اونٹ کے منہ میں زیرہ

اونٹ کے منہ میں زیرہ
اونٹ کے منہ میں زیرہ

  

11ستمبر 2001ء کا دن پاکستان میں حضرت قائداعظم کے 53ویں یومِ وفات کے طور پر منایا جا رہا تھا۔ اچانک خبر آئی کہ القاعدہ کے دہشت گردوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر نیویارک کے جڑواں میناروں پر حملہ کر دیا ہے جس میں 3000لوگ مارے گئے ہیں اور 25000زخمی ہو گئے ہیں …… یہ انسانی تاریخ میں دہشت گردی کا عظیم ترین سانحہ تھا۔ اور امریکی سرزمین پر بھی آج تک اس حجم اور اس قبیل کا کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ 19دہشت گردوں نے دو طیارے اغوا کرکے ان کو جڑواں ٹاوروں سے ٹکرا دیا تھا۔ یہ ٹاورز 110 منزلہ تھے اور دو گھنٹوں کے اندر اندر زمیں بوس ہوگئے…… اس کے بعد کی تاریخ قارئین کو اچھی طرح معلوم ہے۔

امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے میں دیر نہ لگائی۔ اسامہ بن لادن سب سے بڑا دہشت گرد قرار دیا گیا۔ یہ امریکہ میں بش جونیئر کا صدارتی دور تھا…… اس سانحے میں دو باتیں بڑی غور طلب تھیں۔ ایک یہ کہ ان 3000ہلاک شدگان اور 25000مضروبین میں ایک بھی یہودی نہ تھا۔ حالانکہ نیویارک کے ہر گلی کوچے میں یہودیوں کی غالب تعداد ہر آن موجود رہتی ہے…… اور دوسری بات یہ تھی کہ بجائے اس کے کہ امریکہ دہشت گردوں کی اکثریت کی بناء پرجو سعودیوں پر مشتمل تھی، ان کے وطن پر حملہ کرتا، اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس حملے کی پلاننگ چونکہ افغانستان میں بیٹھ کر کی گئی تھی اس لئے افغانستان کو نشانہ بنانا  ہے۔ حملہ آور امریکی فورس کا حجم، افغان آرمی کی عسکری قوت سے کہیں زیادہ تھا۔ بعد میں اس واقعے پر انگریزی میں جو درجنوں کتابیں لکھی گئیں ان میں کہا گیا کہ طالبان کی فوجی قوت اور جمعیت گویا ایک اخروٹ (Walnut) تھی جسے رولر کوسٹر (سڑک کوٹنے والا انجن) سے توڑا گیا۔

پاکستان میں اس وقت جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ ان سے کہا گیا کہ امریکی لاجسٹک سپورٹ کے لئے پاکستانی ائر فیلڈز ہمارے حوالے کی جائیں۔ آج عمران خان بھی یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ اس وقت پرویز مشرف کی جگہ ہوتے تو اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیتے۔ پرویز مشرف نے بعد میں جن عربوں کو اپنے شہروں سے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا، اس پر بھی خان صاحب شدید طعنہ زنی کرتے ہیں لیکن اس سکّے کا دوسرا رخ یہ تھا کہ اگر پاکستان امریکہ کی انصرامی سپورٹ سے انکار کر دیتا تو اسے ’پتھر کے دور‘ میں پہنچا دینے کی دھمکی موجود تھی۔ کیا امریکہ کسی جوہری قوت کو پتھر کے زمانے میں پہنچا سکتا تھا یا نہیں، اس سوال کے جواب کی تفصیل جاننے کے لئے خان صاحب کو دوسری عالمی جنگ کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے……

راقم السطور نے اس زمانے میں بھی اپنے کالموں میں یہ بات بالصراحت واضح کی تھی کہ امریکہ کا افغانستان میں ایک بڑی فورس لے کر آنا، پھر NATOکو اپنی فوج میں شامل کرنا اور فاٹا کے حقانیوں کو بالخصوص ٹارگٹ کرنا اس شبہے کو تقویت دیتا ہے کہ امریکہ، افغانستان میں جڑواں ٹاورز کا بدلہ لینے نہیں، بلکہ دنیا کی واحد مسلم جوہری قوت کو تہس نہس کرنے یا ڈی نیوکلیئرائز کرنے آیا تھا!

ستمبر2001ء سے لے کر آج ستمبر 2020ء تک کے 19برسوں میں پاکستان نے جس طرح اپنے آپ کو سنبھالا، اس کے لئے پاکستانی قوم اور پاکستانی افواج کو جس قدر بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے، کم ہوگا۔لیکن امریکہ جب گرم جنگ کے ذریعے پاکستان کو مسخّر کرکے اس کے ’جوہری دانت‘ کھٹے نہ کر سکا تو ہائی برڈ وار کا سہارا لیا۔ اس ’وار‘ کی پلاننگ بھی امریکہ اور افغانستان میں بیٹھ کر کی گئی۔ انڈیا کو اپنے ساتھ ملایا گیا۔ پاکستانی بلوچستان کو توڑنے کا ڈول ڈالا گیا۔ کلبھوشن تو ایک مہرہ تھا جو رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا، اس کے علاوہ اور بھی کئی مہرے تھے (اور ہیں) اور ان کا ثبوت ہمیں آئے روز وزیرستان اور بلوچستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں سے ملتا رہتا ہے۔ پاکستان نے اگر لائن آف کنٹرول پر انڈین آرمی کو روک رکھا ہے تو یہاں بھی اگر گزشتہ 20برسوں کا حساب لگایا جائے تو پاکستان آرمی اٹریشن (Attrition) کا شکار ہوئی ہے۔ دوسری اٹریشن پاکستان کے مغربی بارڈر پر ہوئی جو لائن آف کنٹرول سے زیادہ بڑی اور خطرناک تھی کیونکہ اس کی پشت پر امریکی اور انڈین افواج کی بھرپور سپورٹ شامل تھی۔ لیکن یہاں بھی: ”جزقیس کوئی اور نہ آیا بروئے کار“…… یہاں بھی پاکستان آرمی کو اٹریشن کا سامنا کرنا پڑا۔ افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ پاکستان آرمی نے کئی دفعہ حکومت کو مغربی بارڈر کی Fencing کی تجویز پیش کی  لیکن ہر بار اس پر لاگت کے کثیر حجم کا بہانہ بنایا گیا۔ ناچار پاکستان آرمی کو تخت یا تختہ میں سے ایک کا فیصلہ کرنا پڑا۔

میری نظر میں جہاں تک مسلم امہ سے دشمنی کا تعلق ہے تو امریکہ اور مغربی یورپ ایک ہیں …… جہاں امریکہ آگے آنا نہیں چاہتا وہاں دوسرے بڑے مہروں (فرانس، برطانیہ، جرمنی وغیرہ) کو سامنے لے آتا ہے…… اب مجھے بتائیں کہ بھلا اس وقت صدر فرانس کو کیا پڑی تھی کہ وہ مسلمانوں کی اس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتا جو ہر مسلم مرد و زن کو تلملا اور تڑپا دیتی ہے…… جس طرح حضرت اقبال نے کہا تھا: ”فرنگ کی رگِ جاں پنجہء یہود میں ہے“ اسی طرح مسلمانوں کی رگِ جاں پنجہ ء عقیدتِ سرورِ کونین حضرت محمد رسولﷺ میں ہے۔ کیا یہ ممکنات میں سے نہیں ہے کہ بھارت نے فرانس کو کہا ہو کہ جس طرح ہم اپنے ہاں مسلمانوں کا قافیہ تنگ کر رہے ہیں، آپ بھی مسلمانانِ عالم کا ردعمل آزمائیں …… چنانچہ (Hence)گستاخانہ خاکے…… ذرا احوالِ عالم پر نظر ڈالئے۔

