سیاحت کے فروغ سے ماحول متاثر نہیں ہونا چاہئے: چیف جسٹس قیصر رشید

سیاحت کے فروغ سے ماحول متاثر نہیں ہونا چاہئے: چیف جسٹس قیصر رشید

  

      پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید نے کہا ہے کہ حکومت سیاحت کوفروغ دے یہ اچھی بات ہے لیکن سیاحت سے ماحول متاثرہو ایسانہیں ہوناچاہیئے گلیات میں عمارتیں بن رہی ہیں ان کی نکاسی کے لئے کچھ انتظامات کئے گئے ہیں یانہیں ایسانہ ہوکہ عمارتوں کی سیوریج جنگل میں جارہے ہوں اوراس سے ماحول متاثرہوں یہ ریمارکس فاضل چیف جسٹس نے گذشتہ روز گلیات میں غیر قانونی تعمیرات اور دریاؤں کے کنارے تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دئیے  اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر ہزارہ, ڈی جی گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی رضا علی حبیب, اے سی ایبٹ آباد, ڈی سی سوات جنید خان, سپرٹینڈنٹ انجنیئر محکمہ آبپاشی سوات اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سید سکندرحیات شاہ, بابر خان یوسفزئی, اعجاز صابی, سردار امان, بیرسٹر وقار, عامر علی خان ایڈوکیٹ اور دیگر وکلاء بھی  عدالت میں پیش ہوئے  اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنرایبٹ آباد نے عدالت کو بتایاکہ گلیات میں جہاں پر غیر قانونی عمارتیں یا بلڈنگ بن رہی ہیں ان پر پابندی لگائی گئی ہے ایسی عمارتوں کو کو سیل کیا گیاہے اسی طرح ڈی جی گلیات نے عدالت کو بتایا کہ  گلیات میں جہاں پر بھی سیوریج یا پانی کے پائپ خراب  ہیں ان پر جرمانہ عائد کررہے ہیں گورنر ہاؤس, سپیکر ہاؤس کے سیوریج پائپ خراب تھے ان کو بھی جرمانہ کیا گیاہے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ  بہت اچھا کیا ہے جوڈیشری بھی کوئی خلاف وزری کرے تو ان کو بھی جرمانہ کریں ڈی جی گلیات نے بتایا کہ جوڈیشری کو بھی خلاف وزری پر جرمانہ کیا ہے جو بھی خلاف وزری کرتے ہیں ان کو نہیں چھوڑتے چیف جسٹس قیصررشید نے اس موقع پر کہاکہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کروگے تو پھر کسی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا, منظور نظر افراد کے ساتھ رعایت کریں گے تو پھر مسائل ہونگے اسسٹنٹ کمشنرایبٹ آباد نے عدالت کو بتایاکہ ہرنوئی ندی کے کنارے  تعمیرات کی این او سی ٹی ایم اے اور محکمہ آبپاشی نے دی ہے جس پر چیف جسٹس نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ٹی ایم اے کے کرپٹ افسران کی وجہ سے کام  خراب ہے  ٹی ایم اے نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کو اب ٹھیک کیاجائے ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ آپ بھی ویسے ہی چھوڑ دے اس موقع پر ایڈیشنل کمشنرہزارہ نے عدالت کو بتایاکہ جھیل سیف الملوک کو صاف کیا ہے, جنریٹر بوٹس پر پابندی لگائی گئی ہے  اسی طرح مچھلی کے غیر قانونی شکار پر بھی پابندی لگائی ہے۔ڈی سی سوات نے بتایا کہ دریا سوات کے کنارے جو بھی غیر قانونی تعمیرات اور مائیننگ ہورہی تھی اس پر پابندی لگائی ہے بونیر میں ماربل سٹی بن رہی ہے اس کے لئے پی سی ون تیار ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ماربل سٹی کے لئے ایک ہزار کنال زمین ایکوائر(acquired) کی گئی ہے جبکہ سپرنٹنڈنٹ انجینئرمحکمہ آبپاشی سوات نے عدالت کو بتایا کہ 2010 سیلاب کی وجہ سے دریائے سوات کو بہت نقصان پہنچا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ دریا سوات کا جو حلیہ بگاڑ دیا گیاہے اس کواب ٹھیک کریں  عدالت نے نے کہاکہ صوبائی حکومت نے دریائے سوات کے لئے 2.5بلین, دریائے پنجگوڑہ کے لئے 2 بلین اور دریائے کنہار کے لئے 500 ملین روپے جاری کئے ہیں دریائے کو اب ٹھیک کرے, غیر قانونی کام اب نہیں ہونا چاہیئے عدالت نے متعلقہ حکام سے پراگرس رپورٹ طلب  کرتے ہوئے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کردی۔

مزید :

صفحہ اول -