سکاٹ لینڈ کی طرح کشمیر میں بھی ریفرنڈم کرایا جائے

سکاٹ لینڈ کی طرح کشمیر میں بھی ریفرنڈم کرایا جائے
سکاٹ لینڈ کی طرح کشمیر میں بھی ریفرنڈم کرایا جائے

  



وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کیلئے آواز بلند کرکے عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے اور یاد دلایا ہے کہ اقوام متحدہ نہ صرف جموں و کشمیر میں رائے شماری کیلئے قرار دادیں منظور کر چکا ہے ،بلکہ تین دہائیوں تک اس قرار داد پر عملدرآمد کی یقین دہانی کراتا رہا ہے۔ کشمیری عوام 65 سال سے اس وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔

 میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اس وقت اٹھایا ہے جب جموں و کشمیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور بھارتی حکومت کی سنگدلانہ عدم دلچسپی، لاتعلقی اور بے نیازی کی وجہ سے مظلوم و مصیبت زدہ کشمیری عوام پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ،جبکہ چند روز قبل سکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم نے دنیا بھر کے کشمیریوں کو ایک بار پھر یہ احساس دلایا ہے کہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ان کا بنیادی حق ہے جس سے بھارت نے انہیں اب تک محروم رکھا اور انسانی حقوق کے علمبردار عالمی اداروں کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر طاقتور ممالک نے اس معاملے سے مجرمانہ غفلت برتی۔

 گزشتہ دو عشروں کے دوران انڈونیشیا اور سوڈان میں حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے مشرقی تیمور اور شمالی سوڈان کے باشندوں کو بڑی طاقتوں نے اقوام متحدہ کے توسط سے یہ حق دلایا۔ رائے شماری کا انعقاد ہوا اور دو مسلم ممالک کا ایک ایک حصہ کاٹ کر الگ ریاستوں کی صورت میں باغی عناصر کے حوالے کر دیا گیا۔ کسی کو نہ ان کی مسلح جدوجہد قابل اعتراض نظر آئی نہ انڈونیشیا اور سوڈان کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کا سوال اٹھا۔ حال ہی میں سکاٹ لینڈ کے عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے برطانیہ نے ریفرنڈم کرایا مگر علاقے کے عوام نے سکاٹ لینڈ کی انگلستان سے علیحدگی کے حق میں ووٹ نہ دے کر اپنے آپ کو بدستور لندن سے منسلک رکھا، تاہم یہ ریفرنڈم کشمیری عوام کے دلوں میں نئی امنگ اور امید پیدا کرنے کا سبب بنا مگر میاں نواز شریف نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت پر اصرار کرتے ہوئے یہ حوالہ دینا مناسب نہ سمجھا حالانکہ ہر لحاظ سے برمحل اور منطقی طور پر سو فیصد درست ہوتا۔

 پرویز مشرف دور میں پہلی بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی رہنماو¿ں نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا تسلسل اور تکرار سے ذکر کرنے کے بجائے آو¿ٹ آف بکس تجاویز پیش کیں جنہیں پاکستانی اور کشمیری عوام نے کبھی پسند کیا نہ پائیدار حل کی طرف پیش رفت سمجھا۔ میاں نواز شریف نے پچھلے سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران اس شدت سے مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذکر سے گریز برتا جو اس سال ان کا طرئہ امتیاز رہا۔ پچھلے سال سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے بھارتی نقطہ نظر جارحانہ انداز میں پیش کیا اور پاکستان کو دہشت گردی کا منبع تک قرار دے ڈالا۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف ایک سے زائد بار اپنی تقریروں میں مسئلہ کشمیر کا ذکر کر چکے ہیں۔ ان دنوں کنٹرول لائن پر جھڑپیں جاری ہیں اور جب میاں صاحب جنرل اسمبلی میں خطاب کی تیاری کر رہے تھے تو آرمی چیف سرحدی دورے کے دوران اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھانے اور بھارت کو یہ احساس دلانے میں مصروف تھے کہ اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔

 جموں و کشمیر کور ایشو ہے اسے حل کرنا ہو گا۔ کشمیری آج بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ عالمی برادری ذمہ داری پوری کرے۔ جنوبی ایشیا میں امن چاہتے ہیں۔ کشمیری 6 دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ کشمیریوں کی کئی نسلوں نے زندگیاں قبضے، تشدد اور بنیادی حقوق کے استحصال کے سائے میں بسر کیں۔ مسئلہ کشمیر پر تب تک پردہ نہیں ڈال سکتے جب تک کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہو جائے۔

 اقوام متحدہ نے کشمیری، فلسطینی، سکھ اور دوسری اقوام کو حق خودارادیت دے رکھا ہے ،تاہم ان اقوام پر حکمرانی کرنے والی حکومتیں ،انہیں ان کا بنیادی حق دینے کو تیار نہیں ہیں۔

 ہمیں عالمی برادری کو احساس دلانا ہے کہ سردمہری کا رویہ ترک کرکے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ اس تنازع کی وجہ سے دو ایٹمی قوتوں میں مسلسل محاذ آرائی پائی جاتی ہے اور تصادم کا خطرہ رہتا ہے جو با لآخر سوا ارب انسانوں کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید : کالم