آرگنائزڈ کرائم 

      آرگنائزڈ کرائم 
      آرگنائزڈ کرائم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  جرائم کی دُنیا میں ”آرگنائزڈ کرائم“ کی اصطلاع بہت جانی پہچانی ہے، اردو ڈکشنری کے مطابق اس لفظ کا معنی ”منظم جرم“ بنتا ہے۔ یعنی ایک ایسا جرم جو اچانک یا انجانے میں نہیں،بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہوا۔ کسی جرائم پیشہ گروہ یا افراد کی جانب سے جرم کے ارتکاب سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا گیاہو، ٹارگٹ ہٹ ہونے کی صورت میں اس کے ممکنہ اثرات، رد عمل اور مقررہ اہداف کے حصول کے لئے بھی پیشگی حکمت عملی ترتیب دی جائے۔

یہ بات اب تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے ”آرگنائزڈ کرائم“ کے تحت سوشل میڈیا کا منفی استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کے نا پختہ ذہنوں کو نا صرف اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا بلکہ انہیں سسٹم سے متنفر کیا۔ منظم منصوبہ بندی کے تحت چلتے ہوئے نظام کے خلاف ان کے اندر بددلی پھیلائی، جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے ان کی پسند نا پسند پر اثر انداز ہوئے جبکہ مکمل پلاننگ کے ساتھ ان کچے اذہان میں فرسٹریشن ”انجیکٹ“ کی۔ ہم تو پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پالیسی کے روز اوّل سے ناقد ہیں تاہم اب سرکاری سطح پر مرتب کی جانے والی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ تمام تر الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ریاست مخالف پراپیگنڈے میں ملوث پائی گئی ہے۔جس نے سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی قیادت کا جعلی امیج گھڑنے اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے کا ارتکاب کیا۔ مخالفین کی کردار کشی اور ہرزہ سرائی کے لئے سوشل میڈیا ٹیموں کا بے دریغ استعمال کیا جبکہ سرکاری پیسوں سے ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے کی مکروہ حرکت کی۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں منفی پراپیگنڈے کے اس پراجیکٹ کی لاگت 870 ملین روپے رکھی گئی تھی اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کی آڑ میں سوشل میڈیا ٹیموں کو اپنا مذموم بیانیہ پھیلانے کا ٹاسک دیا گیا۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو سیاسی مقاصد، پراپیگنڈہ مہم اور ڈس انفارمیشن کے لئے استعمال کیا گیا، ان میں شخصیت پرستی کا پرچار کرنے اور پی ٹی آئی کے سیاسی بیانیے کو آگے بڑھانے کے لئے سوشل میڈیا پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے معاشرے میں نفرت انگیز بیانیے اور عدم برداشت کے رویوں کو فروغ دیا۔ ان سوشل میڈیا ٹیموں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے پر 25 سے 40 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی گئی،جس پر مجموعی طور پر ماہانہ کروڑوں روپے کے فنڈر رکھے گئے۔ دستاویزات کے مطابق ریاست مخالف اس پراپیگنڈے میں شامل 800 اکاؤنٹس کی جب تحقیقات کی گئیں تو چشم کشا حقائق سامنے آئے جن کے مطابق ان ملازمین میں سے 72.5 فیصد اکاؤنٹس کا 2021ء سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کی طرف کوئی خاص سیاسی جھکاؤ نہیں تھا تاہم حیران کن طور پر جون 2022ء   کے بعد 86 فیصد اکاؤنٹس نے سیاسی بیانیہ تبدیل کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پی ٹی آئی کا سیاسی بیانیہ پوسٹ کرنا شروع کر دیا۔

ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی کا کبھی کوئی نظریہ تھا ہی نہیں۔یہ ایک سازش تھی جو پہلے فارن فنڈنگ کے ذ یعے پاکستان دشمن طاقتیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے کروا رہی تھیں، جبکہ پی ٹی آئی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اس نا پاک مقصد کو قومی خزانے کے بے دریغ استعمال سے آگے بڑھایا جاتا رہا۔پی ٹی آئی حکومت نے عوام کے ٹیکس کا پیسہ اپنی پراپیگنڈہ مہم کے لئے جھونک دیااور اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے نوجوانوں کو بھرتی کیا جن کو اخلاقیات اور شرافت کے اصولوں کے خلاف استعمال کیا۔ انہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائے گئے اشتعال انگیز مواد کے نتیجے میں سانحہ 9 مئی ہوا اور پی ٹی آئی قائدین اور کارکنوں نے ان اکاؤنٹس کے ذریعے عوام کو اشتعال دلانے، تشدد پر بھڑکانے اور ممکنہ طور پر قومی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لئے اکسایا جبکہ عوام اور اداروں میں نفرت پھیلا کر دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

مندرجہ بالا حقائق نے عمران خان اور پی ٹی آئی کی ”دو نمبری“ پر مہر ثبت کر دی ہے،اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ نوجوان جو ملکی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں،انہیں گمراہ کرنے کے لئے پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کا منفی استعمال کیا۔ دنیا بھر کی مارکیٹنگ کمپنیاں اور مصنوعات ساز اداروں کے آر اینڈ ڈی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ) ڈیپارٹمنٹ کسی پراڈکٹ کی تیاری سے پہلے ہی مکمل منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ اس کے خریدار کون لوگ ہونگے، یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں دیگر ممالک میں اپنی مصنوعات بیچتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ اس ”منڈی“ میں زیادہ تر خریدار کس ایج گروپ یا ذہنیت کے مالک ہیں، تا کہ مصنوعات کی تیاری اور اس کی تشہیری مہم میں ان رجحانات کو مد رکھتے ہوئے کشش پیدا کی جائے۔ 

پاکستان کے مذہبی و اقتصادی حالات، طرز معاشرت اور خاندانی نظام کے تناظر میں کم عمری کی شادیا ں اور پھر شادی کے فوراً بعد کم وقفے سے زیادہ بچوں کی پیدائش اور خواتین کی جانب سے کیریئر وغیرہ کے مسائل نہ ہونے کے باعث تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا، بڑے شہروں میں کسی حد تک لوگوں میں شعور پیدا ہوا ہے تاہم چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں صورتحال زیادہ بہتر نہیں ہوئی۔ لہٰذا تیزی سے پیدا ہونے والے بچے تیزی سے جوان ہو جاتے ہیں،جن کے لئے اعلیٰ تعلیم اورپھر با عزت روزگار کا حصول بہت بڑا چیلنج ہے۔ بھرپور ایام جوانی میں جب جسم کے اندر توانائی کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہو، آپ کا دماغ انرجی سے بھرا ہوا لیکن کرنے کے لئے کوئی ڈھنگ کا کام یا مصروفیت نہ ہو تو پھر نوجوانوں کے بھٹکنے کا احتمال رہتا ہے، ایسے میں رہبروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے نوجوانوں کی سمت کا تعین کرنے میں ان کی رہنمائی فرمائیں۔عمران خان پاکستان کے وہ واحد سیاستدان تھے، جنہوں نے نوجوانوں کے ”پوٹینشل“ کا صحیح اندازہ لگاتے ہوئے انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا، یہی وہ ”آرگنائزڈ کرائم“ ہے جو اس ملک کی نوجوان نسل کے ساتھ ہوا ہے۔ اسی منظم جرم کے نتیجے میں آج ایک ایسی قوم تیار ہوئی ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے، ان کے اندر جذباتیت، شدت، غصہ اور مایوسی کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے۔ اب ان نوجوانوں کو واپس راہ راست پر لانے کے لئے سیاسی جماعتوں اور سوسائٹی کے دیگر شعبہ جات کو مل کر کام کرنا ہوگا تا کہ نوجوانوں کی شکل میں موجود ملک کا یہ قیمتی سرمایہ ضائع ہونے سے بچ سکے۔

مزید :

رائے -کالم -