عمران قادری: ان کی باتیں تو ٹھیک ہیں

عمران قادری: ان کی باتیں تو ٹھیک ہیں
عمران قادری: ان کی باتیں تو ٹھیک ہیں
کیپشن: 1

  

ہمارے ہاں جمہوریت کے پودے کو مستحکم نہیں ہونے دیا گیا۔ کچھ اس وجہ سے اور کچھ شاید اس وجہ سے بھی کہ ہم بادشاہت پسند ہیں یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انگریز سامراج کے دور میں جو ہنگامہ پرور سیاست متحدہ ہندوستان کا چلن رہی، ہم اب تک اس کے اثر سے نہیں نکل پائے۔ کچھ بھی ہو حیرت ہوتی ہے، جب اچھے خاصے سمجھ دار اور سلجھے ہوئے لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ سب کو آزما لیا ہے۔ اب انہیں بھی موقع دیں۔ گویا اس سلسلے میں کسی خامی خوبی، کسی تجربے، کسی ناتجربہ کاری کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، بس موقع ملنا چاہئے۔ روزنامہ ”اُمت“ کے صاحب طرز کالم نگار جناب ڈاکٹر ضیاءالدین احمد نے اس پر بہت خوب تبصرہ کیا ہے۔ ان کے خیال میں یہ کہنے والے اس انداز سے یہ بات کہتے ہیں جیسے یہ قوم کی قسمت سے کھیلنے کا معاملہ نہیں، محض اتنی سی بات ہے جیسے کوئی کہے آج اس ہوٹل سے بھی کھانا کھا کے دیکھ لو۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ڈرائیور درکار ہو تو ہم ڈرائیونگ میں اس کے تجربے کے بارے میں چھان بین کرتے ہیں۔ اگر کوئی امیدوار آ کر کہے کہ وہ ہسپتال میں کام کرتا رہا ہے اور وہاں وہ بے حد کامیاب تھا اس لئے گاڑی بھی چلا لے گا، تو ایسے امیدوار کو ہم ڈرائیور رکھنے پر ہر گز آمادہ نہیں ہوتے۔ پورے ملک کی باگ ڈور، لیکن کسی بھی شخص کو سونپنے کے لئے محض اتنا کافی ہے کہ اسے بھی چانس دے کر دیکھ لیا جائے۔

امریکہ میں کوئی شخص براہ راست صدارت کا الیکشن نہیں لڑتا۔ اگر وہ تجربہ کار کانگریس مین یا سینیٹر ہو اور اس کے ساتھ ساتھ کسی ریاست کا چند سال تک گورنر بھی رہا ہو تو ایسے امیدوار کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ذاتی کاروبار کے تجربے کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ صدر بارک اوباما کے مقابل گزشتہ صدارتی انتخابات میں صدارتی امیدوار مٹ رومنی، باقاعدہ اپنی گورنر شپ، اپنے کاروبار کو کامیابی سے چلانے اور اولمپک گیمز کامیابی سے منعقد کرانے کو اپنی قابلیت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے تھے۔ گویا دنیا کے کسی جمہوری ملک میں محض اس لئے کسی کو ”موقع“ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اب اسے بھی آزما کر دیکھ لیا جائے۔ دو جماعتی نظام کو جمہوری نظام میں مثالی سمجھا جاتا ہے اوراس میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ ایک کے بعد دوسری جماعت آتی ہے۔ ہر جماعت ناکام ہوتی ہے تو اپنی ناکامیوں کا تجزیہ کرتی ہے اور اُن امور سے گریز کرتی ہے، جو اس کی شکست کا باعث بنے تھے یا وہ اپنا نقطہ نظر مزید بہتر طور پر عوام کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ عمل خودبخود اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے۔ تحمل اور صبر کا یہ عالم ہے کہ امریکہ کے اصلی باشندوں کے ایک خاص قبیلے ”نواہوز“ نے1946ءسے امریکہ کے خلاف دعویٰ دائر کر رکھا تھا کہ ان کے علاقے میں معدنیات نکالنے سے اُن کے جو نقصانات ہوئے ہیں حکومت اُن کا معاوضہ ادا کرے۔ یہ مقدمہ 2012ءتک چلتا رہا۔ اب صدر بارک اوباما نے انہیں معاوضہ دینے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ قبیلہ کوئی چھوٹا سا بھی نہیں ہے۔ یہ ہمارے دھرنے والوں سے کہیں بڑا ہے ، اس کے افراد کی تعداد 3لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔ اب انہیں2.6بلین ڈالر ادا کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ صدر اوباما نے بھی ان کو معاوضہ دینے کے لئے2009ءسے انتظامیہ کو کہہ رکھا تھا۔

اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز یہ بات ہے کہ ”یہ بھی بات تو ٹھیک کہتے ہیں“۔ مثلاً عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری انتخابات کا نظام درست کرنے کی بات کرتے ہیں۔ کرپشن کی دہائی دیتے ہیں۔ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ باتیں تو ٹھیک ہیں۔ یہ سب کچھ ہونا چاہئے۔ بے شک کچھ باتیں تو کوئی بھی صحیح کہہ سکتا ہے اور کر سکتا ہے۔ابو جہل بھی شاید ساری کی ساری باتیں غلط نہ کہتا ہو، کچھ اچھی باتیں بھی کہتا ہو۔ مثلاً ابو جہل، رسول کریم کو صادق اور امین تو تسلیم کرتا ہی تھا۔ ابلیس بھی کچھ اچھی باتیں بھی کہتا ہے۔ کیا اُسے اللہ کی واحدنیت سے انکار ہے کیا اُس نے یہ سچ نہیں کہا تھا کہ اے اللہ میری پیدائش آگ سے ہے اور آدم کی مٹی سے ہے۔

پاکستان میں کوئی بھی ایسی سیاسی، مذہبی ، نیم مذہبی، نیم سیاسی جماعت ہے جو یہ سب کچھ نہیں کہتی۔ کسی جماعت کے منشور میں یہ لکھا ہے؟ کہ ہم کرپشن پروری کریں گے۔ انصاف فراہم نہیں کریں گے۔ تعلیم اور صحت کو عوام کے لئے ناممکن بنا دیں گے۔ گزشتہ حکومت میں البتہ پیپلزپارٹی کے ایک رہنما نے کرپشن کو اپنا حق قرار دیا تھا۔ اگر ہم میں جمہوری دستور ہو تو اپنی جماعت کو مجبور کر کے آئندہ ایسے شخص کو ٹکٹ دینے سے روک دینا چاہئے اور اگر ٹکٹ پھر بھی مل جائے تو ایسے شخص کو ووٹ ہر گز نہ دیں۔ خواہ وہ جیت بھی رہا ہو۔ ووٹرز میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔ کبھی کبھی اور کہیں کہیں ابھی ووٹر اس شعور کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں جو فوجی آمر اقتدار پر قبضہ کرتے ہیں وہ بھی یہی کہتے ہیں وہ یہ کہہ کر تھوڑی حکومت پر قبضہ کرتے ہیں کہ ہم ملک کا بیڑہ غرق کرنے آ رہے ہیں۔ پرانے ڈکٹیٹروں کو اگر لوگ بھول گئے ہوں یا نوجوان نسل کو تجربہ نہ ہو تو پرویز مشرف کے وہ سات آٹھ نکات تو سب کو یاد ہوں گے۔ آٹھ سال بعد ان میں سے کسی ایک نقطے پر بھی عمل نہ ہو سکا۔ ہر ڈکٹیٹر اصلاح کے دعوﺅں کے ساتھ آیا اور ہر ڈکٹیٹر کو جمہوری حکمرانوں سے ہمیشہ ہی زیادہ وقت ملا، لیکن جب ڈکٹیٹر رخصت ہوا تو معلوم ہوا کہ ساری کی ساری خرابیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

خوبصورت باتیں کرنا کوئی مشکل نہیں ہے، لیکن عمل کے لئے زمینی حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور زمینی حقائق بے حد تلخ ہوتے ہیں۔اس تلخی کا اندازہ لگانا ہو تو یہی دیکھ لیں کہ کرپشن کے خاتمے کی باتیں کرنے والوں کے کنٹینروں میں جو لوگ آتے جاتے رہتے ہیں اُن کی کرپشن کو کون نہیں جانتا۔ کہنے کی حد تک کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہر شہری کو گھر بیٹھے حکومت کھانے پینے ، پہننے اور تعلیم اور صحت کے اخراجات مہیا کرے گی، لیکن کیا ایسا ہو سکتا ہے۔ عمل کی دنیا میں اچھی لگنے والی باتیں اگر کوئی وزن رکھتیں تو دنیا کے ہر سیاست دان کے انتخابی وعدے ضرور پورے ہوتے۔ دنیا کے طاقتور ترین ملک امریکہ کے طاقتور ترین صدر بارک اوباما انتخابی وعدوں کے باوجود آج تک گوانتاناموبے کی جیل کو بند نہیں کر سکے اور جنگوں کے پھیلاﺅ کو روکنے کی بجائے جنگوں کو فروغ نہ دے رہے ہوتے۔

اچھی باتیں صرف وہی نہیں کرتے، جن کے بارے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ کچھ باتیں تو ان کی بالکل درست ہیں۔ اچھی باتیں ، بلکہ اچھی اچھی باتیں سب کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ ان کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے، جس کے گھمانے سے پولیس میں رشوت ختم ہو جائے گی۔ نوکر شاہی ایماندار اور مستعد ہو جائے گی۔ تاجر دیانتدار ہو جائیں گے اور کسی سے ناجائز منافع نہیں لیں گے اور تو اور عوام نیک ہو جائیں گے۔ بات بات پر قتل بند ہو جائیں گے، غیرت کے نام پر عورتوں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ سارے چور دیکھتے ہی دیکھتے چوری سے تائب ہو جائیں گے۔ سب کے سب لوگ ٹریفک قوانین پر عمل پیرا ہو جائیں گے۔ سرکاری محکموں، پی آئی اے، ریلوے اور واپڈا سے ملازمین چوری نہیں کریں گے۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی جادو کی چھڑی پر یقین رکھتا ہے، تو احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔

ہمارے ےہاں جو نظام کو بدلنے کے خوش نما نعرے لگتے ہیں۔ نیا پاکستان بنانے کی باتیں ہوتی ہیں یہ سب دیوانے کے خواب ہیں۔ اصل ضرورت افراد کی اصلاح کی ہے۔ یہ کام مشکل ہے اسے کوئی بھی کرنے پر تیار نہیں۔ ہماری مساجد، مدرسے، سکول کالج اور ذرائع ابلاغ اس سلسلے میں کچھ کرنے پر تیار نہیں، سیاسی جماعتیں تو رہیں ایک طرف مذہبی جماعتوں میں بھی ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ مذہبی جماعتوں کے ارکان اور تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگ اگر حقیقی معنوں میں سدھر جائیں۔ صرف یہی لوگ نہ رشوت دیں نہ رشوت لیں، ناجائز منافع لیں نہ اپنے پڑوسی کو تنگ کریں نہ اس کی پریشانی سے غافل رہیں، ٹریفک کے قوانین پر عمل کریں، بغیر لائسنس کے گاڑی نہ چلائیں، ٹیکس دیئے بغیر کاروبار نہ کریں۔ ملاوٹ نہ کریں ووٹ کا صحیح استعمال کریں، ذات پات اور صوبائیت سے بلند ہو جائیں، اپنے ملازموں کا حق نہ ماریں، اپنی بہنوں بیٹیوں کو جائیداد کے حق سے محروم نہ کریں۔ غیرت کے نام پر بے عزتی نہ کریں۔ نشے سے دور رہیں اور جو اس لت میں مبتلا ہیں خیر خواہی سے انہیں اس سے چھٹکارا دلائیں۔ کسی سے ناانصافی کریں نہ اپنے سے ناانصافی ہونے دیں۔ ناانصافی ہونے پر قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں، اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ اگر ایسا ہو جائے، تو کیا انقلاب خودبخود نہیں آ جائے گا، کیا خودبخود نیا پاکستان نہیں بن جائے گا؟ ہم انقلاب اور نئے پاکستان کی توقعات اُن سے لگائے بیٹھے ہیں، جنہوں نے ڈی چوک میں اپنے اعلیٰ اخلاق اور کردار سب پر واضح کر دیئے ہیں۔ ہم بنیاد سے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے اوپر سے انقلاب مسلط کرنا چاہتے ہیں، اس لئے ہر کسی کو موقع فراہم کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور سب کی کچھ نہ کچھ باتیں ہمارے دل کو لگتی ہیں۔

مزید :

کالم -