بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے خاتمے کی تاریخ دے دی

بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے خاتمے کی تاریخ دے دی
بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے خاتمے کی تاریخ دے دی

  

سکردو(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا ہے کہ عمران خان حکومت جنوری 2021میں ختم ہو جائے گی اور ایک عوامی حکومت قائم ہو گی، ملک کا  ہر طبقہ موجود  حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر ہے،پیپلزپارٹی ہی وہ واحد پارٹی ہے جو مظلوموں کے حقوق کے لئے لڑتی ہے،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جی بی سے ایف سی آر کو ختم کیا، جو وعدے  پی پی پی  نے پورے کئے وہ کوئی سلیکٹڈ یاکھلاڑی   پورے نہیں کرسکتا، گلگت بلتستان میں حق حاکمیت اور حق ملکیت کا حصول 15نومبر کو ہونے والے انتخابات پر منحصر ہے،ہم سلیکٹڈ اور اس کے دوستوں کو جی بی کے ہر ضلعے میں شکست دیں گے۔

سکردو میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے  بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہی وہ واحد پارٹی ہے جو مظلوموں کے حقوق کے لئے لڑتی ہے،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جی بی سے ایف سی آر کو ختم کیا، اس کے بعد شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جی بی میں جمہوریت کو متعارف کرایا اور پھر صدر زرداری نے جی بی کو اس کی پہلی اسمبلی دی، پہلا گورنر دیا اور پہلا وزیراعلی دیا، پیپلزپارٹی ہی نے حق حاکمیت اور حق ملکیت کی جدوجہد کا پرچم بلند کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جی بی کے ہر ضلعے میں گئے ہیں اور انہوں نے حق حاکمیت اور حق ملکیت کی تحریک چلائی ہے، پیپلزپارٹی ہی وہ واحد پارٹی ہے جس نے جی بی کے عوام کے مطالبات اپنے 2018کے انتخابی منشور میں شامل کئے،  پیپلزپارٹی ہی وہ پارٹی ہے جس نے جی بی کے عوام کے لئے ان کے صوبے کا مطالبہ کیا ہے اور پاکستان میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی کے ساتھ ساتھ ان کے فنڈز میں اضافے کے مطالبات کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ کوئی سلیکٹڈ یاکھلاڑی نہیں جو اپنے وعدے پورے نہیں کرے گا اور کہا کہ وہ اس وقت تک جی بی میں موجود رہیں گے جب تک عوام کی حکومت جی بی میں قائم نہیں ہو جاتی،حق حاکمیت اور حق ملکیت کا حصول 15نومبر کو ہونے والے انتخابات پر منحصر ہے، جی بی کے عوام حقوق حاصل کرنے کے لئے انہیں جی بی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی ہی نے پاکستان کے عوام کو آئینی اور جمہوری حقوق دئیے۔ پیپلزپارٹی ہی وہ واحد پارٹی ہے جو ملک میں معاشی استحکام لا سکتی ہے، پی پی پی نے ہمیشہ مظلوم طبقات کے لئے کام کیا ہے،ہمیں جی بی کے عوام کو بھوک، غربت اور بیروزگاری سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قراقرم ہائی وے بنا کر عوام کو معاشی فائدہ پہنچایا، شہید ذوالفقار علی بھٹو ہی نے جی بی کے عوام کو کھانے پینے کی اشیاء، کپڑوں اور ٹرانسپورٹ کے لئے سبسڈی فراہم کی،اُنہوں نے سٹیل ملز جیسے ادارے بنا کر نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پید کئے،اُنہوں نے ہی عوام کو مفت پاسپورٹ کی سہولت فراہم کرکے بیرون ملک بھیجا تاکہ وہاں وہ روزگار حاصل کرکے اپنے خاندانوں کی حفاظت کر سکیں ،صدر زرداری نے بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفے پر عمل کیا اور سی پیک جیسا بڑا پروجیکٹ پاکستان لائے تاکہ جی بی، فاٹا اور بلوچستان کے عوام کو اس میگا پروجیکٹ کا فائدہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جی بی، فاٹا اور بلوچستان کے عوام سی پیک کے منصوبے سے مستفید نہیں ہو سکے لیکن پیپلز پارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ایسا ہو۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بابائے روزگار مہدی شاہ نے جی بی کے نوجوانوں کو جی بی کے نوجوانوں کو 25ہزار ملازمتیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے پاکستان بھر کی غریب خواتین کو سہولت پہنچانے کے لئے بی آئی ایس پی شروع کیا۔ پیپلزپارٹی نے سرکاری ملازمین اور فوجیوں کے لئے تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافہ کیا جس کے مقابلے میں موجودہ سلیکٹڈ حکومت نے ملک کے عوام کو غربت، بیروزگاری، قیمتوں میں اضافہ اور بھوک کی سونامی میں ڈبو دیا ہے،اس ظالم حکومت نے دواؤں کی قیمتوں میں بھی 400فیصد اضافہ کرکے جینا اور مرنا دونوں مہنگا کر دیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ہم سلیکٹڈ اور اس کے دوستوں کو جی بی کے ہر ضلعے میں شکست دیں گے،اس وقت پاکستان میں ہر طبقے کے لوگ اس حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر ہیں، پی ٹی آئی کی ظالم حکومت نے جی بی میں یوٹیلیٹی سٹورز بھی بند کر دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک جی بی علیحدہ صوبہ نہیں بنا ہے لیکن پھر بھی پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام پر ٹیکس مسلط کر دئیے ہیں،پیپلزپارٹی اس ٹیکس کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی خود ایک کٹھ پتلی حکومت ہے اور بدقسمتی سے کچھ پارٹیاں اس کٹھ پتلی کی کٹھ پتلی بننے کے لئے تیار ہوگئی ہیں،یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت امام حسین کے پیروکار ایک ظالم کے طرفدار بن جائیں،15نومبر کو ہم کٹھ پتلی اور کٹھ پتلیوں کی کٹھ پتلیوں کو شکست دیں گے اور جی بی کے عوام کا حق حاکمیت اور حق ملکیت دونوں یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی طرح جی بھی میں دل، جگر اور گردوں کے مفت ہسپتال قائم کئے جائیں گے،ہ پیپلزپارٹی کو مسائل کے حل کے لئے جی بی میں حکومت بنانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمرا ن خان ہر ادارے کو اپنی ٹائیگر فورس بنانا چاہتا ہے اس کی پیپلزپارٹی کبھی بھی اجازت نہیں دے گی، پاکستان کے عوام آج اس لئے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں کہ ان کے ووٹ کو چوری کیا گیا لیکن عوام کسی کو بھی عوام کے ووٹ چوری کرنے کیا اجازت نہیں دیں گے، ہم جی بی میں بھی اس چوری کو روکیں گے، پیپلزپارٹی پہلے جی بی میں حکومت بنائے گی اور اس کے بعد پاکستان میں پارٹی کی حکومت بنے گی، پاکستان میں جمہوری قوتیں عمران خان کی کٹھ پتلی حکومت جنوری کے مہینے میں خداحافظ کہنے جا رہی ہے۔

مزید :

علاقائی -گلگت بلتستان -گلگت -قومی -