آج پاکستان کی بیٹنگ کا امتحان ہے

آج پاکستان کی بیٹنگ کا امتحان ہے
آج پاکستان کی بیٹنگ کا امتحان ہے

  

نیوزی لینڈ اورسری لنکا کا میچ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ پاکستان نے جو کرکٹ کھیلی ہے وہ ان دونوں ٹیموں سے بہتر تھی پاکستان دونوں میچ جیت کر سرخروح ہوا کرکٹ پر بات کرنے والے اس کو بھی موزوں بنا رہے ہیں کہ پاکستان کو سپر ایٹ کے مشکل ترین مرحلہ میں رکھا گیا ہے جہاں بھارت، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا جیسی طاقت ور ٹیموں بیھٹی ہیں یہ منطق غلط ہے ٹی ٹوئنٹی میں ہمیشہ پاکستان کی ٹیم فیورٹ رہی ہے اس کو وہی مقام دیا گیا ہے جس کی وہ مستحق ہے سپر ایٹ کے پہلے میچ میں سری لنکا نے سپر اوور کی بدولت نیوزی لینڈ کو شکست سے دوچار کر دیا وہ صرف لوکل کنڈیشن کی وجہ سے جیت گیاورنہ اس ٹیم میں اتنا دم خم نہ تھا۔

جہاں تک پاکستان اور جنوبی افریقہ کا تعلق ہے ریکارڈ کے مطابق افریکہ جیت کے تناسب سے پاکستان سے ایک میچ آگے ہے مگر پاکستان کے پاس اس وقت تین ایسے باﺅلر ہیں جو ٹی ٹوئنٹی کے چار بہترین باﺅلرز میں شمار ہوتے ہیں آفریدی اور عمرگل مجموعی طور پر اس ٹورنامنٹ میں اتنے کامیاب نہیں اگر آفریدی اور عمر گل، سعید اجمل کے ساتھ اوسط درجہ کی پرفارمنس دے تو جنوبی افریقہ کے کیلس، ہاشم آملہ اور رچرڈ کیلئے مشکلات ہو سکتی ہیں پاکستان کی فیلڈنگ اوسط درجہ کی بلکہ بعض اوقات انتہائی خراب ہوتی ہے جو جنوبی افریقہ کے خلاف مقابلہ کی نوعیت کو خراب کر سکتی ہے بیٹنگ کا شعبہ بھی کمزور ہے آج بیٹسمینوں کا امتحان ہے آج دوسرا میچ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان میں پریما داسا کی وکٹ بیٹنگ ہے بھارتی سپنر معیاری ہیں مگر انہیں سپن وکٹ بھی ملنی چاہیے آسٹریلوی ٹیم تعیمر نو کے مرحلہ میں ہے مگر پھر بھی کسی بھی ٹیم کو شکت دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر بتا سکتا ہوں کہ کولمبو بڑے میچوں کے دوران بارش کی وجہ سے انتظامات کا ستیاناس کرتا رہا ہے آج حفیظ کی کپتانی کا کڑا امتحان ہے

مزید :

کالم -