امریکہ، مشرق وسطیٰ سے نکل چکا ہے، افغانستان سے نکل رہا ہے اور چین اس کی جگہ لے رہا ہے۔ عرب و عجم کی مذہبی کشیدگی ایک حقیقت ہے۔ کئی عرب ریاستوں کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنا کس طرف اشارہ کر رہا ہے۔ کیا آنے والے عشرے میں پاکستان CPECکے حوالے سے عالمی تجارت کا ایک گڑھ نہیں بن جائے گا؟ کیا جس آرمی نے پہلے روس اور پھر امریکہ کو اپنے ہمسائے سے کوچ کرنے پر مجبور کر دیا تھا کیا وہ پرانے کھلاڑیوں کو سیاسی کھیل کے میدان میں آنے کی اجازت دے گی؟ کیا اپوزیشن اپنی افواج سے ”متھّا“ لگا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے سیاسی تابوت میں آخری کیل نہیں ٹھونک رہی؟ کیا پاک آرمی مستقبل میں عمران خان کو دیس نکالا دے سکے گی؟ کیا پاکستان میں کوئی اور ابھرتی اور متبادل سیاسی آپشن موجود ہے جو تحریک انصاف کی جگہ لے سکے؟ کیا کوئٹہ کے 25اکتوبر کے جلسے میں انتہا پسندانہ نعرے لگا کر اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں نے اپنی قبر خود نہیں کھود لی؟ کیا صرف مہنگائی کے نعرے پر آج تک دنیا کی کسی حکومت کا بوریا بستر سمیٹا گیا ہے؟……صدر ایوب والے چینی سکینڈل کا Repeat اب نہیں ہو سکے گا۔

بھارت نے میکرون کو نہ صرف مزید رافیل طیاروں کی خرید کا لالچ دیا ہوگا بلکہ دوسرے بھاری دفاعی ہتھیاروں کی خرید کا چکمہ بھی دیا ہو گا۔

قارئین کو معلوم ہوگا کہ ایک سے زیادہ بار بھارتی آرمی چیف اپنی آرمی کے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کی ’قدامت‘ اور ’کہن سالگی‘ کا رونا رو چکے ہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ ان ہتھیاروں سے پاکستان اور چین کے خلاف جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ کیا قارئین نہیں جانتے کہ ترکی نے میکرون کو ’فاتر العقل‘ ڈیکلئر کر دیا ہے اور آج دوسری بار بھی یہی بات دہرائی ہے؟ (کل کلاں شاید ہیٹ ٹرک بھی کر دے!) کیا ترکی نے گزشتہ دنوں روس سے خرید کردہ ائر ڈیفنس سسٹم (S-400)کے تجربات شروع کرکے اپنے NATO ساتھیوں کو خبردار نہیں کر دیا کہ وہ Look East کی طرف آئیں؟کیا سعودی عرب اور اس کے زیرِ اثر عرب ممالک میکرون کی توہینِ رسالت کی جسارت کے باوجود بھی مغربی ملکوں (فرانس کے علاوہ امریکہ، جرمنی اور برطانیہ) سے اربوں ڈالر کا وہ اسلحہ خریدیں گے جو  وہ ہر سال خریدتے ہیں اور ہر چند ان کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی؟……

فرانسیسی صدر کا گستاخانہ رویہ تمام عالمِ اسلام کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے بھارت نے رافیل کی آمد کا  جو جشن منانا شروع کیا ہے اور چین کو روزانہ رافیل کے جو ’ڈراوے‘ دے رہا ہے، وہ میری نظر میں عالمِ اسلام کے خلاف بالعموم اور پاکستان کے خلاف بالخصوص ہائی برڈ وار فیئر کی چھٹی نسل کا ایک بدیہی اظہار اور ثبوت ہے۔ لیکن پاکستانیوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا ایمان ہے: 

رہے ہیں اور ہیں فرعون ’اپنی‘ گھات میں اب تک

’ہمیں‘ کیا غم کہ ’اپنی‘ آستیں میں ہے یدِ بیضا

(روحِ اقبال سے اس ادنیٰ تغیر لفظی کی معذرت)

انشاء اللہ اگلے کالم میں فرانس کی اصل قوت (ملٹری ہارڈ ویئر پروڈکشن) کا ایک جائزہ پیش کیا جائے گا۔ مغرب کی اصل قوت تو اس کی دفاعی مصنوعات کی برآمدات ہیں۔ ان کو مسلم اور عرب اسلحہ خانوں کے شیلفوں سے اٹھائیں اور ہمارے عرب بھائی جو اپنے سٹوروں سے فرانسیسی بسکٹ، پنیر اور مکھن وغیرہ اٹھا رہے ہیں، یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -