ہماری نیک ہدایات کو کچھ لوگ حکومت پر تنقید کی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں: چودھری شجاعت حسین 

ہماری نیک ہدایات کو کچھ لوگ حکومت پر تنقید کی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں: ...
ہماری نیک ہدایات کو کچھ لوگ حکومت پر تنقید کی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں: چودھری شجاعت حسین 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ بطور اتحادی حکومت کو دی گئی ہماری نیک ہدایات کو کچھ لوگ تنقید کی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی آف پاور اپنے صاحبزادے چودھری سالک حسین سے گفتگو کر رہے تھے جن کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی پاور کمیٹی نے بجلی پر سرچارج عائد کیے جانے کا بل منظور نہیں کیا تھا۔ اجلاس میں چودھری سالک حسین نے سختی سے کہا ہمیں بتایا جائے کہ آپ بجلی پر کون سا سرچارج لگانا چاہتے ہیں؟ اگر آپ واقعی قومی خسارہ پورا کرنا چاہتے ہیں تو کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ اس طرح کا سرچارج لگژری آئٹمز پر لگایا جائے؟کمیٹی کے تمام ممبران نےاس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اثرصارفین پر ہو گا اور مہنگائی کو خفیہ کور کرنے کی کوشش کی جائے گی، اس بل میں یہ منظور کروانا کہ کبھی بھی کسی بھی بل پر کوئی بھی سرچارج لگا دیں اوراس سے جمع شدہ اربوں روپے کی رقم کو فیڈرل گورنمنٹ کے صوابدید پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ جہاں چاہے اسے خرچ کر لے، اگر ٹیکس لگانا واقعی آپ کی مجبوری ہے تو ہمیں بتایا جائے کہ حکومت کے پاس کیا پلان ہے؟۔

چودھری شجاعت حسین نے یہ تمام باتیں سننے کے بعد اپنے بیٹے چودھری سالک حسین سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ پاکستان میں سب سے زیادہ لیڈ لے کر جیتے ہیں، کوئی ایسا کام نہ کرنا جو غریبوں کیلئے مہنگائی کی صورت میں مشکلات پیدا کرے، لو گوں کو آپ سے بہت توقعات ہیں ،آپ ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں، ہم اتحادی ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کو نیک ہدایات دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں لیکن کچھ لوگ اسے تنقید کی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -