سیرتِ طیبہؐ  کا حق!

سیرتِ طیبہؐ  کا حق!
سیرتِ طیبہؐ  کا حق!

  

جب بھی سیرت نبویؐ کی طرف رجوع کیا جائے، روشنی کی کرن نظرآجاتی ہے۔ دل زنگ آلود ہوجائیں اور زندگی بے عملی وبدعملی کا شکار بن جائے تو انسان کا سہارا، قرآن وسنت اور سیرت کی پناہ گاہ ہی ہوتی ہے۔ نبی اکر مؐ کی سیرت کا پیغام یہ ہے کہ انسان دنیوی معاملات اور مادی وسائل کے لحاظ سے اپنے سے نیچے والوں کودیکھے جب کہ دینی واخلاقی معاملے میں اپنے سے اعلیٰ وارفع مرتبے والوں کی طرف دیکھے۔ نہ کسی سے مرعوب ہو نہ کسی کو کم تر جانے۔ اچھی صفات جہاں دیکھے، انھیں اپنانے کی سنجیدہ فکر کرے اور برے خصائل جہاں بھی نظر آئیں، ان سے اپنا دامن بچا کر گزرے۔ آج پاکستان میں ہر شخص مصائب کا شکار ہے اور اس کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں۔ اے کاش! ہمیں اسلام کا نظامِ عدل نصیب ہو جائے۔

نبی اکرمؐ کے پاس اکثر اوقات معاشرے کے گرے پڑے لوگ آتے اور اپنا سوال بھی بدویانہ اندازمیں پیش کرتے مگرآپؐ نے کبھی برا نہ مانا۔ ایک مرتبہ عین اس وقت جب نماز کھڑی ہونے والی تھی، ایک بدو صفیں چیرتا ہوا آگے بڑھا، آپؐ کا دامن پکڑ کر کھینچا اور اپنے کسی کام کے بارے میں تقاضا کیا۔ آپؐ مسجد سے باہر نکلے اور اس شخص کا مطالبہ پورا کرنے کے بعد نماز ادا کی۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ضعیفوں کاملجا اور بے سہاروں کاماویٰ تھے۔ آپؐ کی مسجد میں ایک حبشی النسل خاتون جھاڑو دیا کرتی تھی۔ وہ بے چاری بالکل معمولی حیثیت کی کنیز تھی۔ وہ فوت ہوئی تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیے بغیر صحابہؓ نے اس کی نمازِجنازہ پڑھ کر دفن کردیا۔ آپؐ کو معلوم ہوا توا س بات پر ناراضی کا اظہارکیا کہ آپؐ کو اطلاع کیوں نہ دی گئی۔ آپؐ اس کی قبر پر گئے اور ایک روایت کے مطابق آپؐ نے اس کی قبرپرنمازِ جنازہ پڑھی اور اس کے لیے دعائے مغفرت کی (بخاری، کتاب الصلوٰۃ، حدیث۴۵۷)۔

ایک مرتبہ ایک دیہاتی شخص آپؐ کے پاس آیا، وہ فاقہ زدہ اور مفلوک الحال تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اسلامی ریاست، مدینہ، کے سربراہ تھے۔ اس اعرابی نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گستاخی کی اور سختی کے الفاظ میں مالی مدد کی درخواست کی۔ صحابہؓ کو یہ منظر سخت ناگوار گزرا مگر آپؐ نے صحابہؓ کو غصہ کرنے سے منع بھی کیااور خود زبان مبارک سے استغفارکا ورد شروع کردیا۔ پھرآپؐ اس دیہاتی عرب سے مخاطب ہوئے اور اس کی ضرورت معلوم کی۔ اس کے بعد آپؐ نے حکم جاری فرمایا ”اس شخص کے لیے ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجورلادو“۔ پھر آپؐ نے اسے دعا کے ساتھ رخصت کردیا۔ (ابوداؤد،حدیث ۴۷۷۵)

اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا طرز عمل اختیار کرنے والوں پر ناراض ہونے کی روش اختیار کرتے تو ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی دنیا وآخرت، دونوں برباد ہوجاتیں۔ ایک مرتبہ ایک شخص آپؐ کے پاس مدد کے لیے حاضر ہوا۔ اس شخص سے اپنے قبیلے میں کوئی شخص قتل ہوگیا تھا اور وہ خون بہا ادا کرنے کے لیے مدد مانگ رہا تھا۔ جب اس نے سوال کیا تو آپؐ نے اپنے پاس موجود رقم اسے دے دی، پھر اُس سے پوچھا: کیا میں نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے؟“ اس نے اپنے مخصوص بدوی لہجے میں کہا ”خدا کی قسم آپؐ نے میرے ساتھ کوئی نیکی اور احسان نہیں کیا“۔ اس موقع پر صحابہؓ غصے میں آگئے مگر آنحضورؐ نے ان کو غصے سے منع فرمایا۔

اپنی شانِ کریمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپؐ اس کو اپنے گھر میں لے گئے، اسے شربت پلایا اور اپنی تمام ازواج مطہرات کو پیغام بھیجا کہ ایک مصیبت زدہ مسافر آیا بیٹھا ہے، حسبِ استطاعت سب اس کی مدد کریں۔ امہات المومنین نے دل کھول کر اس کی مدد کی۔ اب آپؐ نے وہی سوال کیا تو دیہاتی نے جواب میں بہت دعائیں دیں اور شکریہ بھی ادا کیا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ جب میں نے مسجد میں تم سے پوچھا،تو تم نے جو جواب دیا اس سے میرے صحابہؓ کے دل زخمی ہوئے اور وہ ناراض ہوگئے۔ اب جس خوشی کا اظہار تم نے یہاں کیا ہے، اس کا اظہار میرے صحابہؓ کے سامنے بھی کردو تاکہ ان کے دل ٹھنڈے ہوجائیں۔ چنانچہ اس نے مسجد میں آکر بہت خوشی اور تشکر کا اظہار کیا۔ پھر وہ چلا گیا۔

اس شخص کے روانہ ہوجانے کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔ پھرآپؐ نے اپنے صحابہؓ کو کہا کہ میں تمھیں ایک اونٹنی والے اور اس کی اونٹنی کاواقعہ سناتا ہوں۔ صحابہؓ نے پوچھا: یارسول اللہؐ وہ واقعہ کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: ”ایک شخص اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر پر روانہ ہوا۔ راستے میں اس کی اونٹنی کسی چیز سے بدک کر بھاگ گئی۔ اس کے ساتھی اس کو پکڑنے کے لیے دوڑے۔ اونٹنی نے لوگوں کا ہجوم دیکھا تو سہم گئی اور تیز بھاگنے لگی۔ یہ کیفیت دیکھ کر اونٹنی کے مالک نے کہا: دوستو! تمھارا شکریہ، تم مجھے اور میری اونٹنی کوہمارے حال پر چھوڑ دو۔ اس کے ساتھی بیٹھ گئے تو وہ اکیلا اونٹنی کی طرف بڑھا۔ اونٹنی نے دیکھاکہ اس کامالک آرہا ہے تو وہ ایک مقام پر رک گئی۔ وہ گیا اوراپنی اونٹنی کو پکڑ کر لے آیا۔ میرا اور تمھارا معاملہ بھی کچھ ویسا ہی ہے۔ اگر میں بھی اس شخص سے ناراض ہوجاتا تو وہ بے چارہ ہر چیزسے محروم ہوجاتا۔ (الشفاء قاضی عیاضؒ، ۱/۲۵۳)

ایک جانب آپؐ کی یہ نرم دلی اور غربا کے ساتھ حسن سلوک، اخلاق عالیہ کا بہترین نمونہ ہے، دوسری جانب دنیا کے جھوٹے خداؤں اور خود ساختہ آقاؤں کے مقابلے پر آپؐ کا نعرہئ والہانہ اعلیٰ درجے کی جرأت وشجاعت کا غماز ہے۔ عرب کے اندر موجود باطل قوتوں سے زندگی بھر آپؐ برسرِپیکار رہے اور کبھی ان کے مظالم اور سختیوں کے سامنے سر نہیں جھکایا، مشکل ترین حالات میں جب اولوالعزم صحابہؓ کے قدم بھی اکھڑ گئے، اللہ کے نبیؐ عزیمت کا پہاڑ بنے، دشمن کے سامنے ڈٹے رہے (احد اورحنین کے واقعات قابل مطالعہ ہیں)۔ 

مزید :

رائے -کالم -