مسلم کمرشل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس 

مسلم کمرشل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس 

  

لاہور(پ ر)یم سی بی بنک لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے میاں منشا کی سربراہی میں 27اکتوبر 2021کو بنک کی کارکردگی اور 9ماہ جو 30ستمبر2021کو ختم ہو رہے تھے کے عبوری مالیاتی گوشواروں کی منظوری دی۔بورڈ آف ڈائریکٹرز نے تیسرے عبوری کیش ڈیویڈینڈ4.5روپے فی شیئر کا اعلان کیا جو کہ 2021کو ختم ہونے والے سال میں 45فیصد سے بڑھ کر 140فیصد ہو جائے گا۔جس سے ڈیویڈینڈ میں بڑھوتری کا رجحان قائم ہے۔30ستمبر 2021کو ختم ہونے والے 9ماہ کے دوران ایم سی بی بنک نے ٹیکس سے قبل منافع38.27بلین اور ٹیکس سے بعد منافع22.56بلین رپورٹ کیا ہے۔اس طرح ہر شیئر پر منافع 19.3روپے جو پچھلے سال فی شیئر منافع 19.35روپے تھا۔کووڈ19کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نبرد آزما ہونے کے لئے اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے اپنی قابلِ توسیع مالیاتی پالیسی جاری رکھی ہے۔ اس سے پالیسی ریٹ میں تنزلی سے زیر نظرثانی عرصہ میں 27فیصد کمی ہوئی جو پچھلے سال ایوریج پالیسی ریٹ9.59فیصد سے کم ہے تاہم ایوریج کرنٹ ڈیپازٹ کو دیکھا جائے تو بنک کی نیٹ انٹرسٹ انکم میں صرف چودہ فیصد کمی ہوئی ہے جو کہ 55.35فیصد سے کم ہو کر 47.74بلین ہو گئی ہے۔نان مارک اپ انکم میں 6%اضافہ کے ساتھ 14.38بلین روپے رپورٹ کیا گیا جو پچھلے سال 13.56بلین تھا۔ ٹرانزیکشنز کے اضافی حجم، کاروباری سرگرمیوں، بنک کے پراڈکٹ کی وجہ سے بنک کے ریونیو میں مسلسل اضافہ اور چیزوں کو ڈیجیٹل کرنے پر انویسٹمنٹ اور اس صنعت میں سہولتوں کی فراہمی سے فی انکم میں 14فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ دیوڈینڈ اور فارن ایکسچینج انکم میں بالترتیب 98فیصد اور 21فیصد اضافہ ہوا۔مالیاتی پوزیشن کی طرف دیکھیں تو بنک کی ٹوٹل Asset Baseجن کو یکجا کئے بغیر نوٹ کیا گیا ہے 1931بلین (+10%)نوٹ کی گئیں۔ اثاثوں کی مجموعی کارکردگی کو دیکھا گیا تو صارفین کے اعتماد اور دلچسپی کی وجہ سے کنسٹریشن اور آٹو کے شعبہ کی و جہ سے اس میں 6.6بلین (23فیصد) اضافہ دیکھا گیا۔ گراس ایڈوانسز میں مجموعی طور پر 3+ Subduedفیصد رہا کیونکہ بنک نے دانشمندانہ طور پر لینڈنگ بک کو اسے رسک سے مربوط رکھا۔اثاثہ جات اور ایکوئٹی پر ریٹرن کی وجہ سے ان میں بالترتیب 1.63فیصد اور18.86فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔ جبکہ فی شیئر بک ویلیو132.09فیصد رپورٹ کی گئی۔

ایم سی بی نے زیر بحث نظرثانی پیرئیڈ میں 2.683بلین امریکی ڈالر کے ہوم ریمیٹنس کی حوصلہ افزائی کی تاکہ اسٹیٹ بنک کے بیرون ممالک سے رقوم کو ملک میں بذریعہ بنک ذرائع منتقلی کے مقصد میں حصہ دار بن سکے۔Repatriation کو بذریعہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ شروع کرکے ممکن بنانے کی کوشش کی گئی جو ستمبر 2020سے اس کی شروعات سے 170ملین امریکی ڈالر سے زائد ہو گئی۔بینک کی مثالی کارکردگی کوفنانس ایشیا کنٹری ایوارڈ دے کر سراہا گیا جس میں بینک کو بیسٹ بنک ان پاکستان کا اعزاز دے کر 2021تک اسکی خدمات کو سراہا گیا۔لوکل کریڈٹ ریٹنگز AAA/A1+کیٹیگریز کے ساتھ بنک طوئل مدتی اور مختصر مدتی شعبوں میں پاکرا نوٹیفیکیشن مورخہ 23-06-21کے تحت  بنک کوممتاز حیثیت حاصل ہے۔ بنک ملک کے مجموعی طور پر 1550سے زائد برانچز کے نیٹ ورک کے ساتھ ملک کا دوسرا بڑا بنک نیٹ ورک ہے۔

مزید :

کامرس -