عوام ہو جائے ہوشیار۔۔۔

عوام ہو جائے ہوشیار۔۔۔
عوام ہو جائے ہوشیار۔۔۔

  

ایک خبر کے مطابق  نومبر کے آغاز میں عوام پر ایک بار پھر پٹرول بم گرانے  کے خدشات منڈلانے لگے ہیں۔ آئل مارکیٹینگ کمپنیز ذرائع کے مطابق  پٹرول  کی قیمت  میں 7 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے فی لٹر تک اضافے کا امکان ہے۔  یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پٹرول کی قیمت میں 10روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد پٹرول کی فی لٹر قیمت  137.79 روپے تک جا پہنچی چونکہ اب پیسوں کے بجائے روپے کا دور ہے تو  پٹرول صارفین سے 138 روپے ہی وصول کیے جارہے ہیں۔  اگر آئندہ ماہ پٹرول کی قیمت میں 7 روپے کا اضافہ ہوتا ہے تو فی لٹر پٹرول کی قیمت 145 روپے کے لگ بھگ پہنچ جائے گی جو کہ غربت میں پسی عوام کی کمر مزید توڑنے کا باعث بنے گی۔  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے اثرات لامحالہ دیگر اشیائے ضروریہ پر بھی پڑیں گے۔   اور یہ بھی تاریخ میں پہلی  بار ہوا کہ  اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں  5روپے فی لٹر اضافے کی سفارش کی جبکہ وزیراعظم آفس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10روپے فی لٹر اضافہ کردیا۔

حکومت کی جانب سے  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے  پر جو جواز تراشا اور گھڑا گھڑایا جواب دیاجاتا ہے وہ یہ ہے کہ  کورونا کے باعث عالمی منڈیوں میں  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں جس کے باعث پاکستان میں بھی   اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے، مہنگائی سے چُور عوام کے زخموں پر مزید نمک پاشی کے لیے ساتھ حکومتی وزرا اور مشیران و معاونین  یہ بھی جتلا دیتے ہیں کہ  پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگائی کم ہے۔ یا یہ کہا جاتا ہے کہ جتنی  ضرورت پٹرولیم مصنوعات یا دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمت بڑھانے کی ہے حکومت نے عوام کا  ’’ خاص خیال ‘‘ رکھتے ہوئے  قیمتوں میں کم اضافہ کیا ہے۔ سابق وزیر خزانہ وموجودہ مشیر خزانہ   شوکت ترین تو یہ تک کہہ چکے کہ مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ۔ حکومتی زعما کے ایسے بیانات سے  عوام کی تشویش میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

 کچھ حکومتی وزرا تو ایسے ہیں جو عوام کو  کم کھانے کے  ’’ مفت ‘‘ مشوروں سے بھی نوازتے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے امور کشمیر  علی امین گنڈا پور کا ہی بیان لے لیں، موصوف کا ایک پرانا کلپ وائرل ہوا جس میں فرما رہے تھے کہ ’’ مہنگائی کا فائدہ تو ہمارے ہی لوگوں کو ہے، ٹماٹر اور آلو کی قیمت بڑھنے سے   کسانوں کو وافر منافع ہوا‘‘ پی ٹی آئی کے پی کے ایک اور رہنما  نے ایک موقع پر فرمایا کہ  ’’ مہنگائی ہے تو کیا ہوا ، عوام دو کے بجائے ایک روٹی کھا لیں ، شکر کے دو دانوں کے بجائے ایک دانہ استعمال کرلیں ‘‘  ایسے بیانات دے کر حکومتی وزرا مہنگائی اور غربت میں پستے عوام کی بے پرکی اڑاتے ہیں۔

اب تو صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ’’ امپورٹڈ‘‘  گورنر سٹیٹ بینک بھی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے میں پیچھے نہیں رہے ۔ موصوف کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا جس میں وہ روپے کی گراوٹ اور ڈالر کی اونچی اڑان کے  ’’فوائد ‘‘ بیان کررہے تھے۔  جناب رضا باقر کا کہنا تھا کہ   ڈالر کی قیمت بڑھنے سے اوور سیز پاکستانیوں کو فائدہ ہو گا، وہ ڈالر پاکستان بھیجیں گے تو ان کے اہل خانہ ڈالر کے بدلے میں زیادہ پاکستانی روپے حاصل کر سکیں گے۔ یہ موصوف جو کہ  آئی ایم ایف سے  ’’امپورٹ ‘‘ کیے گئے ہیں مدت پوری ہوتے ہی دوبارہ آئی ایم ایف کی نوکری پر جا بیٹھیں گے بعد میں پاکستان جانے اور  یہاں کے کرتا دھرتا جانیں۔

