نئے صوبوں کا مطالبہ شرارت نہیں، سازش ہے

نئے صوبوں کا مطالبہ شرارت نہیں، سازش ہے
نئے صوبوں کا مطالبہ شرارت نہیں، سازش ہے
کیپشن: 1

  

غریبوں کے حقوق کے لئے لڑنا سنت نبوی ہے۔امراءاور حکمرانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اس کی نفی کرتا ہے۔اس لئے جب قانون کی نظر میں انسانوں کے مساوی ہونے کی بات ہوتی ہے تو عام لوگ اسے لبیک کہتے ہیں۔طاہرالقادری اور عمران خان کے دھرنوں میں غریبوں کے حقوق کے بارے میں کافی لب کشائی کی جاتی ہے اور عوام الناس میں اس کی پذیرائی ہونے کی وجہ بھی یہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حال ہی میںجب ایک لیگی ایم این اے اور سابق وزیرداخلہ کی وجہ سے پی آئی اے کی فلائٹ کی روانگی میں تاخیر ہوئی تو مسافروں نے بے حد احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ہر دو حضرات اس فلائٹ پر سفر نہیں کر سکے۔ اس پر عوام کا ردعمل جہاز کے باقی مسافروں کے حق میں ہے اور لوگ خوش ہیں کہ ان وی آئی پیز کو ناجائز مراعات لینے سے روکنے کی روایت پڑنے لگی ہے۔

جہاں طاہرالقادری کے بیشتر مطالبات سے ہمیں اتفاق ہے وہیں ہمیں ان کے بہت سے نئے صوبے بنانے کی خواہش پر تعجب ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ بہت سے نئے صوبوں کی بات ان سے کہلوائی جارہی ہے۔اگر وہ اس کے مضمرات پر غور کرتے تو یہ بات اپنے منشور میں ہر گز نہ رکھتے۔اس کے ساتھ ہی لندن سے الطاف حسین نے بھی بہت سارے نئے صوبے نہ بننے پر پاکستان کے ٹوٹ جانے کا راگ الاپا ہے۔وہ کس کی زبان بولتے ہیں ہمیں نہیں معلوم۔بائیس سال سے لندن میں ان کی خود ساختہ جلا وطنی اور پُرآسائش زندگی ہی کئی سوال اٹھاتی ہے۔

ملکوں کو چھوٹے چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنا یہودیوں کا پرانا منصوبہ ہے جو ان کے پروٹوکولز میں درج ہے۔ملکوں کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرکے یہودی فوجوں کی ضرورت پر ضرب کاری لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ پاکستان کے ہر ضلع کا صوبہ بن جائے تو جن اضلاع کا ہندوستان جیسے دشمن کے ساتھ جغرافیائی تعلق ہی نہیں تو وہ دفاع کے لئے اپنا حصہ ڈالنے پر راضی ہی نہیں ہوں گے۔یوں پاکستان فوج جو پاکستان ہی نہیں اسلامی ممالک کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے، بالواسطہ مکمل طور پر ختم کی جا سکتی ہے۔اسی طرح جب چھوٹے ضوبے ملک کے دفاع میں اپنا حصہ ڈالنا ہی نہیں چاہیں گے تو ہمارے نیو کلیئر پروگرام بھی بلا کسی بیرونی مداخلت کے ختم کئے جا سکتے ہیں۔ضلعی یا اس سے بھی چھوٹی سطح پر صوبوں کے لئے بین الاقوامی اداروں اور بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی صلاحیت ان اداروں کے چھوٹی سطح پر عمل دخل کو بڑھا دے گی، جس سے قومی سوچ ختم ہو جائے گی اور خود مختاری کی طرف اقدام لئے جانے لگیں گے، جو بالآخر مکمل علیحدگی کی صورت اختیار کر لے گی۔یہی یہودیوں کی سکیم ہے کہ قوموں کو تقسیم کیا جائے اور ان سے ان کی عسکری صلاحیت چھین لی جائے، تاکہ کسی قسم کی مزاحمت کا کوئی امکان نہ رہے۔

یہودیوں کے منصوبے میں چھوٹے صوبوں کو براہ راست بین الاقوامی اداروں سے قرض لینے کی صلاحیت بھی دلوانا ہے۔اس سطح پر باہر سے لئے گئے قرض کی رقوم کو مقامی سیاستدان کس طرح اڑائیں گے اس کا تصور ہی روح فرسا ہے۔چھوٹے صوبوں کا بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ صوبوں کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ صوبائی اسمبلیوں کے خرچے ،وزیروں، مشیروں کے اللے تللوں کی قیمت غریب ہی ادا کریں گے۔قومی شاہراہوں اور ذرائع آمدورفت، اداروں کی صورت حال یکسر بگڑ جائے گی۔بہت سے نئے صوبوں کا مطلب انتظامی اخراجات میں بے انتہا اضافہ ہی ہے۔یہ کسی صورت میں عوام الناس کے مفاد میں نہیں ہے۔

امید ہے کہ قادری صاحب متعدد صوبوں کے مطالبے سے دستبرداری اختیار کریں گے اور بین الاقوامی سازشوں سے اپنی تحریک کو علیحدہ رکھیں گے۔الطاف حسین سے ہم کیا کہیں ان کے اپنے مشیر ہیں، شاید ان کے پلے ہماری بات پڑ جائے۔

مزید :

کالم -