موجودہ حکومت کی کوئی سمت نہیں، دہشت گردی پھر سر اٹھا رہی ہے،رضا بارنی کا وزیراعظم اور صدر سے استعفیٰ کامطالبہ

موجودہ حکومت کی کوئی سمت نہیں، دہشت گردی پھر سر اٹھا رہی ہے،رضا بارنی کا ...
موجودہ حکومت کی کوئی سمت نہیں، دہشت گردی پھر سر اٹھا رہی ہے،رضا بارنی کا وزیراعظم اور صدر سے استعفیٰ کامطالبہ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستا ن آن لائن)پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہاہے کہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کی کوئی سمت نہیں ہے ،دہشت گردی پھر سر اٹھا رہی ہے، ملک میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے،انہوں نے وزیراعظم اور صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کسی کو اعتماد میں نہیں لے رہی، این ایس سی کا کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا،اس صورتحال پر کیا حکمت عملی ہونی چاہیے، کوئی سوچنے والا نہیں۔

پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا بانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مہنگائی عروج پر ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں، اب ملک میں کوئی سسٹم موجود نہیں ہے، اس نتیجے میں تمام سسٹم کا بریک ڈاؤن ہوگیا ہے، اس کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات سر اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کو بے توقیر کیا جا رہا ہے،قانون سازی آرڈیننس کے ذریعے ہو رہی ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اداروں کو ایک شخص کے ماتحت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،اس صورتحال پر کیا حکمت عملی ہونی چاہیے، کوئی سوچنے والا نہیں، حکومت کسی کو اعتماد میں نہیں لے رہی، این ایس سی کا کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی نے موجودہ حکومت سے استعفے کامطالبہ کیا ہے، دہشتگردی حساس اداروں پرحملوں سے شروع ہوئی،اب سویلین ادارے بھی نشانے پر ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ متعلقہ اداروں کو مفلوج بنایا جارہا ہے، جب ملک کا سربراہ کہے کہ میں جمہوریت ہوں اورٹائیگرفورس کوجنم دیا جائے توایسے ہی ہوتا ہے، وزرا قائمہ کمیٹیوں میں آتے ہی نہیں اور نہ پارلیمنٹ میں پالیسی بنائی جا رہی ہے، بھارت اور امریکا کے درمیان ملٹری معاہدے کے خطے پر خطرناک نتائج نکلیں گے، وزیر خارجہ پارلیمنٹ میں اس متعلق پالیسی واضح کریں،بات کرنے کا مقصد حکومت کا اداروں کو متنازع بنانے سے متعلق ہے۔

انہوں نے کہاکہ ملک فسطائیت کی طرف بڑھ رہا ہے، ملک میں طرز حکمرانی سے اندازہ ہورہا ہے کہ ون یونٹ کی طرف بڑھا جارہا ہے، صوبوں کے اختیارات سلب کئے جا رہے ہیں، غیرقانونی طور پر وفاقی اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے،ملک میں طلبا کے اوپر بھی قدغنیں لگائی جا رہی ہیں، مزدور تنظیموں کو بھی خاموش کرایا جا رہا ہے۔

سینیٹر پیپلزپارٹی نے کہاکہ حکومت نے پرائیویٹائزیشن کی جو لسٹ دی اس میں روزویلٹ ہوٹل شامل ہے، متعلقہ جگہ سے منظوری نہیں ہوئی، صدر نے آرڈیننس جاری کئے، آرٹیکل 89 کے تقاضے مدنظر نہیں رکھے، صدر نے پریزیڈنسی کو آرڈیننس فیکٹری میں تبدیل کردیا،صدر نے دو ججوں کے خلاف ریفرنس فائل کئے، ایک فاضل جج اور بار ایسوسی ایشنز نے یہ ریفرنسز چیلنج کئے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -