کشمیر میں استصواب رائے: مسئلہ کشمیر کا واحد حل

کشمیر میں استصواب رائے: مسئلہ کشمیر کا واحد حل


وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ کشمیر کا دیرینہ تنازعہ طے کرانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ جنرل اسمبلی کے 69ویں اجلاس میں مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اٹھاتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، چھ عشرے پہلے اقوام متحدہ نے کشمیر میں رائے شماری کے لئے قرارداد منظور کی تھی۔کشمیر کے عوام آج بھی اس وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں، کشمیریوں کی کئی نسلوں نے زندگیاں قبضے، تشدد اور بنیادی حقوق کے استحصال میں بسر کیں، خاص طورپر کشمیری خواتین کو بے پایاں تذلیل کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسئلہ کشمیر پر تب تک پردہ نہیں ڈال سکتے جب تک یہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہو جائے۔کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرنا مسئلے کا فریق ہونے کے ناتے پاکستان کی ذمے داری ہے۔ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کشمیریوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں لوگ تشدد کے زیر اثر زندگی گزار رہے ہین، ان کے حقوق سلب کئے گئے ہیں، پاکستان ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات ایک اچھا موقع تھا، جسے کھو دیا گیا۔بھارت کی طرف سے مذاکرات سے انکار کو پوری دنیا نے دیکھا۔

وزیراعظم نوازشریف نے تیسری مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم بننے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے دوسری بار خطاب کیا ہے، گزشتہ برس بھی انہوں نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اس مسئلے پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی اب کی بار بھی انہوں نے یہ دیرینہ مسئلہ عالمی رہنماؤں کے سامنے پوری شرح و بسط کے ساتھ رکھا ہے اور عالمی ادارے کو یاد دلایا ہے کہ اس نے چھ عشرے پہلے کشمیر میں استصواب رائے کی قرارداد منظور کی تھی جس پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا، وزیراعظم نوازشریف نے اس سلسلے میں عالمی رہنماؤں کو بھی ان کی ذمے داریاں یاد دلائی ہیں۔ قیام پاکستان کے تھوڑے عرصے بعد کشمیر میں ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے ،جن کے نتیجے میں دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے آ گئیں، اس وقت بھارت کے وزیراعظم نہرو خود اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے کر گئے اور عالمی برادری کے سامنے کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ کیا، لیکن جنگ بندی کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب بھارت پر دباؤ کم ہو گیا اور اس نے کشمیر میں مزید فوجیں بھیج کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی تو بھارت اپنے اس وعدے سے پھر گیا، پھر بھی یہ مسئلہ عالمی ادارے کے ایجنڈے پر رہا، تاہم اسے اپنی قراردادوں پر عملدرامد میں کامیابی نہ ہوئی،دنیا کے کئی ملکوں میں جو مسائل بعد میں پیدا ہوئے وہ طاقت کے استعمال یا سفارتی کوششوں سے کسی نہ کسی انداز میں حل کر لئے گئے لیکن دنیا کا یہ قدیم ترین تنازعہ آج تک لاینحل چلا آ رہا ہے۔اس سلسلے میں بجا طور پر وزیراعظم نوازشریف نے عالمی برادری کو یاد دلایا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اس کی ذمے داری ہے۔ پاکستان نے باہمی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی جو بھی کوششیں کیں، وہ بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ناکام ہو گئیں، متعدد بار مذاکرات ہوئے جو بے نتیجہ رہے۔جنگوں کے نتیجے میں ان مذاکرات میں تعطل بھی آتا رہا اور بعد میں پھر شروع ہو جاتے رہے لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ چھ عشروں کے بعدبھی معاملہ جوں کا توں ہے۔ اس دوران کشمیریوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔وادی کشمیر لہو رنگ ہے کشمیریوں پر تشدد روز مرہ کا معمول ہے۔بھارت نے اس خطے میں لاکھوں فوجی تعینات کررکھے ہیں، جن کے زور پر کشمیریوں کو غلام بنا کر رکھا گیا ہے۔

