں، سوکھے ہوئے درخت ہرے ہو گئے ہر طرف سر سبز مناظر دکھائی دینے لگے قریش خوشحال ہو گئے حالانکہ اس سے پہلے قریش معاشی زبوں حالی کا شکار تھے آپ ﷺکا تعلق قریشِ عرب کے معتبر اور معزز ترین قبیلہ بنو ھاشم سے تھاجس کی شرافت، ایمانداری اور سخاوت بہت مشہور تھی آپﷺ کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب اپنی سیرت خوبصورتی اخلاق حمیدہ اوصاف جمیلہ اور پاکبازی میں شہرت رکھتے تھے سرکار کریمﷺ کے دنیا میں رونق افروز ہونے سے چھ ماہ قبل ان کا انتقال ہوگیا آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت آمنہ ہے جو نیک عظیم ترین اور پاکیزہ خاتون تھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دادا عبدالمطلب قریش کے سردار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نبوت کی نشانیاں شروع سے موجود تھیں آپﷺ کا بچپن عام بچوں جیسانہ تھا آپ ﷺ نے انسانیت کو فکری انقلاب سے روشناس کروایا اور انسانوں کو جہالت کی دلدل سے نکال کر علم و آگہی سے منورکیا نبی کریم ﷺنے دنیا کو ظلم اور جہالت کی تاریکیوں سے نجات دلاکر انسان کے جسم اورروح کو حقیقی آزادی دلوائی آپ سرکارﷺ نے لوگوں کو مخلوق خدا سے محبت کرنے کا درس دیا۔ عورتوں کو ان کے حقوق دئیے اور ان سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔اللہ رب العزت نے قرآن میں فرمایا“بے شک اللہ اور ملائکہ (تمام) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں تو اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے رہو۔ جب اللہ آپ ﷺ پر درود بھیجتا ہے ملائکہ بھی بھیجتے ہیں اور اللہ ایمان والوں سے بھی درود بھیجنے کا ارشاد فرماتا ہے تو عقل انسانی پھر آپ ﷺ کی عظمتوں اور مرتبوں کا ادراک کیسے کر سکتی ہے کہ حضور ﷺ جس کام پر خوش نہیں اس پر اللہ بھی خوش نہیں حضورﷺ کی خوشنودی اللہ کی خوشنودی ہے ۔

مزید :

رائے -کالم -