عوامی خوشیاں اور تہنیتی کا رڈ

عوامی خوشیاں اور تہنیتی کا رڈ
عوامی خوشیاں اور تہنیتی کا رڈ
کیپشن: 1

  

یوں دکھائی دیتا ہے کہ عید الفطر کی طرح اس بار عید الاضحی پہ بھی کوئی تہنیتی کارڈ موصول نہیں ہو گا ۔ اس سے پہلے کرسمس اور سال نو کے موقع پر بھی یہی کچھ ہوا ۔ کئی برسوں سے ہر نیو ائیر پر کارڈوں کی تعداد میں خاص طور پہ کمی واقع ہو رہی تھی ، لیکن شروع میں تو کسی نے محسوس نہ کیا کہ ایک نہ ایک دن یہ روایت بالکل ختم ہو جائے گی ۔ کچھ دوستوں کا دعوی ہے کہ کارڈوں میں بتدریج کمی اسی تناسب سے ہوئی ، جس حساب سے نو دولتیا کلچر کی بدولت قربانی کے دنبوں کی تعداد میں اضافہ ہو ا ہے ۔ اس ریسرچ کا جھوٹ سچ مجھ پہ نہ چھوڑیں ، پر یہ تو سوچیں کہ مملکت خداداد میں ہمارے وہ مسیحی بھائی جو باہمی دلداری کی فضا میں ہمیں بھی چپکے چپکے نئے سال کی خوشیوں میں شریک کر لیتے اور گا ہے گاہے کارڈ بھی بھیجتے ، ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل کیوں ہو گئے ہیں ۔

ٹھیک ہے ان میں سے کچھ تو میری اولین استانی کی طرح ، جنہوں نے ابتدا میں لکھنا پڑھنا سکھایا ، اب سے پچاس پچپن سال پہلے بھی بزرگی کی حدوں کو چھو رہے تھے اور اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ، مگر وہ مسیحی آبادی جس کے ساتھ ہماری نوجوانی تک سکولوں ، کالجوں اور ہسپتالوں کے علاوہ ریلوے ، پولیس اور مسلح افواج کی ملازمتوں میں گرمجوشی ، رفاقت اور ایک گونہ چھیڑ خوانی کا رشتہ رہا ، اگر ان کی اکثریت ہم سے مُنہ موڑتی جارہی ہے تو ایک بار سوچنا تو پڑے گا کہ ایسا کیوں ہوا ہے ، اس لئے کہ کچھ بھی ہو ، بھلا کوئی اپنا گھر بار خوشی سے چھوڑتا ہے ۔ خیر ، نیا سال ہو یا کوئی اور تہوار ایک دوسرے کے لئے نیک تمناﺅں کا تحریری اظہار انسانوں کے کسی ایک گروہ یا مذہب تک محدود تو نہیں ۔ تو کیا کرسمس یا عید کا رڈ بھیجنے کی روایت سے انحراف کسی اور سبب سے ہے ؟

 ضوب حاصل کرنے کے لئے پانچ سال پہلے کے ایک واقعہ کو ذہن میں تازہ کرنا ہوگا تو رویوں میں دور رس تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے بھی اخبارات یا نجی ٹیلی ویژن پر کسی بڑی خبر کا عنوان نہ بن سکا ۔ واقعہ ہے ڈاک کے اندرون ملک لفافہ کی قیمت چار سے بڑھا کر آٹھ روپے کر دینے کا اصولی فیصلہ ۔ جب یہ فیصلہ ہوا ، اس کے حق یا مخالفت میں کسی بڑے ( یا چھوٹے ) آدمی کا کوئی بیان شائع نہ ہوا ، ذرائع ابلاغ میں کوئی بحث نہ چھڑی ، اخباروں کے مراسلہ نگار اور کالم نویس چپ رہے ۔ خود میرے افراد خانہ سمیت نصف سے زائد جاننے والوں کو یاد نہیں کہ اندرون ملک عید کارڈ یا خط بھیجنے کے لئے کتنی مالیت کا ٹکٹ لگانا ضروری ہے ۔ یہ بے اعتنائی اس لئے کئی سال سے ان میں کسی نے نے ڈاک کا لفافہ استعمال نہیں کیا ۔ پڑھے لکھے لوگ تو اب اسے ایک ’ پینڈو ‘ حرکت سمجھتے ہیں ۔

دراصل ، مواصلاتی ارتقا کے طوفانی سفر نے ہمیں اتنی تیز رفتاری کا عاد ی بنا دیا ہے کہ ایس ایم ایس ، وائبر اور اسکائیپ سے کم پیغام رسانی کا کوئی ذریعہ ہمیں بھاتا ہی نہیں ، خواہ یہ معمول کا خیریت نامہ ہو یا کسی خاص دن کا تہنیتی پیغام ۔ اب صبح سویرے گھر کی منڈیر پر کوے کی کائیں کائیں کسی مہمان کی آمد کا سندیسہ نہیں لاتی ، نہ ہی ’چٹھی میرے ڈھول نوں پہنچائیں وے کبوترا ‘ تحت پرندوں سے کورئیر سروس کا کام لیا جاتا ہے ۔ ویسے بھی ہم میں سے بہت سے لوگ چونکہ اب تعلیم یافتہ ہیں اور مہذب سوسائٹی میں نئے نئے داخل ہوئے ہیں ، اس لئے بیشتر قریبی عزیز اپائنٹمنٹ یا پیشگی اطلاع کے بغیر ہمارے مہمان بن ہی نہیں سکتے ۔ یوں پیغام رسانی کے لئے پرندوں کی محتاجی ختم ہو گئی ہے، جن کے پاس این جی اوز کی طرح سوشل سیکٹر کئی اور کام بھی ہیں ۔

1990ءکی دہائی کے ابتدائی برسوں تک ہمارے ملک کے شہری علاقوں میں باقاعدہ ڈاک کے ذریعہ خط و کتابت کا سلسلہ ہوا کرتا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ اس سرکاری محکمہ کی کارکردگی عوام کی نظر میں اتنی بری بھی نہیں تھی ۔ اعداد و شمار جمع کئے جائیں تو پتا چلے گا کہ بیس پچیس سال پہلے عزیز و اقارب کے درمیان ا ور کاروباری مقاصد کے لئے بھی معلومات کے تبادلہ کا بڑا ذریعہ ڈاک سے بھیجی جانے والی چٹھیاں ہی تھیں ۔ ٹیلی فون پہلے کے مقابلہ میں عام ہو تو رہے تھے ، لیکن موبائل کا شمار نوادرات میں تھا ، کیونکہ کنکشن پوسٹ پیڈ ، قیمت بہت زیادہ اور سائز اتنا بڑا کہ ایک موبائل بردار ساتھ رکھنا پڑتا ۔ ان لوازمات کے پیش نظر ، اگر سوزوکی پک اپ نہیں تو کار کی ضرورت بہر حال پڑتی ، اس لئے سائیکل سوار ، موٹر سائیکل والے اور پیدل خواتین و حضرات اس نعمت سے محروم تھے ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موبائل فون کے عام ہو جانے سے چند ایک فائدے تو ہوئے ۔ ایک نقصان البتہ یہ ہوا کہ پوسٹ مین یا چٹھی رسان کی شخصیت کے ساتھ جو ایک خاص طرح کا تمدنی رومانس وابستہ تھا وہ خواب و خیال ہو کر رہ گیا ۔ ہم نے تو آبائی شہر میں یہی دیکھا کہ خاکی وردی اور پگڑی میں ملبوس ، مسکراتے چہرے اور گول عینک سے جھانکتی ’ گول تر ‘ آنکھوں والے منشی جی کا شوق سے انتظار کیا جاتا اور جب ہفتہ میں ایک دو بار چاچا برکت عرف بگا کی دکان سے وہ ڈیڑھ پاﺅ والا دودھ کا پیالہ پیتے دکھائی دیتے تو اہل نظر کا وہ حال ہوتا کہ ’خط کا مضموں بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر ‘ ۔ سب سمجھ جاتے کہ آج کسی منی آرڈر وصول کرنے والے ( یا والی ) نے ان کی بشریت کا تقاضا پورا کر دیا ہے ، جو عام طور پر چار یا آٹھ آنے سے زیادہ نہ ہوتا ۔ چونکہ دودھ آ ج کل کے حساب سے ایک روپے میں دو کلو سے کچھ ہی کم قیمت پہ ملتا ، اس لئے منشی جی اپنا نصف روپیہ مزے سے ہفتہ بھر میں خرچ کرتے ۔

اس کے برعکس اب زندگی کے ہر شعبہ کا زور تیز رفتاری پہ ہے ۔ پیغام کو جلد سے جلد پہنچنا چاہیئے ۔ بھئی ، ضرور پہنچنا چاہئے ، مگر خط کا ایک متن بھی تو ہوتا ہے ۔ کوئی مواد کی ترتیب ، کوئی منطق ، کوئی لہجہ....جی ہاں ، تحریر کا بھی لہجہ ہوتا ہے ۔ دیکھئے نا ، مرزا غالب نے جو خطوط لکھے وہ بنیادی طور پر دوستوں کا حال احوال پوچھنے اور بتانے کے لئے تھے ، لیکن انہوں نے اس عمل میں اردو کو ایک ایسا لب و لہجہ عطا کر دیا کہ وہ اتنے بڑے شاعر نہ بھی ہوتے تو بطور نثر نگار زندہ رہتے ۔ مواصلاتی انقلاب کے بعد ، تاریخ کے پہیہ کو اگر الٹا چلا دیا جائے تو پھر غالب کے خطوط کی جگہ غالب کے ایس ایم ایس ، ’ غبار خاطر ‘ کی بجائے ابوالکلام آزاد کی ای میلیں اور صفیہ و جانثار کے درمیان اسکائیپ کلاسیکی پیغام رسانی کے نمونے قرار پائیں گے ۔ مگر اردو کتنے بڑے سرمایہ سے محروم رہ جائے گی ۔

ذرا ہٹ کر بات کریں تو مواصلات کا دائرہ پھیل جانے کے بعد اب ٹیلی گرافک ٹرانسفر ، سوئفٹ کوڈ ، رﺅٹنگ نمبر کی اصطلاحات بھی سننے کو مل رہی ہیں ۔ اہم کاروباری دستاویزات ، یونیورسٹی اور کالج میں داخلہ کے فارم ، تعلیمی اسناد ، سرکاری اور نیم سرکاری کاغذات ، یہ سب کچھ محکمہءڈاک کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ نرخ پر نجی کورئیر کمپنیوں کے توسط سے بھیجا جا رہا ہے ۔ اس نئی صورت حال نے ہمیں جو کچھ دیا ہے وہ کچھ کچھ سمجھ میں بھی آتا ہے ۔ جو بات سمجھ میں نہیں آتی وہ یہ ہے کہ عام خط و کتابت جو یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی محکمہءڈاک کے سپرد ہے ، ہمارے ہاں دیکھتے ہی دیکھتے نجی سروس کی عمل داری میں کیوں چلی گئی اور ’ہم نے اس عشق میں کیا سیکھا ہے کیا پایا ہے، عید پہ دنبے ضرور ذبح کیجئے، مگر یہ بھی سوچئے کہ ہم اپنی مملکت پر عدم اعتماد کا اظہار تو نہیں کر رہے۔

مزید :

کالم -