بل کلنٹن مطمئن رہیں

بل کلنٹن مطمئن رہیں
بل کلنٹن مطمئن رہیں

  

امریکہ میں کتاب لکھنے کا بہت رواج ہے، جو لوگ اقتدار میں آتے ہیں، جب جاتے ہیں تو ایک کتاب لکھ کر بہت سی باتوں کا اعتراف اور کچھ کی تردید کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایوب خان نے ”فرینڈز ناٹ ماسٹرز“ لکھ کرخاصاہنگامہ کیا.... پھر ایک کتاب پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں لکھی....”اگر مَیں قتل کر دیا گیا“.... اُن کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو نے بھی ”دختر مشرق“ لکھ کر خاصی شہرت پائی۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی ”ان دی لائن آف فائر“ لکھ کر بہت سے انکشافات کئے۔ اُنہیں اس کتاب کا امریکہ سے بہت زیادہ معاوضہ ملا۔ سنا ہے بہت سے رہنما یہی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ جب وہ اقتدار سے فارغ ہوں تو کتاب لکھیں، کیونکہ وہ کبھی تصور ہی نہیں کرتے کہ اقتدار سے الگ ہوں گے، اس لئے کتاب نہیں لکھ رہے۔ غیر ملکیوں کا زرِ مبادلہ اور ہم وطنوں کا کتاب پڑھنے میں جو وقت لگتا ....بچارہا۔

امریکی صدر بل کلنٹن پر اُن کی وہائٹ ہاو¿س کی سٹاف ممبر مونیکا لیونسکی سے تعلقات کا راز فاش ہوا۔ حسب دستور میڈیا نے اسے خوب اُچھالا، یہاں تک کہ بل کلنٹن کے اقتدار کو خطرہ درپیش ہوگیا۔ معاملہ اقرار اور افہام و تفہیم سے حل پا گیا۔ اُن کی بیگم ہیلری کا کردار غیر متوقع طور پر پُرسکون رہا اور اُنہیں دنیا بھر کی خواتین کی ہمدردی حاصل ہوگئی۔ بل کلنٹن کا دور امریکہ کی ترقی اور خوشحالی کے لئے مثالی تھا۔ جب وہ رخصت ہوئے تو جارج بش تشریف لائے، اُنہوں نے جو کچھ بویا، اُس کی فصل صدر اوباما کاٹ رہے ہیں اور وہ ہے کہ ختم ہی نہیں ہورہی۔ بل کلنٹن جب وہائٹ ہاو¿س سے نکلے تو سمارٹ اور صحت مند تھے۔ وہ سماجی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔ وہ امریکی حکومت کے لئے بھی مددگار ثابت ہوئے ، پھر اچانک اُنہیں دل کا عارضہ لاحق ہوگیا، حالانکہ یہ بیماری اُنہیں بہت پہلے ہونی چاہئے تھی، لیکن شاید وہائٹ ہاو¿س میں رہنے کی وجہ سے دل بھی صدر کے اقتدار سے مرعوب رہا ہوگا۔

جب وہ وہائٹ ہاو¿س سے باہر نکلے تو وہ سمجھ گیا کہ اب بل کلنٹن کے پاس اختیار نہیں، اس لئے اُس نے رنگ دکھائے اور اگلے پچھلے سارے دل پھینکنے کے حساب برابر کر لئے۔ آپریشن کیا گیا اور وہ صحت مند ہوگئے، لیکن چند ہی روز بعد دل نے پریشان کیا۔ خیر جب سینے میں دل ہوگا اور وہ کسی ماہ جبین کو دیکھ کر مچلتا بھی ہوگا تو کبھی کبھی تو بگڑے گا۔ بل کلنٹن بیمار دل کے ساتھ بھی اپنے روزمرہ اور حکومت کے کاموں میں مدد دیتے رہے۔ اُنہوں نے پوری کوشش کی کہ ہیلری صدر کی حیثیت سے وہائٹ ہاو¿س میں جائیں، لیکن اوباما راستے میں آگئے اور یہ خواب پورا نہیں ہوا۔ صدر اوباما ایک اچھے انسان ہیں۔ اُنہوں نے ہیلری کلنٹن کو وزیر خارجہ بنا لیا۔ یہ بھی ایک بڑائی ہے کہ ہیلری جو صدر کا انتخاب لڑنا چاہتی تھیں، وزیر خارجہ بننے پر تیار ہوگئیں۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک گڑ بڑ ہوگئی۔

ٹیلی ویژن پر ہم ایک اشتہار دیکھتے ہیں، جس میں لڑکی کے رشتے کے لئے اُسے دیکھنے کچھ لوگ آتے ہیں، وہ حسب دستور چائے لے کر آتی ہے۔ بیٹھ جاتی ہے، باتیں شروع ہوتی ہیں۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ اچانک وہ اپنے بالوں کی لٹ دیکھتی ہے، جس میں اُسے خشکی نظر آتی ہے۔ وہ گھبرا جاتی ہے، پھر ایک آواز اُبھرتی ہے، فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارا شیمپو استعمال کریں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔

چودہ سال کے بعد امریکہ میں ”مونیکا سکینڈل“ والی مونیکا لیونسکی پھر ہلچل مچانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے وہ اپنی زندگی پر کتاب لکھ رہی ہیں، جس میں وہ سابق صدر بل کلنٹن کے ساتھ تعلقات کی تفصیلات بیان کریں گی۔ کئی چونکا دینے والے انکشافات بھی ہوں گے۔ بہت سے پبلشرز نے مونیکا سے رابطہ کیا ہے اور اب تک کتاب کے لئے بارہ ملین ڈالرز کی پیش کش ہوئی ہے۔

اخبارات کا کہنا ہے کہ کتاب شائع ہوگئی تو بل کلنٹن کو دُکھ پہنچے گا، ہو سکتا ہے، اُنہیں پھر دل کا دورہ پڑ جائے۔ اُدھر ہیلری کلنٹن بھی ایک بار پھر اپنے شوہر کی بے وفائی کی داستان پڑھ سکتی ہیں۔ اخبارات کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر بات کرتے ہیں۔ بل کلنٹن کو چودہ سال کے بعد کسی مونیکا سے کیا فرق پڑنا ہے۔ یوں بھی وہ نہ کبھی انتخاب لڑیں گے، نہ کبھی اقتدار میں آئیں گے، جہاں تک دل کا معاملہ ہے تو ڈاکٹروں نے آپریشن کر کے خاصامضبوط کر دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں سے ڈر، خوف نام کی چیزیں نکال دی ہیں۔ جو شخص وہائٹ ہاو¿س میں رہ کر خوف زدہ نہیں ہُوا، وہ اب کیا ڈرے گا۔ انسان جوانی میں خوب دل پھینک ہوتا ہے، جب وقت گزر جائے تو اس کی یاد سے لُطف اندوز ہوتا ہے۔ مونیکا لیونسکی کی کہانی ویسے بھی پرانی ہوگئی ہے۔ یہ نہ شراب ہے نہ سرکہ کہ جتنی پرانی ہو گی، اس کی قیمت بڑھے گی، مونیکا یا دوسری خواتین جتنی چاہیں کتابیں لکھ دیں۔ ہمارے بل کلنٹن کو کچھ نہیں ہونا اور ہیلری تو ایسی کہانیوں سے شاک پروف ہو چکی ہیں۔    ٭

مزید :

کالم -