جنسی زیادتی کے مجرم کانامرد بنانے کا آرڈیننس غیر اسلامی، متبادل سز ا دی جائے

  جنسی زیادتی کے مجرم کانامرد بنانے کا آرڈیننس غیر اسلامی، متبادل سز ا دی ...

  

          اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) اسلامی نظریاتی کونسل نے جنسی زیادتی کرنے والے مجرموں کو نامرد بنانے کے قانون کو غیر اسلامی قرار دے دیاہے۔اسلامی نظریاتی کونسل نے 225 ویں دو روزہ اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، اعلامیہ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے زیادتی کے مجرم کو نامرد بنانے کی سزا کو غیر اسلامی قرار دیدیا ہے، کونسل نے دیگر سزائیں دینے کی تجویز دیدی۔اسلامی نظریاتی کونسل نے رویت ہلال پر قانون سازی کے بل کی تائید کی، خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں رویت ہلال کے حوالے سے تربیتی سیشن کا انعقادکیا جائے۔ کونسل نے تعلیمی اداروں میں عربی لازم کرنے کے بل 2020ء کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا عربی زبان کی تدریس کیلئے اقدامات کرنا دینی اور آئینی تقاضا ہے، ثانوی تعلیمی اداروں میں بطور اختیاری مضمون فارسی، ترکی اور چینی زبان کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے۔صوبہ خیبر پختونخوا میں تنازعات کے متبادل حل کیلئے مسودہ بل میں کونسل نے تائید کرتے ہوئے چند ترامیم کی سفارش کی۔ کونسل نے رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام کو ایک مستحسن قدم قرار دیا اور وزیر اعظم پاکستان کے اس اقدام کو دور رس مثبت نتائج کا پیش خیمہ قرار دیا۔دینی مدارس میں گلشن قرآنی (قرآنی گارڈنز) متعارف کرائے جائیں اور مدارس و مساجد کے خالی رقبوں میں قرآنک گارڈنز قائم کئے جائیں۔ مارگلہ پہاڑیوں پر آگ لگنے کے واقعات کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو سخت سزائیں دی جائیں۔ کونسل نے ملتان میں عید میلاد النبیؐ کے دوران جلوس میں حورِ جنت کے نام پر کئے جانے والے عمل کو نامناسب قرار دیا اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کر کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے اور آئندہ کے لیے ایسی نامناسب حرکتوں کے انسداد کو یقینی بنایا جائے۔ 

اسلامی نظریاتی کونسل 

مزید :

صفحہ اول -