 بات کرلیں مہنگائی کی تو پاکستان میں گزشتہ تین سالوں کے دوران ہونے والی مہنگائی کا جائزہ لیں تو ادارہ شماریات کے  سرکاری اعدادوشمار ہی عوام کے ہوش اڑانے کے لیے کافی ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں پاکستان میں ہونے والی مہنگائی نے پچھلے ستر سال کے ریکارڈ کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ  کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ  پاکستان تحریک انصاف نے مہنگائی کے معاملے میں عوام کیساتھ خوب ’’انصاف‘‘ کا معاملہ روا رکھا ہے۔  رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں  بجلی کی قیمت میں  57 فیصد، پٹرول کی قیمت میں 49 فیصد ، چینی کی قیمت میں  100فیصد،آٹا کی قیمت میں 52 فیصد، دالوں کی قیمت میں76 فیصد، چکن60، بیف اور مٹن کی قیمت میں بالترتیب 48 اور 43 فیصد اضافہ کیا گیا۔

 ان سب اشیائے ضرویہ کی قیمتوں میں اضافہ کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ پٹرولیم کی قیمتوں کے ساتھ جڑا ہے۔ جب روپے کی قدر کم ہو گی ڈالر جو کہ 176 کی حد کو عبور کررہا ہے پاکستانی روپے کو زمین بوس کرے گا تو لامحالہ  اس کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑیں گے۔ جب مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بات کی جائے تو پی ٹی آئی کے حکومتی وزرا ، مشیران و معاونین پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھنے کو عالمی منڈی سے جورٹے ہیں۔ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک سے کم ہیں۔  لیکن کبھی حکومت کو یہ بتانے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی کہ  خطے کے دیگر ممالک کی کرنسی پاکستان کے مقابلے میں کتنی مضبوط ہے، کبھی یہ بتانے کی جرات کسی کرتا دھرتا نے نہیں کی کہ عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ خطے کے دیگر ممالک میں فی کس آمدنی اور یومیہ اجرت کیا ہے۔ چلیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ذرا اعدادوشمار ملاحظہ ہوں:۔

ہمارے مشرقی ہمسایہ ملک بھارت کی بات کی جائے تو  آج جس وقت یہ تحریر لکھی جارہی ہے  بھارت میں پٹرول کی قیمت 107.59 بھارتی روپے فی لٹر ہے، جبکہ پاکستان میں پاکستانی کرنسی میں  پٹرول کی قیمت  145 روپے تک پہنچنے کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ بنگلہ دیش میں  پٹرول کی قیمت  بنگلالی ٹکا میں  89 روپے لٹر ہے، افغانستان میں  پٹرول  65 روپے لٹر افغانی میں  ملتا ہے۔ اگر حکومتی وزرا  مہنگائی کا موازنہ مغربی ممالک سے کرتے ہیں تو  وہاں  فی کس آمدن پاکستان سے کہیں زیادہ ہے امریکا میں   یومیہ آمدن  فی گھنٹہ کے حساب سے دی جاتی ہے،  امریکا میں کم از کم  7.25 ڈالر فی گھنٹہ اجرت دی جاتی ہے ۔  جوکہ پاکستانی روپوں میں  1225 روپے فی گھنٹہ بنتے ہیں ۔ انگلینڈ کی بات کی جائے تو وہاں 9.5 سٹرلنگ پاؤنڈ فی گھنٹہ اجرت دی جاتی ہے  جو کہ پاکستانی روپوں میں2258 روپے بنتے ہیں۔ ان اعدوشمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو  باقی ممالک میں اگر مہنگائی ہے تو وہاں اجرت گھنٹوں کے حساب سے دی جاتی ہے  اور پاکستانی روپوں میں وہ ہزاروں روپے فی گھنٹہ بنتے ہیں ۔

موجودہ وزرا اگر باتوں اور اعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں عوام  کو الجھانے کے بجائے  معیشت کو بہتر کرنے پر فوکس  کرتے تو آج ملکی معیشت کے جو حالات ہیں وہ نہ ہوتے ۔ عوام اس مشکل میں نہ ہوتے جس کا سامنا آج وہ کررہے ہیں۔ صرف یہ کہہ کر   جان چھڑا لینا کہ  دیگر ممالک میں بھی مہنگائی ہے  کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ  آئے روز کی  باتوں کے گورکھ دھندے کے بجائے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرئے۔  مزید یہ کہ  ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جن سے مہنگائی میں پسے عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہو۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -