کراچی کے حلقے میں جعلی ووٹنگ کی نشاندہی

کراچی کے حلقے میں جعلی ووٹنگ کی نشاندہی
کراچی کے حلقے میں جعلی ووٹنگ کی نشاندہی

  

                                                                                                                    سوائے1970ءکے جنرل الیکشن کے پاکستان میں جتنے بھی الیکشن ہوئے، وہ متنازعہ ہی رہے، ہارنے والوں نے ہمیشہ دھاندلی کا واویلا مچایا، لیکن جیتنے والے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے کامیاب گردانے گئے۔ ملک ِ عزیز میں اگر غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو عوام یا عوامی رائے کی کبھی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے، وہی ہوتا ہے، جس پارٹی کو وہ حکومت میں لانا چاہتی ہے، اسی طرح کا پراپیگنڈہ لانچ کیا جاتا ہے اور مثبت نتائج حاصل کر لئے جاتے ہیں، اسی لئے تو سیاسی پارٹیاں انتخابات میں جو وعدے عوام سے کرتی ہیں، وہ کبھی پورے نہیں ہوئے۔ الیکشن نتائج کے بعد انتخابی عذر داریاں داخل کی جاتی ہیں، جو سال ہا سال تک چلتی رہتی ہیں، حتیٰ کہ اگلے الیکشن کا وقت آ پہنچتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں2002ءمیں جو الیکشن ہوئے، ان میں امیدواروں کے لئے بی اے کی شرط لگا دی گئی تاکہ من پسند امیدوار سامنے لائے جا سکیں، جن لوگوں کو نکالنا ہو، آسانی سے نکال دیا جائے گا۔ بی اے کی شرط اور بعض دوسرے اقدامات سے انہوں نے کم و بیش ایک سو امیدواروں کو جو الیکشن لڑ سکتے تھے، میدان سے باہر کر دیا۔

 امیدواروں نے دھڑا دھڑ بی اے کی جعلی سندیں بنوا لیں اور کامیاب بھی ہو گئے۔ اسمبلیوں میں درجنوں کے حساب سے پرویز مشرف کے حامی جعل ساز آ گئے۔ اُن جعل سازوں کے خلاف عذر داریاں الیکشن کمیشن میں داخل ہوئیں، لیکن شاید ایک جعل ساز بھی نہ پکڑا جا سکا، کیونکہ حکومت کی حمایت حاصل تھی۔2008ءکے جنرل الیکشن میں این آراو کر کے دھاندلی کا آغاز ہوا، لیکن چونکہ اس دور میں آزاد عدلیہ معرض وجود میں آ چکی تھی، اس لئے چند ایک جعل ساز ضرور بے نقاب ہوئے۔

2013ءکے جنرل الیکشن میں بھی تمام ہارنے والی پارٹیوں اور عمران خان نے دھاندلی کا شور مچایا، جبکہ عمران خان صاحب نے صرف 4قومی اسمبلی کے حلقوں میں دھاندلی ثابت کرنے کے لئے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ ان چار حلقوں میں نادرا کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق کروائی جائے ، کیونکہ ان کے مطابق کہ اگر ان چار حلقوں میں دھاندلی ثابت ہو گئی، تو صاف پتہ چل جائے گا کہ واقعی الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، لیکن ابھی تک یہ کیس چل رہے ہیں۔ بہرحال عمومی طور پر تمام بڑی چھوٹی پارٹیوں نے ملک کے حالات کے پیش نظر انتخابی نتائج تسلیم کر لئے ہیں۔ الیکشن2013ءکے بعد عمران خان کی پارٹی اور کچھ دوسرے ہارنے والے امیدواروں نے پورے ملک میں کوئی400کے قریب انتخابی عذر داریاں الیکشن کمیشن میں داخل کروائی ہیں، جن میں سے 260 قومی اور باقی صوبائی حلقہ جات ہیں۔

21ستمبر2013ءکو نادرا کی ایک تصدیق نے الیکشن2013ءمیں دھاندلی کے واضح ثبوت دے دیئے ہیں۔ یہ حلقہ این اے 258 کراچی کا ہے، جہاں مسلم لیگ(ن) کا امیدوار کامیاب ہوا تھا، جس کی تصدیق محکمہ نادرا نے مکمل کر کے الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی ہے۔

 این اے258 کراچی میں نادرا کی تحقیق کے مطابق وہاں پر کوئی30ہزار جعلی ووٹ ڈالے گئے۔ ایک آدمی نے جس کا نام نادرا والے صالح بتاتے ہیں، 8بار ووٹ کاسٹ کیا۔4680جعلی شناختی کارڈ استعمال ہوئے، 435ووٹروں کا اس حلقے میں ووٹ بھی نہیں تھا، لیکن انہوں نے بھی ووٹ ڈالا۔ اس حلقے میں 15 پولنگ سٹیشنوں پر کاﺅنٹر فائل سے زائد ووٹ کاسٹ ہوئے۔

 ہم من حیث القوم اخلاقی اقدار سے عاری ہیں، ہم سب ہی جعل ساز ہیں۔ جعلی دوائیاں بناتے ہیں، دودھ ملاوٹ شدہ بیچتے ہیں، جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں، گندگی پھیلانا ہمارا شعار ہے، حالانکہ صفائی نصف ایمان ہے، لیکن ہم مسلمان ہیں کہاں۔ حضرت علی ؓ سے کسی نے کہا کہ فلاں آدمی صوم وصلوٰة کا بڑا پابند ہے، تو انہوں نے فرمایا: کہ چھوڑو اس بات کو، یہ بتاﺅ کہ وہ آدمی روزمرہ کے معاملات میں کیسا ہے، اس کا قول اور فعل کیسا ہے۔ ہمارے نبی اکرم کا ارشاد ہے، جس نے کم تولا، جھوٹ بولا، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کی وہ ہم میں سے نہیں، تو بتاﺅ میرے پیارے مسلمان بھائیو اور ہم وطنو ہم کہاں کے رہ گئے!

مزید :

کالم -