وزیراعلٰی سندھ کی زیر صدار ت اجلاس، 19سکیموں پر پیشرفت کا جائزہ 

وزیراعلٰی سندھ کی زیر صدار ت اجلاس، 19سکیموں پر پیشرفت کا جائزہ 

  

       کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلی ہاؤس میں کراچی اے ڈی پی کے تحت 14.67 ارب روپے کے میگا پراجیکٹس کے تحت شروع کی گئی 19 اسکیموں پر پیشرفت کا جائزہ لیا، جن میں 7.1 ارب روپے کی 6 جاری اور 7.57 ارب روپے کی 13 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔ انہوں نے  ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی  کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ  کہ وہ  ذاتی طورپر   کام کی رفتار اور معیار کی نگرانی کریں۔انہوں نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی مرتضی وہاب کو کراچی شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو خوبصورت بنانے اور سہراب گوٹھ سے تجاوزات ہٹانے اور علاقے کو خوبصورت بنانے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی مرتضی وہاب، کمشنر کراچی اقبال میمن، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، چیئرمین پی اینڈ ڈی حسن نقوی، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی، پی ڈی کراچی پیکیج نجیب احمد، پروگرام منیجر خالد مسرور اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔وزیراعلی سندھ  نے 7.1 بلین روپے کی میگا اسکیموں پر پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی کو انڈر پاس سب میرین چورنگی کو خوبصورت بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ   یہ  ایک اہم انڈر پاس ہے جو کلفٹن اور ڈیفنس ایریا کے  درمیان میں واقع ہے، اس لیے  اسے دلکش اور خوبصورت ہونا چاہیے۔وزیراعلی سندھ  کو بتایا گیا کہ یو ٹرن ناتھا خان اسکیم 214.466 ملین روپے  سے شروع کی گئی۔ اس کی تعمیر  کا کام 70 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور باقی زیر التوا کام جاری ہے۔ وزیراعلی سندھ نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو ہدایت کی کہ ٹریفک کی بہتر  روانی کے لیے اسے  جلد مکمل کیا جائے۔12000 روڈ اسکیم کی تعمیر نو کا کام 2  بلین روپے سے شروع کیا گیا تھا اور اس کی تعمیر  کا 50 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ وزیراعلی سندھ  نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ جاری کام کا دورہ کریں اور انہیں اس  پر ہونے والے کام  کی  رفتار اور معیار کے بارے میں رپورٹ پیش کریں۔وزیراعلی سندھ  کو بتایا گیا کہ   198.8  ملین روپے کی لاگت سے    اسٹار گیٹ سے چکورہ نالہ تک برساتی نالہ کی تعمیر پر کام  ہورہا ہے، شاہراہ فیصل کا کام 85 فیصد مکمل ہو چکا ہے لیکن اسے  چکورہ نالے سے منسلک کیا گیا  ہے کیونکہ سول ایوی ایشن کی ہاسنگ سوسائٹی نے این او سی جاری کرنے سے انکار کر دیا  ہے۔ وزیراعلی سندھ  نے کہا کہ بارش کے پانی کو ٹھکانے لگانے کی یہ اہم اسکیم ہے۔ انہوں نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی کہ متعلقہ حکام سے بات کریں اور کام کو دوبارہ شروع کریں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ1.4122 بلین روپے کی لاگت  سے  گلبائی سے وائی جنکشن تک سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے جس میں  برساتی نالے کی تعمیر کا کام 88 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے ایشو اٹھایا کہ ڈینٹرز نے نئی تعمیر شدہ سڑک کے ساتھ اپنا  ڈینٹنگ   کا  کام شروع کر دیا ہے اور سروس لین کے ساتھ گاڑیوں کی پارکنگ بنائی جا رہی ہے۔ اس پر وزیراعلی سندھ  نے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کیماڑی کو ہدایت کی کہ وہ سڑک کے کنارے سے ہر قسم کی تجاوزات ہٹا کرانہیں  رپورٹ پیش کریں۔ایک اور اسکیم جو زیر بحث آئی وہ تھی سائٹ کراچی میں 1 بلین روپے سے مختلف سڑکوں اور اس سے منسلک کاموں کی تعمیر نو۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے وزیراعلی سندھ  کو بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر جاری کاموں کا دورہ کیا ہے اور کچھ سڑکوں کے ساتھ برساتی نالے اور سیوریج سسٹم کی تعمیر کی اشد ضرورت محسوس کی ہے۔وزیراعلی سندھ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ برساتی پانی کی ا سکیموں کو مین سکیموں میں شامل کر کے ان پر کام شروع کیا جائے۔صوبائی حکومت نے شہر میں 7.5 ارب روپے کی 13 نئی اسکیمیں شروع کر دی ہیں۔ ان میں 1.1 بلین روپے  کی لاگت سے عبداللہ کالج سے قلندریہ چوک تک شاہراہ نور جہاں کی تعمیر، 370 ملین روپے  کی لاگت سے شیر شاہ چوک سے مرزا آدم خان روڈ تک سڑک سمیت برساتی نالے  کی تعمیر،  450 ملین روپے کی لاگت سے گلبرگ چورنگی سے یو بی ایل کمپلیکس تک سڑک کی تعمیر،200 ملین روپے  کی لاگت سے رفیقی شہید روڈ کی تعمیر،200 ملین روپے کی لاگت سے رزاق آباد سے شیدی گوٹھ تک بڑی سڑکوں کی تعمیر، 261 ملین روپے سے سول ہسپتال کے اطراف کی سڑکوں کی تعمیر،995.461 ملین روپے کی لاگت سے چاکیواڑہ، محراب خان اور ٹینری سڑکوں کی تعمیر سمیت لیاری میں برساتی پانی  کے نالے کی تعمیر شامل ہیں۔ 

مزید :

صفحہ اول -