بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی تک کا سفر

بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی تک کا سفر
بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی تک کا سفر

  

 محترم قارئین کرام ، گذشتہ رات کالم نگار رازش لیاقت پوری کی کال آئی تو انہوں نے پوچھا صبح کیا مصروفیات ہیں؟ میں نے احترام میں کہہ دیا "آپ حکم کریں میں حاضرہوں" تو رازش نے کہا آپ کل بہاولپور آجائیں ہم بھی کچھ کالم نگاردوست بہاولپور آرہے ہیں، ہمیں ادبی اور صحافتی حوالے سےوائس چانسلراسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورسمیت, کمشنراور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کرنی ہیں ۔ رازش لیاقت پوری کا شمار میرے ان دوستوں اور محسنوں میں ہوتا ہے جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور میری آبیاری کرنے میں ان کا کردار بھی مثالی ہے ۔2015ء میں جب میں قومی اخبار میں علاقائی سیاست, جرائم اور ادب پر لکھتا تھا تو رازش لیاقت پوری میری تحریروں میں جان ڈالنے کا کردار ادا کرتے تھے ۔ نقص اور غلطیوں کو خوب سنوار کر قارئین تک پہنچاتے تھے میں تب سے آج تک ان سے سیکھنے کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ صبح ہوئی تو معمول کے مطابق اٹھا اور بہاولپور کے لئے روانہ ہو گیا ۔

نوابوں کے شہر بہاولپور پہنچا تو اپنے دیرینہ دوست پولیس آفیسر افضل بابر کھوکھر کو نئی تعیناتی پر گلدستہ دینے انکے آفس گیا۔ ماضی کی باتوں اور یادوں کا ابھی ذکر شروع ہی ہوا تھا کہ رازش کا فون آگیا انہوں نے کہا آپ کمشنر آفس آجائیں ہم وہاں ٹھہرے ہیں ۔ بہاولپور داخل ہوتے ہی نواب سر صادق خان عباسی کے تعمیر کردہ شاندار فن شاہکار کی عکاسی کرتے محلات ,صادق مسجد اور بڑے بڑے گیٹ دیکھنے کو ملے جو بہاولپور کی پہچان ہیں ۔ کمشنر آفس پہنچے تو کمشنر بہاولپور چوہدری آصف اقبال نے خوش آمدید کہا اور ان سے بہاولپور کے ثقافتی ورثہ سمیت ادب, صحافت ,سیاست, بیوروکریسی, ملکی حالات, فوج کے مثبت کردار سمیت ڈویژن بہاولپور میں جاری ترقیاتی کاموں پر بات چیت ہوئی ۔ میں نے کمشنر صاحب سے اپنی پسماندہ تحصیل حاصل پور میں شہر کے اندر بھٹوں کی آلودگی پر گذارش کی تو انہوں نے بتایا حکومت تمام بھٹہ جات کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر لارہی ہے ۔

ہمارے ساتھ موجود دوستوں میں کالم نگار اکمل شاہد کنگ,شاعر دیوانہ بلوچ اور طاہر چوہدری موجود تھے ۔ اکمل شاہد کنگ نے کمشنر کو صادق آباد کی سالگرہ میں شمولیت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی ۔ اسی دوران میرا رابطہ بہاولپور کے سینئر صحافی اطہر لاشاری سے ہوا جو " کھیت کھلیان" کے نام سے روہی ٹی وی پر پروگرام کرتے ہیں انہوں نے بتایا " میرے والد ظفر لاشاری کا تعزیتی ریفرنس اسلامیہ یونیورسٹی میں ہے آپ وہاں آجائیں" جب دوستوں کے ہمراہ وہاں پہنچے تو تقریب شروع ہو چکی تھی اور اسلام آباد نیشنل پریس کلب کی نائب صدر ڈاکٹر سعدیہ کمال صاحبہ خطاب کررہی تھی یقینا انکے الفاظ سرائیکی وسیب کی عکاسی کررہے تھے ۔ سئیں ظفر لاشاری کا نام تو سنا تھا لیکن انکے متعلق جو باتیں اس دن سننے کو ملی وہ قابل مثال تھی ۔ سئیں ظفر لاشاری مرحوم پہلے سرائیکی کے صدارتی ایوارڈ یافتہ ناول نگار تھے ۔ شاعر, ادیب اور دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ بااخلاق اور خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے ۔

تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی انجینئر ڈاکٹر اطہر محبوب سے ملاقات کرنے انکے آفس پہنچے تو سیکرٹری زراعت ثاقب علی, چیمبر آف کامرس کے عہدیداران وہاں پہلے سے موجود تھے ۔ آفس پہنچ کر معلوم ہوا کہ جو بیٹھک سجی ہوئی ہے وہ کسانوں کے متعلق سیمینار منعقد کروانے پر جاری ہے جسمیں کسانوں کو نت نئے تجربات ومشاہدات سے روشناس کروایا جائے گا ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے اسلامیہ یونیورسٹی میں جاری ترقیاتی کاموں اور تعلیمی میدان میں کی گئی کاوشوں پر بریفنگ دی۔جن میں چیدہ چیدہ کا ذکر کروں گا۔ ایک سال کے مختصر عرصے میں جامع داخلہ پالیسی کے باعث طلباء کی تعداد 13500سے بڑھ کر 25000ہو گئی۔ طلبہ وطالبات کے داخلے کے لیے ایڈمیشن سہولت مرکز کا قیام اور سات نئی بسوں کا اضافہ ہوا ۔نواحی قصبات لال سوہانرا، خانقاہ شریف، یزمان اور لودھراں کے طلباء وطالبات کے لیے بسوں کے خصوصی پوائنٹس قائم کئے گئے اور رہائشی سہولیات کے لیے چار نئے ہاسٹلز کو فعال کیا گیا جہاں 500طلباء اور 500 طالبات رہائش اختیار کر سکتے ہیں ۔

فیکلٹیز کی تعداد چھ سے بڑا کر 13کر دی گئی اور شعبہ جات 48سے بڑھ کر 123ہو گئے ۔سکول آف مینجمنٹ بزنس اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز کا قیام , 9شعبہ جات کا اضافہ، انسٹی ٹیوٹ آف بائیو کیمسٹری وبائیو ٹیکنالوجی و بائیو انفارمیٹکس کا قیام، انسٹی ٹیوٹ آف فزکس کا قیام، فیکلٹی آف ویٹرنری میں 13شعبہ جات کا قیام، انجینئرنگ فیکلٹی میں 7شعبوں کا قیام، فیکلٹی آف لاء اینڈ اسلامک شریعہ کا قیام، فیکلٹی آف میڈیسن اینڈ آلائیڈ ہیلتھ سائنسز کا قیام اور فزیکل تھراپی پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج سمیت سکول آف نرسنگ اور ہیومین ڈائیٹ و نیوٹریشن کے نئے شعبہ جات ڈائریکٹریٹ آف اکیڈمکس کا قیام ,ایگزیکٹو ٹریننگ کا قیام ,اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور ٹیسٹنگ سروس کا قیام ,ایچ ای سی ڈیٹا سینٹر کا قیام ,آفس آف آکوپیشنل ہیلتھ اینڈ سیفٹی کا قیام ,بین الاقوامی رابطہ دفتر کا قیام ,ہیومین ریسورسزکے اقدامات ,223 نئے اساتذہ کی بذریعہ سلیکشن بورڈ ترقیاں و تعیناتیاں ہوئیں ۔

یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وسائل کی 60فیصد فراہمی یونیورسٹی کے اپنے ذرائع سے ممکن ہوئی ۔سکالرشپ کی مد میں اضافہ کرکے موجودہ مالیاتی سال میں 343ملین روپے کی رقم مختص کی گئی ۔وزیر اعظم احساس سکالرشپ کے تحت 2140طلبہ وطالبات کے لیے 20 کروڑ73لاکھ روپے تقسیم ہوئے ۔ایچ ای سی نیڈ بیس پروگرام کےتحت890طلبہ وطالبات کو 6کروڑ روپے تقسیم ہوئے ۔پاکستان بیت المال سے ہونے والے معاہدے کے تحت 200طلبہ وطالبات کے لیے2کروڑ روپے مختص ہوئے ۔ترقیاتی منصوبوں میں ایک ہزار کے رہائشی گنجائش کے چار ہاسٹل فعال کر دئیے گئے ۔

مینجمنٹ سائنس فیکلٹی بلڈنگ کی تزئین وآرائش اور جدید فرنیچر کی فراہمی تین سالہ ترقیاتی پلان کے تحت پانچ نئے اکیڈمک بلاکس برائے بہاول پور و بہاولنگر کی منظوری ہوئی ۔250میگا واٹ کے شمسی توانائی پلانٹ پر کام کا آغاز ہوا ۔کووڈ 19بحران کے بعد آن لائن کلاسز کا اجراء کر کے 22ہزار طلباء کا سمسٹر ضائع ہونے سے بچایا گیا ۔ وزیر اعظم ریلیف فنڈ میں 7ملین روپے سے زائد کا عطیہ دیا گیا ۔یونیورسٹی کی جانب سے ہینڈ سینٹائزرز پولیس اور ڈاکٹرز کو بلا معاوضہ فراہمی کی گئی ۔شعبہ انجینئرنگ کی جانب سے وینٹی لیٹر پروٹوٹائپ کی تیاری ,شعبہ آئی ٹی کی جانب سے بلڈ پلازمہ کی دستیابی کے لیے ایپ کی تیاری, کسانوں اور مویشی پال حضرات کے لیے ٹیلی فون سروس کا قیام ممکن ہوا ۔پہلی بار قومی سطح کے بہاول پور لٹریری اینڈ کلچرل فیسٹول کا انعقاد ہوا ۔بہاولپور چیمبر آف کامرس اور ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے اشتراک سے بہاول پور ٹریڈ فیئر کا آغازکیا گیا ۔

سن کر تعجب ہوا اور خوشی بھی کہ اہل بہاولپور کو ایسا وائس چانسلر میسر ہوا ہے جو پسماندہ علاقوں کے طلباء و طالبات کی بہتری کی بات کرتا ہے ۔دور دراز علاقوں میں بس سروسز مہیا کرنے کی بات کرتا ہے ۔یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر سے بہتر فروغ دینے کی بات کرتا ہے ۔کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور نت نئے تجربات و مشاہدات سے روشناس کروانے کی بات کرتا ہے ۔اہل ادب لوگوں کے لئے جامعہ میں سیمینار منعقد کروانے کی بات کرتا ہے ۔ صحافیوں کو ٹریننگ دینے اور الیکٹرانک میڈیا کی جدت سے روشناس کروانے کے لئے جامعہ میں سیمینار منعقد کروانے کی بات کرتا ہے حتی کہ ہر مکتبہ فکر کے افراد اس جامعہ سے مستفید ہوتے ہیں ۔ اسلامیہ یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں سمیت ادب, علم اور معاشرے کو درست سمت میں پروان چڑھانے کے لئے کی جانے والی سرگرمیاں قابل تعریف ہیں اور یہ بھی کنجوسی تصور ہو گی اگر کسی کے اچھے کام پر اسکی حوصلہ افزائی نہ ہو ۔

اسلامیہ یونیورسٹی کا مثبت عکس عوام اور معاشرے تک پہنچانے پر وائس چانسلر انجینئر ڈاکٹر اطہر محبوب مبارکباد اور داد کے مستحق ہیں۔ یوں "بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی تک کا سفر" پریس کلب بہاولپور کے صدر نصیر احمد ناصر کی پر تکلف چائے اور فرید گیٹ پر راحیل طاہر کی پر خلوص میزبانی پر اختتام پذیر ہوا ۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -