سرینگر میں تجارتی سرگرمیوں کا مرکزبڈشاہ چوک ویران ہوگیا

سرینگر میں تجارتی سرگرمیوں کا مرکزبڈشاہ چوک ویران ہوگیا

  

 سرینگر(کے پی آئی)شدید سیلاب کے بعدمقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں تجارتی سرگرمیوں کا مرکزبڈشاہ چوک ویران ہوگیا۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے مطابق صرف شہر سرینگر میں 10ہزار سے زائد دکانیں سیلاب سے تباہ ہونے کے باعث 50ہزار سے زائد نوجوانوں کے روزگار پر بھی اثر پڑا ہے محمد ایوب بڈشاہ چوک میں اپنی دکان کی صفائی میں مشغول ہے ۔ریڈی میڈ ملبوسات کی مشہور دکان جہاں عام حالات میںخریداروں کا زبردست رش رہتا تھا ،اب ویرانی کا مظہر ہے ۔

ایک طرف اپنی تباہ حال دکان کو دیکھ کر محمد ایوب خون کے آنسو رورہا ہے وہیںدوسری طرف اس دکان کی صفائی کرکے وہاں سے تباہ شدہ مال کو ٹھکانے لگانے کی کوشش میں ہے ۔لیکن کیا کرے دکانوں سے نکالے جانے والا تباہ حال مال بھی سڑک پر ہی پڑا ہے اور عام انسان کیلئے وہاں سانس لینا بھی دشوار ہورہا ہے ۔یہ ایوب کی حالت نہیں ہے ،تاریخی تجارتی مرکز بڈشاہ چوک اور اس سے منسلک بازاروں میں واقع لگ بھگ سبھی دکانوں کے مالکان کی یہی حالت ہے ۔بڈشاہ چوک،اوقاف مارکیٹ ،ریڈ کراس مارکیٹ ،مائسمہ ، گاﺅکدل ، ایکسچینج روڑ اوراسکے مقابل پلیڈیم گلی اور آفتاب مارکیٹ سمیت کے ایم ڈی مارکیٹ اور دیگر بازاروں میں اس وقت ایک جیسی صورتحال ہے ۔متاثرہ دکانداروں کیلئے یہ تباہ کن سیلاب بیک وقت کئی طرح کے مسائل ساتھ لایا ہے ۔نقصان کو روئیں یا روز مرہ تجارت سے ہونے والے منافع کے ضائع ہونے پر افسوس کریں،عام دکاندار کی سمجھ سے باہر ہے ۔سب سے بڑا مسئلہ ان دکانداروں کے سامنے یہ کھڑا ہے کہ وہ کس طرح سے ان بازاروں کی رونق دوبالا کرپائیں گے ۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن ،جوکہ وادی میں عام دکانداروں کی نمائندہ انجمن ہے ،کے مطابق صرف شہر سرینگر میں 10ہزار سے زائد دکانوں کو سیلاب سے تباہی ہوئی ہے جن میں اوسط 5سیلز مین کے حساب سے 50ہزار سے زائد نوجوانوں کے روزگار پر بھی اثر پڑا ہے ۔ وادی میں آئے حالیہ سیلاب کے نتیجے میں جہاں ہر کس و ناکس متاثر ہوا ہے وہیں سب سے زیادہ نقصان تجارت کو ہوا ہے ۔کشمیر میں تاریخی و تجارتی لحاظ سے مرکزی حیثیت رکھنے والے لالچوک اور اس سے ملحقہ بازاروں میں سیلاب سے جو تباہی ہوئی ہے وہ ناقابل تلافی لگ رہی ہے ۔ایک موقعے پر جگمگاتے بازاروں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔اکا دکا لوگ سڑکوں پر نظر آرہے ہیں جبکہ تجارتی سرگرمیاں یکسر متاثر ہوگئی ہیں اور دکاندار اپنی اجڑی تجارت کو دیکھ کر خون کے آنسو رورہے ہیں ۔صرف شہر سرینگر میں اندازا10ہزار سے زائد دکانیں تباہ ہوئی ہیں اور بازاروں کے بازار اس وقت ویرانوں میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔شہر سرینگر کے مرکزی بازار بڈشاہ چوک اور اس سے ملحقہ درجنوں بازار اس وقت از خود ویرانی کا حال بیان کررہے ہیں ۔تباہ کن سیلاب نے بڈشاہ چوک اور اس سے ملحقہ اہم بازاروں کا نقشہ ہی بدل دیا ہے اور اب سینکڑوں دکان اپنی تجارت کو دوبارہ استوار کرنے کیلئے آواز اٹھارہے ہیں تاہم ابھی تک سرکار کی طرف سے اس ضمن میں کوئی حتمی بات نہیں کی جارہی ہے ۔بڈشاہ چوک علاقے میں سینکڑوں دکانیں اس سیلاب سے تباہ ہوئے ہیں ۔کے ٹی ایم ایف کے پاس موجود اعداد وشمار کے مطابق بڈشاہ چوک بازار میں 100،ریڈکراس روڑ مارکیٹ میں 200،گاﺅکدل میں 300،مائسمہ بازار میں 200،اوقاف مارکیٹ میں 150اور کے ایم ڈی کے پاس 60دکانیں ،سیلاب سے پہلے عام صارفین کی توجہ کا مرکز رہتے تھے ،لیکن اب ان سبھی بازاروں میں ایک خاموشی سی طاری ہے ۔عام تاجر ااس وقت حکومت سے ان کے بزنس کو کھڑا کرنے کیلئے موثر اقدامات پر زور دے رہے ہیں ۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن نے دیگر انجمنوں کے ساتھ مل کر ٹریڈ ری ہبلٹیشن فورم کا قیام عمل میں لاکر تاجروں کو ہوئے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے اپنی سطح پر ایک سروے شروع کی ہے اور دمتاثرہ دکانداروں کو ہوئے نقصانات کے بارے میں اعداد وشمارڈویژنل کمشنر اور ریلیف کمشنر کو پیش کئے جائیں گے ۔کے ٹی ایم ایف کے ایک ذمہ دار محمد رجب کچھے نے کہاکہ حالیہ سیلاب سے عام تاجر سخت متاثر ہوا ہے اوراس طبقے کو ہوئے نقصانات بے حساب ہیں تاہم بقول محمد رجب ایک سرسری سروے شروع کی گئی ہے تاکہ فیڈریشن کے پاس بنیادی اعداد شمار دستیاب ہوں جسے وہ حکومت کو پیش کرکے متاثرہ دکانداروں کی بازآبادکاری کیلئے زور ڈالیں گے ۔متاثرین کی بازآبادکاری کب ہوگی محمد ایوب اور اس جیسے ہزاروں تاجر اس بارے میں سوچنے سے زیادہ اس بات کی فکر میں مبتلا ہیں ،کہ بڈشاہ چوک اور اس سے ملحقہ بازاروں کی شان رفتہ کب بحال ہو اور کب ایک بار پھر یہاں کے بازار پھر سے چہل پہل دیکھ سکیں ۔

مزید :

عالمی منظر -