کیا پنجابی مہاجر نہیں ہیں؟

کیا پنجابی مہاجر نہیں ہیں؟
کیا پنجابی مہاجر نہیں ہیں؟

  


یہ اس دور کی بات ہے جب کراچی میں پنجابی بولنے والوں اور پٹھانوں کا جینا حرام کر دیا گیا تھا۔ایم کیو ایم متحد تھی اس میں کسی قسم کی کوئی دراڑ نہیں تھی، انہی دنوں بھتہ خوری اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی شروع ہوا، اپنے گھروں کو چھوڑ کر جن حضرات نے کراچی میں صنعتیں لگائیں اور اس شہر کو غریب پرور بنانے میں تعاون کیا ان سے بھاری معاوضہ مانگاجا رہا تھا اور لوگ اپنی جائیدادیں اور کاروبار چھوڑ کر واپس اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر رہے تھے۔انہی دنوں راولپنڈی میں ہماری اپنی تنظیم پی ایف یو جے کا دو سالہ مندوبین اجلاس ہو رہا تھا، اجلاس کی کارروائی تو کارکنوں کے اجتماعی مسائل کے حوالے سے چلتی رہی لیکن فارغ اوقات میں جب ساتھی بیٹھتے تو کراچی میں امن و امان کی حالت کا ذکر ضرور ہوتا، ہمارے کراچی سے آئے بعض نوجوان دوست بڑے زور شور سے مہاجروں کے ساتھ ناانصافی کی بات کرتے پنجاب کو مطعون کرتے اور یہ دلیل لاتے کہ کراچی معاشی سرگرمیوں کا مرکز اور سب سے زیادہ ٹیکس (ریونیو) دینے والا شہر ہے لیکن وہاں کے باسیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اس حوالے سے یہ الزام لگایا جاتا کہ پنجاب کھا رہا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا کہ پنجاب کو بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا چاہیے کہ بڑا صوبہ ہے، اکثر اوقات ہم نے پنجاب کا دفاع کیا اور مہذب انداز سے بتانے کی کوشش کی کہ یہاں مہاجر اور غیر مہاجر کا سوال نہیں۔

اصل مسئلہ استحصال کا شکار اور استحصال کرنے والے طبقات کا ہے کہ عام لوگ مجبور ہیں اور ان کے نام پر ہی ان کے حقوق کو غصب کیا جا رہا ہے۔جب ہم نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ پنجاب میں مہاجر غیر مہاجر کا کوئی مسئلہ نہیں، یہاں بھی یوپی۔سی پی اور دوسرے علاقوں سے آنے والے رہتے ہیں یہاں کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا اور کسی نے ان کو پریشان نہیں کیا تو ہمارے ایک نوجوان (اس وقت ) ساتھی نے بڑے جوش سے کہا”مار ڈالو! اردو بولنے والوں کو، ہمیں کوئی فکر نہیں، کتنے ہوں گے یہاں لاکھ ڈیڑھ لاکھ سب کو مار دو، ہمیں بہت تعجب ہوا تھا اور ہم نے اس نوجوان کو باور کرایا کہ وہ صورت حال پر غلط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔پنجاب میں ایسی کوئی بات نہیں، یہاں کوئی لسانی معاملہ نہیں ہے لیکن وہ بضد تھے کہ اردو بولنے والوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

ہم نے اس مسئلہ پر کبھی بھی قلم نہیں اٹھایا اور ہمیشہ نظر انداز کیا کہ خصوصی مفاد کے حامل طبقے ایسے متنازعہ مسائل کھڑے کرکے اپنی اپنی دکان داری چمکاتے ہیں، لیکن اب مجبور ہو کر یہ چند گزارشات پیش کی جا رہی ہیں، کیونکہ ہمیں یقینا اس بات سے دکھ ہوا کہ متحدہ والے مہاجر سے متحدہ بنا لینے کے باوجود مہاجر ہی کی بات کرتے ہیں اور اپنا مقدمہ بھی لسانی بنیاد پر پیش کرتے ہیں۔ایک موقف یہ بھی ہے جس کا ذکر بار بار الطاف حسین نے کیا اور اب متحدہ کا یہ باقاعدہ نعرہ بن چکا ہے، یہ کہتے ہیں ”ہم پاکستان بنانے والوں کی آل اولاد ہیں، پاکستان ہمارے بزرگوں نے بنایا اور ہمیں ہی مطعون کیا جا رہا ہے اور حقوق نہیں دیئے جاتے“۔

