تبدیلی کی تحریک ایک فطری عمل ہے

تبدیلی کی تحریک ایک فطری عمل ہے
تبدیلی کی تحریک ایک فطری عمل ہے

  

قرب و جوار میں سکوت طاری ہے افکار و اذہان پر جمود طاری ہے۔ مستقبل قریب و بعید تاریک نظر آرہا ہے ۔ تاریک اس لئے نہیں کہ اس جملے کا مفہوم محض یہ لیا جائے کہ فکری اور شعوری سطح پر ہم سب اندھیروں میں ڈوب جائیں گے، بلکہ دوور دور تک آنے والا کل پریشان کن صورت حال کا باعث بن سکتا ہے ۔ کیا ان حالات میں ہم خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ یا مزید انارکی کی دلدل میں دھنستے چلے جار ہے ہیں ۔ ۔۔۔۔؟ کچھ سمجھ نہیں آرہی اور نہ ہی ان مسائل کا حل مخلصانہ طور پر ڈھونڈ ا جا رہا ہے ۔۔۔۔! یسے میں چہار جانب سکوت مرگ طاری نہ ہوگا تو کیا قوم مصروف ِ شادمانی ہوگی ۔۔۔؟ میرے مطابق یہ خیالِ طرب اور امیدِ فرحت عبث ہے۔۔۔۔بھلا کیونکر۔۔۔۔؟ محض اس لئے کہ ہمارے جرائم ، ہماری مجرمانہ فطرت اور ہمارے خصائل بد ان امیدوں کو ناامیدی اور یاس میں بدل کر مستقبل کو طویل شبِ سیاہ میں بدل دیتے ہیں ” شب ِسیاہ“ کی اصطلا ح میرے نزدیک کئی منطقی و غیر منطقی معانی و مطالب لئے ہوئے ہے۔ سیاسی ، اخلاقی اور فکری انحطاط اور دیس میں برقی قلت و تعطل سے طویل اور لمبی کالی راتیں وجود پا چکی ہیں ۔ جو موجودہ بد عنوان اور غیر مستحکم سیاسی نظام میں تو ختم نہیں ہو سکتیں ۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے تبدیلی کی سوچ اور شعور انقلاب کی اشد ضرورت ہے۔ جب ایک عام آدمی شعور و فکر کی ترقی کے مدارج طے نہیں کرے گا ۔ تب تک ارتقائے قوم کا عمل نا ممکن رہے گا ۔ ان عوامل کے بغیر سیاسی ، اخلاقی اور فکری بے راہروی کا عمل بری طرح متاثر ہو کر بد عنوان سماجی نظام کے وجود پر منتج ہوتا ہے۔ آج پاکستانی سماج اور سیاسی نظام اسی زہر قاتل کا شکار ہے ۔ غریب ، غریب تر ہوکر موت کا نوالہ بنتا جا رہا ہے ۔ ایسے میں حصول تعلیم کس طرح ممکن ہے۔۔۔۔؟ جب عوام تعلیم سے محروم ہوں گے تو کیا معاشرہ ترقی کے مراحل ومدارج پر گامز ن ہوگا ۔۔۔۔؟ جب عوام فاقوں مررہے ہوںگے تو عالمی سطح پر وہ خطہ ¿ زمین اچھے نام کے ساتھ پہچانا جائے گا۔۔۔۔؟ ان باتوں کے تناظر میں ذرا پاکستانی نظام سیاست اور نظام افسر و نوکر شاہی پر گہری نہیں تو سرسری نظر دوڑائی جائے ۔۔۔۔ سب کچھ عیاں ہو جائے گا ۔ ۔۔۔ ان عوامل اور محرکات کا بھی علم ہو جائے گا ۔ جن کے سبب غریب غربت کی چکی میں پستا ہی چلا جا رہا ہے۔۔۔۔ یہ وہ شکنجہ ہے جو ایک بار جکڑلے تو جان لے کر ہی چھوڑتا ہے۔ یہی شکنجہ دوسرے لفظوں میں سرمایہ داری کا بے رحم نظام ہے ۔۔۔ اس نظام کی روبا ہیانہ عیاری کا نتیجہ ہی ہے کہ ایک عام آدمی انتہائی تلخ اور چھوت کی بیماری ’ ’ غربت “ کا شکار ہوتا جارہا ہے ۔ یہ ہم ہیں کہ ” ملاﺅں “ کی تقلید میں ( جو در اصل اس سامراج بد عنوان کا نمک خوار ہے ) اپنی اقتصادی و معاشی پستی ( غربت ) کو نصیب اور قسمت کی کارستانی کہہ کر ٹال دیتے ہیں، یعنی اپنی مفلوک الحالی کو اللہ کی رضا قرار دیتے ہیں، لیکن یہ بھی تو اسلام نے وضاحت کر دی ہے کہ انسان کو اس کی کوشش کے مطابق ہی ملتا ہے۔ ان باتوں کو سمجھنے کے لئے نگاہ مرد مومن کی ضرورت ہے کہ جو ہمیں آگا ہی دے کہ ہماری اخلاقی اور سیاسی تنزلی کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما ¿ ہیں۔۔۔۔ عرض مکرر ہے کہ موجود ہ نظام سیاست اورز اویہ¿ فکر و عمل ہی ہے جو ہمیں غلاظت فکرو عمل میں غرق کیے ہوئے۔ نتیجتاً یہ بے راہروی اب ہمارا ( پاکستانی قوم کا ) مقدر بن چکی ہے ،کیونکہ فقیہان شہر کا فتویٰ انہی خطوط پر جاری ہوا۔۔۔۔

 بظاہر مگر کچھ کچھ حقیقت لگتے دھرنے جو اسلام آباد میں جاری ہیں ۔ بد عنوان نظام کے خلاف ہیں ۔ فی الحال تو اس ضمن میں حتمی رائے ممکن نہیں ہے، کیونکہ سیاست کاری میں حروف ِ اول و آخر نہیں ہوتے۔۔۔۔ بوجوہ ہٰذا نتیجہ ظاہر کرنا اور اس حوالے سے جائز ہ لینا ( تجزیہ پیش کرنا ) کہ کل کیا ہونے والا ہے۔۔۔؟ قبل از وقت اور جلد بازی میں کچھ کہنے کا مظاہرہ ہوگا ۔ الزامات لگتے ہیں، کیونکہ اقتدار کی کرسی کا پیار جہنم ہی لے جائے دکھ نہیں ہوتا اور یہی کرسی اگر سولی پر لٹکنے کا باعث بنے تب بھی تکلف دہ بات نہیں سمجھی جاتی ۔ دنیاوی مناصب عزیر جان ہوتے ہیں ۔ ان سب کے باوجود یہ تو سچ ہے کہ گنہگار نظام کے خلاف تبدیلی کی تحریک ایک فطری عمل ہے ۔۔۔۔!

  

مزید :

کالم -