استصواب رائے کشمیریوں کا وہ بنیادی حق ہے، جسے عالمی ادارے نے تسلیم کر رکھا ہے اور ہر سال پاکستان کے حکمران کسی نہ کسی انداز میں اس کی یاددہانی کراتے ہیں، وزیراعظم نوازشریف نے اپنی تقریرمیں بھرپور طریقے سے ایک بار پھر عالمی رہنماؤں کو ان کی ذمے داریاں یاد تو دلا دی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کی اس آواز پر عالمی ادارہ اور عالمی برادری کان دھرے گی؟ اگر ماضی کی روش مستقبل کو جانچنے کا کوئی پیمانہ ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب کی بار بھی عالمی ادارہ پاکستان کی اس صدا کو سنی ان سنی کر دے گا، کیونکہ اس کی بھی اپنی مصلحتیں ہیں، اگر وہ مصلحتوں سے بالاتر ہو کر سوچتا تو اب تک مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا۔

بھارتی رہنماؤں اور حکومتوں کا طرزِ عمل بھی مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی اور بنیادی رکاوٹ ہے۔بھارت میں اب تک کانگریس اور بی جے پی کی جو بھی حکومتیں رہیں، انہوں نے اس معاملے کو لٹکائے رکھا اور مذاکرات کو محض وقت گزاری کا ذریعہ بنائے رکھا، مذاکرات کا جو بھی سلسلہ شروع ہوتا ہے وہ لشٹم پشٹم چلتا تو رہتا ہے لیکن اس دوران کسی واقعے کی آڑ میں بھارت یہ سلسلہ منقطع کرتا رہا ہے۔ ممبئی کے واقعات کے بعد بھارت نے مذاکرات ختم کر دیئے تھے جو اب تک بحال نہیں ہوئے، خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات کی بحالی کا امکان تھا، جن کی تاریخ کا اعلان بھی کر دیا گیاتھا لیکن بھارت نے یکطرفہ طور پر یہ مذاکرات بھی ختم کر دیئے۔وزیراعظم نوازشریف نے ان کا تذکرہ بھی اپنی تقریر میں کیا ہے اور کہا ہے کہ دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان مذاکرات میں مخلص ہے لیکن بھارت نے یہ مذاکرات ختم کر دیئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اگر مذاکرات نہیں ہوں گے تو پھر یہ مسئلہ کیسے حل ہوگا؟

دونوں ملکوں نے جنگیں لڑ کر بھی دیکھ لیں، جنگوں کے نتیجے میں بھی خطے کے مسائل حل نہیں ہوئے، بلکہ نئے مسائل پیدا ہو گئے، بھارتی جنگی جنون کے نتیجے میں پاکستان کو بھی دفاع پر بھاری اخراجات کرنے پڑتے ہیں، علاقے میں ایٹمی اسلحے کی دوڑ بھی بھارت نے ہی شروع کی تھی، جس کے جواب میں پاکستان کو بھی اپنی سلامتی کے لئے اقدامات کرنے پڑے، کیونکہ13 مئی 98ء میں ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی رہنماؤں کی زبانیں بے لگام ہو گئی تھیں، پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو جوابی دھماکے کرکے ان کی زبانوں کو بند کرنا پڑا، خطے کے یہ دونوں ملک اب ایٹمی طاقتیں ہیں اس لئے یہ ڈیٹرنس کا کام دے رہا ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ کارگل کی لڑائی بین الاقوامی سرحدوں سے دور رہی، اس لئے بھارت کو اب یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی جنگجوئی کسی کام نہیں آئے گی۔مسئلہ کشمیر کا حل استصواب رائے ہے اور یہ حق جتنی جلد کشمیریوں کو دے دیا جائے اتنا ہی بھارت کے لئے بہتر ہوگا، ورنہ یہ خطہ دہکتا رہے گا اور کسی بھی وقت خِرمن امن بھسم ہوجائے گا۔

مزید : اداریہ