ایم کیو ایم لندن کے 12 را ایجنٹوں کیخلاف کیس، عدالت کا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پر عدم اطمینان کا اظہار 

ایم کیو ایم لندن کے 12 را ایجنٹوں کیخلاف کیس، عدالت کا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ...
ایم کیو ایم لندن کے 12 را ایجنٹوں کیخلاف کیس، عدالت کا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پر عدم اطمینان کا اظہار 

  

کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ایم کیو ایم لندن کے 12 را ایجنٹوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔

نجی ٹی وی اے آر وائی کے مطابق عدالت کی جانب سے ایف آئی اے کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ عدالت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی معاونت کرنے سے مطمئن نہیں ہے ، ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیرر ازم ونگ کا پراسیکیوٹر دو نومبر تک تعینات کرے ۔

دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم شاہد عرف متحدہ ، ملزم امجد خان خفیہ ای میل چلا رہے تھے ، ملزمان کو کود آئی ڈی بھارتی خفیہ ایجنسی را نے فراہم کی تھی ، خفیہ ای میلز سے ملزمان را سے رابطے میں تھے ، تمام ہداایت بھارت میں موجود محمود صدیقی عرف امان سے ملتی تھی ۔ 

تفتیشی افسر نے انکشاف کیا کہ ملزم محمود صدیقی عرف امان متحدہ رہنما قمر منصور کا بھائی ہے ، غیر قانونی فنڈنگ ، ٹرانسفر ، معلومات بھارت کو دی جا رہی تھیں ، ملزم شاہد متحدہ لندن کا سرگرم رکن ہے جس نے بھارت کے کئی دورے کئے ، شاہد را سے رابطوں میں تھا ، ماجد خان ، سراج کے ساتھ سلیپر سیل چلاتا تھا ، محمود صدیقی بھارت سے بھاری فنڈ ہنڈی کے ذریعے منگواتا تھا جسے بھارت سے خفیہ ایجنسی را بھیجتی تھی ، ملزم محمود صدیقی فنڈز مختلف بینکوں میں جمع کراتا تھا ۔ سراج متحدہ بانی کا قریبی رشتہ دار ہے جبکہ عمران فاروق قتل کیس میں بھی ملوث ہے ۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم شہزاد پرویز متحدہ کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا انچارج تھا ملزم نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے ، ملزم شہزاد پرویز نے محمود صدیقی کی ہدایات پر کئی ٹارگٹ کلنگ کی ، ملزم شہزاد پرویز بھارتی خفیہ ایجنسی را تربیت یافتہ ہے ، ملزم شہزاد پرویز کو 2014 میں سندھ پولیس میں اے ایس آئی بھرتی کیا گیا، شہزاد پرویز نے کراچی یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ رجسٹرار ملازمت بھی کی ۔کیس میں محمود صدیقی عرف امان ، شہزاد پرویز، سراج ، شاہد ، ماجد خان ، عادل ، ، امجد ، آصف، ظفر خان ، مصور علی اور جنید بھی شامل ہیں ۔

مزید :

قومی -جرم و انصاف -