بابا ئے جمہوریت نوابز ادہ نصر اﷲ خاں(مرحوم) ایک محبِ وطن سیاستدان (2)

بابا ئے جمہوریت نوابز ادہ نصر اﷲ خاں(مرحوم) ایک محبِ وطن سیاستدان (2)
بابا ئے جمہوریت نوابز ادہ نصر اﷲ خاں(مرحوم) ایک محبِ وطن سیاستدان (2)

  



نواب زادہ نصر اﷲ خاں نے اِس پر اعترض کیا تھا۔نواب زادہ نصراﷲ خاں کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو جنرل اسلم بیگ کو اپنے آفس طلب کرنا چاہیے تھا۔جنرل اسلم بیگ نے مولانا فضل الرحمن کو کہا کہ’بے نظیر بھٹو مجھے کچھ دینے نہیں آئی تھیں ۔وہ مجھ سے مانگنے آئی تھیںاور مانگنے والوں کو دینے والوں کے پاس آنا پڑتا ہے‘۔مولانا فضل الرحمن نے بعد ازاں وزیراعظم سے ملاقات کی اور اُنہیں نواب زادہ نصر اﷲ خاں کے بارے میں قائل کرنے کی کوشش کی۔مولانا کا کہنا تھا کہ نواب زادہ نصر اﷲخاں ملک کی بااثر اور شفاف ترین سیاسی شخصیت ہیں۔یہ صدر ہوں گے تو جمہوریت مضبوط ہوگی اور ہمارا امیج بھی بہتر ہوگا ،لیکن محترمہ کا کہنا تھا کہ فوج نواب زادہ کو کلیئر نہیں کررہی ۔یہ لوگ غلام اسحاق خاں کو صدر دیکھنا چاہتے ہیں۔مولانا نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے حیران ہوکر پوچھا:” کیا ملک میں آپ کی حکومت نہیں ؟“محترمہ اِس بات سے ناراض ہوگئیں اور اُنہوں نے کہا کہ مولانا آپ چاہتے ہیں کہ یہ مجھے بھی اِسی طرح لٹکا دیں جس طرح اُنہوں نے میرے والد کو لٹکایا تھا۔اِسی حوالے سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے اپنی یادداشتو ں کے حوالے سے ایک تقریب میں بتایا کہ1988ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن چکی تھیں۔

صدر پاکستان کے لئے نواب زادہ نصر اﷲ خاں اور غلام اسحاق خاں میں سے کسی ایک کے حق میں فیصلہ ہونا تھا۔میں نواب زادہ کو انٹرویو کرنے آیا۔ کشمیر پالیسی، نیوکلیئر پروگرام.... اور 58/2-B کے نکات پر اُن کی راے لینی تھی۔نواب صاحب باقی تمام نکات پر مقتدر شخصیت سے متفق تھے ،مگر 58/2-B کے نکتے پر اُن کا کہنا تھا کہ ساری عمر ملک میں جمہوریت کی بحالی کی بات کی ہے اور آج صدارت کے عہدے کے لئے غیر قانونی اور غیرآئینی بات کی حمایت نہیں کرسکتا اور نواب زادہ نصر اﷲ خاں صدر بنتے بنتے رہ گئے، حالانکہ اُن کو صدر بنانے کا فیصلہ تقریباً ہوچکا تھا۔1993ءکے انتخابات میں نواب زادہ نصر اﷲ خاں دوبارہ صدارتی امید وار بن گئے۔نواب اکبر خاں بگٹی88ءمیں نواب زادہ کے سپورٹر او رحمایتی تھے۔اِس مرتبہ اُنہوں نے بھی صدارتی امیدو ار کے کاغذات نامزدگی داخل کروا دئیے۔بے نظیر بھٹو نے اپنا صدارتی امید وار سردار فاروق احمد خاں لغاری کو بنایا۔میاں نواز شرف نے وسیم سجاد کو اپنا صدارتی امید وار بنایا۔بیلٹ پیپر چھپ چکے تھے۔امید واروں کے نام شائع ہوچکے تھے۔

نواب زادہ نصراﷲ خاں اور نواب اکبر بگٹی نے انتخابات سے دو دن پہلے دستبراری کا اعلان کردیا،حالانکہ اُسی رات میاں نواز شریف، پیر پگاڑا کو ایم این اے ہوسٹل لے آئے۔اِن رہنماﺅں نے نواب زادہ نصراﷲ خاں کو پیش کش کی کہ وہ وسیم سجاد کی بجائے آپ کو اپنا صدارتی امید وار بناتے ہیں، لیکن نواب زادہ نصر اﷲ خاں نے کہا کہ میں تو پریس کانفرنس میں دستبرار ی کا اعلان کرچکا ہوں ۔پریس کانفرنس ٹی وی اور ریڈیو پر آچکی ہے۔اِس لئے دستبرداری کا اعلان اخلاقی طور پر واپس نہیں لے سکتے۔رہنماﺅں نے کہا کہ آپ صرف اتنا کہہ دیں کہ آپ دستبردار نہیں ہوئے۔نواب زادہ نصر اﷲ خاں نے مسکرا کر کہا کہ اپنے کہے کا ساری زندگی پالن کیا ہے ۔اب عمر کے آخری حصے میں کوئی بات کہہ کر کیسے مکر سکتا ہوں اور معذرت کرتے ہوئے اُن کی پیش کش کو ٹھکرا دیا۔بابائے جمہوریت کی رائے تھی کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہماری سیاست میں سما چکی ہے۔اِس کا واحد حل ملک میں وقت پر الیکشن کرانا ہے۔

بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اﷲ خاں پاکستان جمہوری پارٹی کے صدر تھے۔صبح نماز فجر کے بعد ناشتے سے پہلے دوران ناشتہ اور بعد از ناشتہ اخبارات کا مطالعہ کرتے۔ ملکی اور غیر ملکی الیکٹرانک میڈیا سے تازہ خبریں سُن کر ایڈٹیوریل اور اہم کالموں کو پڑھنے کے بعد صبح8:00بجے سے پہلے باخبر ہوجاتے تھے۔اُن کی سیاسی پارٹی کا وجود اُن کے سیاسی گدی نشینوں کے ہاتھوں ختم ہوا۔نواب زداہ نصراﷲ خاں کے دُنیا سے اُٹھ جانے کے بعد جماعت کے وارث نواب زادہ منصور علی خان نے عمران خان کی رہائش گاہ پر حاضری دینے کے بعد پچاس سالہ پرانی سیاسی جماعت کو تحریک انصاف میں ضم کرنے کا اعلان کیا اور بابائے جمہوریت کا32 ۔ نکلسن روڈ پر سیاسی ڈیرہ ختم ہوگیا۔پاکستان جمہوری پارٹی ایک بڑی سیاسی پارٹی تھی اور ملک کے دونوں بازوﺅں کے بڑے سیاسی لوگ اِس میں شامل تھے۔اختلاف کی وجہ سے مشرقی پاکستان کے بزرگ علیحد ہ ہوکر دوسری جماعتوں میں چلے گئے ،مگر بابائے جمہوریت نے پاکستان میں پاکستان جمہوری پارٹی کو قائم رکھا۔اُنہوں نے ملک میں اتحادوں کی سیاست کو فروغ دیا اور ملک میں جمہوریت کی راہ ہموار کی۔اُنہیں بابائے جمہوریت کے علاوہ بابائے اتحاد بھی کہا جاتا ہے۔اُنہوں نے1981ءمیں ایم آر ڈی بنا کر ولی خاں اور بیگم نصر ت بھٹو کو متحد کرکے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرلیا۔پی ڈی ایف بنا کر ائیر مارشل اصغر خا ں اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک میز پر بٹھا دیا۔1983ءاور1990ءمیں شدید دشمنی اور رقابت والی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ(ن) کو ایک سال کے مختصر عرصے میں اے آرڈی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے میثاق جمہوریت معاہدے پر دستخط کروادئیے۔

نواب زادہ نصر اﷲ خاں کی جماعت اگرچہ چھوٹی تھی،مگر وہ سیاسی لیڈر بہت بڑے تھے۔اُن کا سیاسی کردار ملی سیاست میں ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔بابائے جمہوریت نے پاکستان جمہوری پارٹی کے پلیٹ فارم سے ملک میں اُٹھنے والے آمریت کے بہت سے طوفانوں کا مقابلہ کیا۔ملک کا ہر سیاست دان اُن کے قریب تھا۔سابق صدر ایوب خاں سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو سے لے کر میاں نواز شریف تک سیاست دان نواب زادہ نصر اﷲ خاں کی سیاسی چوکھٹ پر آئے۔سیاست اُن کی زندگی کااوڑھنا بچھونا تھا۔ میثاق جمہوریت کی بنیاد رکھنے کے بعد نواب زادہ نصر اﷲ خاں پاکستان پہنچ گئے۔اُنہوں نے واپس آتے ہی ملک میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔25ستمبر کو اُنہوں نے اے آ ر ڈی کا اجلاس اسلام آباد میں طلب کرلیا تھا۔اجلاس کی تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لینے اسلام آباد آئے تو اُنہیں دل کی تکلیف ہوئی۔فوری طور پر ہسپتال داخل کروادئیے گئے اور اے آر ڈی کا اجلاس ملتوی ہوگیا جس کی نواب زاد ہ نے صدارت کرنی تھی، لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور ملک کی یہ عظیم سیاسی شخصیت26اور27 ستمبرکی درمیانی شب الشفاءہسپتال اسلام آباد میں اﷲ کو پیاری ہوگئی۔(اﷲ اُن کی مغفرت کرے)

ملاقاتیں اُدھوری رہ گئی ہیں

کئی باتیں ضروری رہ گئی ہیں

(ختم شد)  ٭

مزید : کالم