یہ دکھ دینے والی بات ہے اور موجودہ حالات میں تو اور بھی تکلیف پہنچا رہی ہے کہ متحدہ کو یہ بھی برداشت نہیں کہ ان کے جن لوگوں پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور دہشت گردی کا شبہ ہو ان کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جائے۔ جب بھی کوئی گرفتاری ہوتی ہے۔ متحدہ والے احتجاج پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور کسی کے گناہ گار یا بے گناہ قرار پانے کا بھی انتظار نہیں کرتے ایسے کارکنوں کو رہا کرا لیتے ہیں جو پکڑے جاتے ہیں۔ یہ باتیں تو ضمناً آ گئیں، ہمیں تو لفظ مہاجر اور پاکستان بنانے والے آباءاجداد کی کرنا تھی کہ اسی پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے، گزارش یہ ہے کہ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ آپ میں سے جو لوگ کراچی، حیدرآباد یا سندھ کے کسی اور شہر یا کسی کے کسی حصے میں پیدا ہو کر جوان ہو چکے اور پڑھ لکھ چکے وہ بھی مہاجر ہیں یاپاکستانی؟ ان حضرات کو جو تیسری نسل میں سے ہیں اور ان کی دو نسلیں مہاجر سے پاکستانی اور سندھی بن چکیں اور موجودہ تیسری نسل کا معاملہ ہی مختلف ہو جاتا ہے۔یوں یہ حضرات مہاجر نہیں بلکہ سندھی کہلانے کے مستحق ہیں۔

اب ذرا آباءکا ذکر خیر ہو جائے تو مہربانو! آپ تاریخ کو کیوں بھول جاتے ہیں، کیا آپ کو پھر سے وہ فلمیں اور تصاویر دکھانا ہوں گی جو کسی حد تک مشرقی پنجاب سے آنے والے قافلوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ہیں، حضور! دہلی سے امرتسر تک بسنے والے مسلمان بھی ہندوﺅں اور سکھوں کی بربریت کا نشانہ بنے، ان مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی بھارت میں نہیں رہا، یا شہید ہو گیا یا پھر بین الاقوامی سرحد پار کرکے پاکستان پہنچ گیا، بھارت میں رہ جانے والی وہ خواتین اور لڑکیاں تھیں جو بلوائیوں نے اغوا کی تھیں، ہمیں خود صدمے سے دوچار ہونا پڑا جب جالندھر کے نواح سے ہماری پھوپھی اور ان کے خاندان والوں کو ہجرت کرنے آنا پڑا اور آنے والوں میں خاندان کے کئی جوان شہید ہو گئے تھے۔

حضور والا! زبان کیوں کھلواتے ہیں، اس پاکستانی پنجاب میں ان لٹے پٹے پنجابیوں ہی کو سنبھالا نہیں گیا بلکہ اس زمانے میں بہار یا یوپی اور سی پی سے آنے والے اردو سپیکنگ کی بھی دلداری کی اور آج وہ خاندان اور ان کی دوسری اور تیسری نسل اسی پاکستانی معاشرے کا حصہ ہے۔اگر اعتبار نہیں تو بہت سے نامور بیورو کریٹ اور قومی کھلاڑیوں کے نام گنوائے جا سکتے ہیں۔اس کے برعکس محترم! آپ حضرات کی پوزیشن یہ ہے کہ آپ میں سے اکثر خاندان وہ ہیں جو 1951ءکے بعد ہجرت کرکے آئے۔یہ حقیقت اپنی جگہ کہ برصغیر کے تمام مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں تحریک چلائی اور ان خطوں کے حضرات کو داد دینا چاہیے کہ جن کو بخوبی علم تھا کہ تقسیم ہند کی صورت میں ان کے علاقے پاکستان کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اس کے باوجود یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ دہلی سے امرتسر تک کے شہروں، قصبوں، دیہات اور مواضعات سے آنے والوں کو مہاجر ہی تسلیم نہ کریں، آپ کو تو ان کی تعریف کرنا چاہیے کہ وہ خود کو پاکستانی کہلاتے ہیں اور ان اردو بولنے والوں کے تو ہم بھی شکر گزار ہیں جو آج ہمارا حصہ ہیں، یہاں کوئی تعصب نہیں ہے بلکہ یہاں تو ہمارے بچے اب پنجابی نہیں اردو بولتے ہیں۔

محترم! حضرات و خواتین، اس حقیقت کو فراموش کیوں کرتے ہو، کہ دہلی سے امرتسر تک آج کوئی بھی پہلی نسل کا مسلمان نہیں، وہ سب یا تو کٹ (شہید) گئے یا ہجرت کرکے آ گئے لیکن آپ کے تو آج بھی خون کے رشتے دہلی سے کلکتے تک پھیلے ہوئے ہیں، ہم نے تو آپ پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ صرف یہی گزارش ہے کہ لسانی بنیادوں پر سیاست نہ کریں۔آپ پاکستانی ہیں اور پاکستانی کی حیثیت سے پاکستان کی سیاست کریں روز روز نئے نئے مسائل پیدا نہ کریں کہ دل دکھتے ہیں، آپ مہاجر نہیں، پاکستانی اور ہمارے بھائی ہیں اور اسی حیثیت سے بات کریں اور مطالبات منوائیں۔(معذرت کہ دل دکھا ہوا ہے)

مزید : کالم