جماعت اسلامی کی اوور بلنگ اور ناقص ادویات کے حوالے سے تحاریک التواءاسمبلی میں جمع

جماعت اسلامی کی اوور بلنگ اور ناقص ادویات کے حوالے سے تحاریک التواءاسمبلی ...

 لاہور(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وپارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اخترنے بہاولنگر میں ناقص ادویات کے استعمال سے54بچوں کی ہلاکت اورمیٹر ریڈنگ کے بغیر صارفین کو بجلی کے بل بھجوانے پر دوتحاریک التواءپنجاب اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع کروادی بہاولنگرکے سرکاری ہسپتال میں54بچوں کی ہلاکت پر جمع کروائی جانے والی تحریک التواءمیں کہاگیاہے کہ”عوام الناس کو صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن 25 ستمبر 2014کے اخبارات کی خبر کے مطابق بہاولنگر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ناقص ادویات کے استعمال سے 15روز میں 54بجے جاں بحق ہوگئے ان ناقص ادویات کی خریداری ای ڈی اوہیلتھ کے ذریعے کی گئی جس نے اپنے من پسند ٹھیکیدار کے ذریعے یہ خریداری کی تھی ضرورت ہے کہ حکومت اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کاروائی کرے اور معصوم جانوں کے ساتھ کھیلنے والے اس گروہ کا سدباب کرے“علاوہ ازیںمیٹر ریڈنگ کے حوالے سے جمع کروائی جانے والی تحریک التواءمیں کہاگیاہے کہ ”ملک میں ایک طرف 18گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے باعث تمام کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور دوسری طرف صارفین کو دو دو تین تین گنا بل بھجوائے جارہے ہیں وزیر اعظم کے مشیر برائے توانائی نے بھی اپنی رپورٹ میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ 35فیصد صارفین کو میٹر ریڈنگ کے بغیر بل بھیجا گیا اور صرف ایک ماہ یعنی اگست میں صارفین سے 16 ارب روپے اضافی وصول کئے گئے حکومت کی یہ روش قطعی قابل قبول اور پسندیدہ نہیں ہے 35فیصد صارفین کے بجلی میٹر کی ریڈنگ نہ لینا اور بل بھیج دینا اس کو صرف میٹر ریڈرز کی غفلت قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سکیم لگتی ہے

 جس سے ایک بڑی آبادی کو پریشان کیا گیا۔ حکومت کو اس ضمن میں فوری ایکشن لینا چاہےے اور حقیقی ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لانی چاہئے“۔

مزید : میٹروپولیٹن 1